حضرت مولانااشرف علی تھانوی ؒ کاتاریخی بیان (2)

حضرت مولانااشرف علی تھانوی ؒ کاتاریخی بیان (2)
 حضرت مولانااشرف علی تھانوی ؒ کاتاریخی بیان (2)

  



تیسری شرط :صحیح معنی میں اللہ کالشکر بننے کی تیسری شرط یہ ہے کہ اس لشکر کی وضع اور شان ایسی ہو جس کودیکھ کر ہر شخص پہچان لے کہ یہ اللہ کالشکر ہے اس کی وضع دشمنان خداکی وضع سے ممتاز ہو، اس کی شان اللہ کے باغیوں کی شان سے الگ ہو ۔ اس کانشان اللہ کے نافرمانو ں کے نشان سے جداہو۔

تیسری شرط کی سیاسی اہمیت :حضرات یہ مسئلہ محض مذہبی نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ بھی ہے ہر نظام سلطنت میں ہر شعبہ کے لئے کوئی نہ کوئی خاص نشانی (یونیفارم ) مقرر ہے سلطنت کاخاص نشان دوسری سلطنت کے نشان سے جداہے اور جس قوم نے جب کبھی ترقی کی ہے اس کی کوشش رہی ہے کہ اس کانشان یونیفام اس کا کلچر اس کا مذہب ، اس کی زبان دوسروں سے ممتاز رہے جوقوم اپنے نشان (یونیفارم ) کی محافظ نہیں رہی وہ بہت جلد دوسری اقوام میں منجذب ہوکر فنا ہوگئی ۔ مجھے اس مسئلہ کی تفصیل کی ضرورت نہیں ۔ سیاست کی داد دینی چاہیے کہ انہوں نے مسلمانوں میں کانگرس کی طرف دعوت دینے اور ماس کنکٹ کے کام کے لئے ایسے مبلغ تجویز کئے ہیں جن کی شکل و صورت با لکل اسلام کے مطابق ہوتی ہے اور نماز کے پابند بھی ہوتے ہیں تو کیا مسلم لیگ جو مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتی کہ اس کے مبلغ بھی وضع اسلامی اورنماز کے پورے پابند ہوں کیونکہ مسلمانوں کاعام طبقہ سیاست کو بعد میں سمجھتا ہے صورت کو پہلے دیکھتا ہے ، مجھے اس مقام پر آپ سے یہ کہنا ہے کہ اسلام نے او راسلام کے مکمل اور کامل کرنے والے اسلام کے ہادی سید نارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لئے ایک خاص نشان مقرر کیا ہے جس کی حفاظت اس کے ذمہ ضروری ہے صحیح بخاری میں ہے کہ مشرکین کی مخالفت کرو ، داڑھی بڑھاؤ مونچھیں کترواؤ جس نے مونچھیں نہ ترشوائیں وہ ہم میں سے نہیں اور اسمیں تو کسی مسلمان کو بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ سید نارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر داڑھی تھی ، حضور کی ریش مبارک کے متبرک بال تو آج بھی تبرکات نبویہ میں بعض جگہ محفوظ ہیں پس ایک مسلمان کیلئے فطرت اور عقل کے اعتبار سے لازم ہونا چاہئے کہ وہ اپنے آقا اور اپنے محبوب اپنے ہادی جیسا رنگ ڈھنگ چال چلن سیرت فیشن وغیرہ بنائے اور اپنے آقااور محبوب کے دشمنوں کے فیشن اور طرز سے پر ہیز کرے عقل وفطرت کاہمیشہ یہی تقاضا رہاہے ۔

چوتھی شرط :اللہ کے لشکر کیلئے اس بات کی بھی ضرورت ہے سب کے سب نماز کے پورے پابند ہوں حضرات جنگ آئینی ہویا غیرآئینی مسلمان کوبجز خدا کے کسی کی امدادکی ضرورت نہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمانوں کا ہر فرد اللہ کے لشکر کاسچا سپاہی بنارہامسلمان ہمیشہ غالب رہے کیونکہ خداکی امداد ان کے ساتھ تھی اور جس کے ساتھ خداہو اس کو کسی کی ضرورت نہیں ہوتی اور امداد الٰہی کی شرط ہے احکام الٰہی کا اتباع ، مسلمانوں کی ناکامی کااصل سبب حب دنیاقلت تعلق مع اللہ کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا ۔

حضرات میں آپ کو ترکی یامصری یاافغانستانی وایرانی اسلام کی طرف نہیں بلارہا اس لئے کسی کو ان ممالک کی نظائر پیش کرنے کا کوئی حق نہیں ، میں تو آپ کو اس ترقی کی طرف بلارہاہوں جو ساڑھے تیرہ سوبرس پہلے مسلمانو ں کو نصیب ہوئی تھی جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی اور اس کیلئے ترک دنیا کی ضرورت نہیں بلکہ اس کی ضرورت ہے کہ مسلمان دنیا کاغلام نہ ہو اللہ کاغلام ہوجب مسلمان اللہ کاغلام ہوجاتا ہے تو دنیاکی تمام طاقتیں اسکی غلام ہوجاتی ہیں آ پ اس راستہ پر چل کر تو دیکھیں انشاء اللہ آپ ہی غالب اور بلند اور کامیاب ہوں گے کیونکہ یہ وہ حربہ ہے جس کاتوڑ مخالفین کے پاس نہیں وہ آپ کے ہر حربہ کوتوڑ سکتاہے مگر اسکے پاس اس کاکچھ جواب نہیں کہ اطاعت خداوندی کے بعد خدا کی مدد آپ کے ساتھ ہوگی اور اس کے ساتھ نہ ہوگی ۔

حضرات آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا دین جامع اور مکمل ہے ، اس میں سیاست عبادت اورمعاملات سب داخل ہیں ، جہاں آپ معاملات میں اقتصادی وتجارتی وصنعتی ترقی کی طرف توجہ فرماتے ہیں ، سیاسی مسائل میں تجاویز منظور فرماتے ہیں وہاں صرف تجاویز میں نہیں بلکہ عمل میں عبادت کالحاظ بھی فرمائیے اوراس کے ساتھ ایک ایسی مجلس شوریٰ کو مسلم لیگ میں شامل فرمائیے جو خالص دینی مسائل میں وہ اور اس کاحلقہ اثر جو بہت وسیع ہے آپ کی منظور شدہ تجاویز پر د ل وجان سے عمل کرے گا ، حضرات یہ ظاہرہے کہ آپ کو تمام مسلمانو ں کی تنظیم کرنی ہے اور بہت زیادہ وہ مسلمان ہیں جن پر اب بھی علماء کااثر زیادہ ہے جب وہ دیکھیں گے کہ علماء کی مجلس شوریٰ آپ کے دوش بدوش کام کر رہی ہے آپ کے نظام کے اند ر داخل ہے آپ کے اجتماعات میں شامل ہورہی ہے وہ آپ کی تجاویز پر عمل پیرا ہے اور آپ اس کے مذہبی مشوروں پر عامل ہیں تو اس سے عوام وخواص میں وہ عدیم النظیر اتحادپید ا ہوگا جس کی مثال ہند وستان میں صدیوں سے ناپید ہے اور مسلم لیگ ایک ایسی حقیقی طاقت وتنظیم حاصل کرے گی جو ہم میں سے ہر مسلمان کادلی مقصد ہے ۔

اس کے ساتھ مجھے امید ہے کہ آپ عمل کے درجہ ذیل میں امور کابھی خاص لحاظ فرما ئیں گے میرا خیال ہے کہ جس قدر جلد خواص ان امورپر عمل کریں گے اسی قدر عوام میں اس تحریک کو زیادہ مقبولیت حاصل ہوگی ۔

(1) ہر مسلمان ممبر کلمہ اسلام کوبامعنیٰ یاد کرے اور دوسروں کو یاد کرائے ،

(2) ہرمسلمان ممبر خود بھی نمازپڑھے اور دوسروں کونمازی بنانااپنے ذمہ ضرور ی سمجھے

(3)جماعت کی پابندی کی جائے تاکہ مساجد بھی آبادہوں اور ممبران لیگ کا

عامۃ المسلمین سے ارتباط ہو

(4)جن مسلمانو ں پر زکوۃ فرض ہے ان کو ادئے زکوٰۃ کی ترغیب دی جائے جس سے غرباکو لیگ کے ساتھ ہمدردی بھی ہوگی اور ان کاافلاس بھی دورہوگا۔

(5)ہر مسلمان ممبر رمضان کی پابندی کرے

اگر مسلم لیگ نے ان معروضات پرتوجہ کی اور ان کو اپنے میں داخل کرلیا اور کسی سب کمیٹی کے حوالہ کرکے معاملہ التواء میں نہ ڈالاجیساکہ آجکل کی سیاست کااصول ہے بلکہ جلد از جلداس پر عمل شروع کردیا تو آپ خود کھلی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ لیگ کو چار چاند لگ جائیں گے اور اس کودن دگنی رات چگنی ترقی ہوگی، اسکے بعد میں آپ کی توجہ ایک خطرہ کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں ، وہ مسلمان عورتوں کے ارتداد کا خطرہ ہے جو بعض مقامات پر سوہان روح بناہواہے بعض عورتیں جب اپنے شوہروں کاظلم وجوریاان کے مفقود الجز ہوجائے یاشوہر کے مجنون ہونے کی وجہ سے عاجز اور پریشان ہوجاتی ہیں اور عقد نکاح سے نکلنے کاکوئی راستہ نظر نہیں آتا کیونکہ ہندوستان میں دارلقضا ء موجود نہیں ہے جو ان مشکلات کاصحیح حل تھا تو وہ اسلام سے مرتد ہو کر کسی دوسرے مذہب میں چلی جاتی ہے ، اس خطرہ کے انسداد کے لئے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا تھا ، جو خلع بل یاکاظمی بل کے نام سے موسوم ہے جس میں ایک دفعہ یہ رکھی گئی تھی کہ مسلمان عورت کے مقدمات نکاح وطلاق وغیرہ کیلئے حاکم مسلم کی عدالت مخصوص کی جائے کیونکہ حاکم غیر مسلم کافیصلہ اس باب میں لغو اور کا لعدم ہے شرعاً اس سے نہ طلاق واقع ہوسکتی ہے اور نہ نکاح فسخ ہوسکتاہے ،ایک دفعہ یہ تھی کہ مسلمان شادی شدہ مرتد ہوجائے تووہ بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں رہے گی اگرچہ اس کے ساتھ مباشرت جائز نہ ہوگی مگر نکاح فسخ نہ ہوسکا کیونکہ ارتدا د کسی شبہ کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس کو محض فسخ نکاح کا آلہ بنایاجاتاہے ہمیں امید تھی کہ کانگرسی حکومت جوقومی حکومت ہونے کی دعوے دار ہے ، مسلمانوں کی مشکلات کااحساس کرکے اور اسمبلی کی سلکٹ کمیٹی کے ہاتھوں اس بل کاجوحشر ہوا وہ اخبار بیں طبقہ سے مخفی نہیں کہ وہی دفعات جواس بل کی جانی تھیں اس سے فارغ کردی گئیں جس کے بعد یہ بل مسلمانوں کے لئے بجائے مفید ہونے کے مضر ہوجائے گا مسلم لیگ کو سلیکٹ کمیٹی کے اس فیصلہ کے خلا ف قوت سے آواز بلند کرنا چاہئے خاموش نہیں رہنا چاہیے اور جب تک یہ بل کامیاب نہ ہو برابر کوشش میں لگارہنا چاہیے ، مسلم لیگ کو قوت اور تیزی کے ساتھ عمل کی طرف قدم بڑھانا چاہیے محض سکیموں اور تجاویز پر اکتفا نہ کرناچاہئے ، بس یہی کامیابی کاراز ہے بشرطیکہ علم شریعت کے موافق اور نیت خالص اللہ کے واسطے ہو۔ اب میں دعاپر اس پیام کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اور آپ سب مسلمانوں کو اپنے دین کی خدمت کا جذبہ عطافرمائیں ہماری نیتوں میں خلوص عمل میں برکت اور تدابیر کامیابی عطاہو۔ (ختم شد)

مزید : کالم