آغاز تو اچھا ہے

آغاز تو اچھا ہے

  

قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر پارلیمینٹ ہاؤس عجب بہار دکھا رہا تھا، میلے کا سماں تھا،رنگ برنگے لباسوں میں ملبوس خوش ذوق اور خوش دِل ارکانِ اسمبلی کے چمکتے دمکتے چہرے، ماضی کی تلخیوں کو وقتی طور پر فراموش کر کے پُرجوش مصافحے اور معانقے کئے جا رہے تھے، چہروں پر سنجیدگی اور مسکراہٹ کا ایک حسین امتزاج تھا، جو حکومت میں آنے والے ہیں گاہے وہ سنجیدہ نظر آتے تو اگلے ہی لمحے خوش گوار موڈ میں ہوتے، حلیفوں اور حریفوں میں فاصلے کم ہو گئے تھے۔ان لمحات میں اگر اُنہیں کوئی وہ تلخیاں یاد دِلاتا،جس کے سمندر سے یہ لوگ ابھی ابھی گزرے تھے تو شاید وہ بزبان حال سے کہتے ’’خوش باش دمے کہ زندگانی این است‘‘ لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ سب وہ لوگ ہیں،جو ابھی کل تک ایک دوسرے کو نہ جانے کیا کیا کچھ کہتے تھے، جب ان سب نے اپنے ماضی کو چند لمحوں کے لئے فراموش کر دیا تھا تو ہم اسے یاد کر کے کسی بد ذوقی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتے، یہ فضا اگرچہ عبوری اور عارضی ہے اور جب یہ ایوان اپنا ’’بزنس‘‘ شروع کرے گا تو پرانی عصبیتیں اور رنجشیں پھر لوٹ آئیں گی۔ ایک دوسرے کو شرم و حیا یاد دِلائی جائے گی اور دِلوں میں تازہ تازہ جلنے والی شمعیں اگر بجھ نہیں جائیں گی تو ان کی لو مدہم ضرور پڑ جائے گی، بایں ہمہ خوشی کی بات یہ ہے کہ خوشگوار لمحات نے اِس چمن میں پھیرا تو ڈالا، چاہے محدود مدت کے لئے ہی سہی۔

آج(15اگست) کو نئی قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہو گا، منتخب ہونے کے بعد نیا سپیکر ایوان کے کسٹوڈین کا منصب سنبھال لے گا اور پرانے سپیکر(ایاز صادق) سامنے والی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ جائیں گے،وہ گزشتہ پانچ سال تک سپیکر کے فرائض ادا کرتے رہے۔ اِس دوران انہوں نے بیک وقت تلخ و شیریں باتیں سنیں، جلی کٹی بھی سنتے رہے، غیر پارلیمانی الفاظ بھی سُنے جنہیں حذف کرایا گیا، لیکن ماضی کے برعکس اب حذف شدہ غیر پارلیمانی الفاظ بھی اخبارات اور میڈیا میں رپورٹ ہو جاتے ہیں اور پڑھنے سننے والوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ کیا غیر پارلیمانی الفاظ استعمال ہوئے،بعض اوقات یہ بحث بھی شروع ہو جاتی ہے کہ جو لفظ حذف کرایا گیا وہ واقعی غیر پارلیمانی تھا بھی یا نہیں، ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا مخالفوں کے بارے میں کیسے کیسے الفاظ استعمال نہیں کئے گئے اور اس اسمبلی کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا گیا،ارکان تو چور اور ڈاکو ٹھہرے اور اسمبلی لعنتی۔

ایاز صادق کو تحریک انصاف کے اجتماعی استعفے ملے تو انہوں نے ان کی تصدیق کا انتظار کیا، لیکن سوائے ایک مردِ مجاہد جاوید ہاشمی کے کسی کو اپنے استعفوں کی تصدیق کا حوصلہ نہ ہوا،تمام ارکان کئی ماہ تک اسمبلی سے غیر حاضر رہے اور پھر ایک دن شرمندہ شرمندہ ایوان میں داخل ہوئے تو خواجہ آصف نہ رہ سکے، کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے،ایاز صادق کے نرم رویئے کی بدولت ہی یہ مستعفی ارکان دوبارہ اسمبلی میں آنے کے قابل ہوئے،لیکن اس کے باوجود اُنہیں یہ الفاظ سننے پڑے کہ انہیں ’’مسٹر سپیکر سر‘‘ نہیں کہا جائے گا۔ایاز صادق یہ سُن کر بھی بدمزہ نہ ہوئے اور کہا چلئے آپ مجھے میرے نام سے بُلا لیا کریں۔ اب یہ ایاز صادق اسمبلی کے ایک عام رکن ہیں، جہاں اُن کے ساتھ دو اور سابق سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور سید فخر امام بھی تشریف فرما ہوں گے،اس اسمبلی میں ایک سابق صدر(آصف علی زرداری) بھی ہیں، ایک سابق وزیراعظم، چھ سابق وزیراعلیٰ اور کئی سابق وزیر اس اسمبلی کی زینت ہیں۔

عمران خان نے اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے بعد تحریک انصاف اور حلیف جماعتوں کے ارکان کے اعزاز میں ڈنر دیا،جس میں ایک اطلاع کے مطابق171 ارکان شریک ہوئے۔ اگر یہ سب ارکان تحریک انصاف کے سپیکر کے امیدوار (اسد قیصر) کو ووٹ دیں گے تو وہ آسانی سے منتخب ہو جائیں گے،لیکن ووٹ چونکہ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا اِس لئے اگر چند ووٹ اِدھراُدھر ہو جائیں توکچھ بعید نہیں ہو گا، اِس اسمبلی میں تحریک انصاف کے اپنے ارکان کی مجموعی تعداد 153ہے اِس لئے سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور پھر قائد ایوان کے انتخاب کا تمام تر انحصار اتحادیوں پر ہے، اتحادی جماعتوں کے فی جماعت ووٹ سات سے ایک تک ہیں، یعنی کسی جماعت کے سات،کسی کے پانچ، کسی کے تین اور کسی کا ایک، یہ سب ارکان مل کر تحریک انصاف کی اکثریت بنائیں گے، اِس لئے یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ ان اتحادیوں کی اہمیت کیا ہے اور وہ تشکیلِ حکومت میں کتنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ایوان کے اندر سب سے بڑی اپوزیشن جماعت، مسلم لیگ(ن) ہے، جس کے ارکان کی تعداد81 ہے، پیپلزپارٹی تیسری بڑی جماعت ہے،جس کے ارکان کی تعداد53 ہے، ایم ایم ا کے پاس15ارکان ہیں۔ اے این پی ایک رکن پر مشتمل ہے اور اگر یہ جماعتیں متحد رہتی ہیں اور متحد ہو کر ووٹ دیتی ہیں تو ان کی تعداد150 تک پہنچ جاتی ہے۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں اتنی بڑی اپوزیشن کا سامنا شاید ہی کسی حکومت کو رہا ہو، سپیکراور ڈپٹی سپیکر کے بعد قائد ایوان کا انتخاب چونکہ ایوان میں ڈویژن سے ہو گا اور سب کی آنکھوں کے سامنے ہو گا اِس لئے حقیقی تصویر اسی وقت واضح ہو گی۔

قانون سازی کے مراحل میں حکومت کو ہر وقت اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت ہو گی اِس لئے اگر کسی بھی قانون میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہو گی تو اس کے لئے اپوزیشن کا تعاون درکار ہو گا،ایوان بالا (سینیٹ) میں تو مسلم لیگ(ن) اب بھی سب سے بڑی جماعت ہے اور دوسرے نمبر پر پیپلزپارٹی ہے، یہاں تو قانون سازی کا سارا انحصار ہی اپوزیشن جماعتوں پر ہے اِس لئے بہتر یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں جو خوشگوار مناظر دیکھنے کو ملے ہیں اُنہیں زیادہ سے زیادہ طول دیا جائے تاکہ ضروری قانون سازی کے راستے میں کوئی غیر معمولی رکاوٹ نہ آئے۔البتہ اس پارلیمینٹ کے اندر اگر کسی آئینی ترمیم کی ضرورت پیش آ گئی، تو اپوزیشن کا تعاون ناگزیر ہو گا، مثال کے طور پر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لئے آئینی ترمیم کرنا پڑے گی، جس کا اعلان تحریک انصاف نے کر رکھا ہے، تو اس کے لئے اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت ہو گی، چونکہ جنوبی پنجاب کے صوبے کے لئے اس وقت پنجاب کی حدود کو بدلنا ہو گا اِس لئے پنجاب اسمبلی کے دو تہائی ارکان کی حمایت ضروری ہے ،جو مسلم لیگ(ن) کے تعاون کے بغیر کسی صورت ممکن نہیں،اِس لئے اگر ہموار جمہوری سفر درکار ہے تو تحریک انصاف کو ابھی سے اچھی شروعات کرنا ہوں گی، تاہم تحریک انصاف جس طرح کی اپوزیشن پانچ سال تک کرتی رہی۔اگر مسلم لیگ(ن) بھی اس دیکھے بھالے اور آزمودہ راستے پر چل پڑی تو حکومت کے لئے مشکلات پیدا ہوں گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -