دو قومی نظریہ اورمسئلہ کشمیر

دو قومی نظریہ اورمسئلہ کشمیر

  



مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں، دونوں کے الگ الگ نظریات ہیں اور ہندوؤں نے ہمیشہ مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھا ۔ دوسری طرف مسلمان بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہندو کے ہاتھوں مسلمانوں کے حقوق کبھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ دونوں کے مفادات الگ ہیں، خیالات و نظریات اور رجحانات جدا ہیں۔ تاریخ و تمدن ، آداب و رسوم، اطوار و اخلاق، خوراک و پوشاک، مساوات اور اس کا تصور، سرمایہ ، سرمائے کا استعمال اور سرمائے کی تقسیم کے متعلق زاویہ نگاہ، غرض یہ کہ ہر مادی اور روحانی جز جو کہ زندگی پر کسی طریق سے اثر ڈال سکتا ہے، ہندوؤں سے مختلف ہے۔ مسلمانوں کی دُنیا الگ ہے اور ہندو کا سنسار جدا۔ تخلیق آدمیت سے لے کر اب تک اسی چیز کا نام دوقومی نظریہ اور حق و باطل ہے۔

اسی جذبے پر لاکھوں مسلمانوں نے تقسیم برصغیر کے وقت جامِ شہادت نوش کیا اور طرح طرح کے ظلم و ستم کو سینے سے لگایا۔ اسی دو قومی نظریہ نے ہندوستان کے تین کروڑ مسلمانوں کو اپنا سب کچھ لٹا کر ایک نئے مُلک ’’پاکستان‘‘ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا تھا۔یہی وہ دو قومی نظریہ ہے جو پچھلے 130 سال سے کشمیریوں کی طاقت بنا ہوا ہے۔ کشمیر کے لوگ مسلمان ہیں اور اسلام پر جان نچھاور کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ انڈین فوج کے ظلم و جبر نے کشمیر یوں کے دلوں سے خوف کے سائے چھین کر انہیں ایمان و یقین کا علمبردار بنا دیا ہے۔ اگر آج کشمیری یہ اعلان کر دیں کہ ہمیں پاکستان سے الحاق نہیں کرنا اور نہ ہی ہمیں اسلام کی بنیادوں پر آزادی چاہئے، ہمیں انڈیا کے ساتھ رہنا منظور ہے تو انڈیا کشمیر میں دودھ کی نہریں بہا دے گا۔ مگر کسی ایک کشمیری نے بھی دنیوی عیش و آرام کو اسلام، آزادی اور دو قومی نظریہ پر ترجیح دی ہو یا اپنے ایمان سے دغا کر کے ہندوؤں کی آغوش میں پناہ لی ہو،ایسا ممکن نہیں ہے۔ وہ کون سی ایسی قربانی ہے جو کشمیریوں نے اسلام کی خاطرنہیں دی؟ وہ کون سا ایسا ظلم ہے جو کشمیریوں نے حق کی خاطر برداشت نہیں کیا؟ وہ کون سا ایسا قہر ہے،جو ان پر پاکستان سے الحاق کے جرم میں ڈھایا نہ گیا ہو؟ وہ کون سی ایسی وحشت اور دہشت ہے، جس کا سامنا کشمیریوں نے اسلام کے لئے نہ کیا ہو؟ چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے کشمیریوں کا ایک ہی نعرہ ہے کہ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کشمیریوں کا یہ نعرہ آج سے نہیں ہے۔یہ تب بھی تھا جب 1944ء میں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کا دورہ کیاتھا۔

قرارداد لاہور کو پاس ہوئے صرف چار سال ہوئے تھے اور مسلم لیگ کی کارکردگی تسلی بخش جارہی تھی۔کشمیرکی دو سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس نے دورۂ کشمیرکے لئے قائد اعظم کو دعوت دی۔ قائد اعظم متحدہ ہندوستان کے پہلے اور واحد لیڈر تھے، جنہیں ریاست جموں و کشمیر کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے دورے کے لئے دعوت دی تھی،یہی نہیں کشمیری حکومت کے وزیراعظم سربینی گالی نرسنگ راؤ نے بھی سرکاری سطح پر قائد اعظم کو دعوت نامہ بھیجا۔ پھر قائد اعظم کا کشمیر پہنچے پر جو شاندار استقبال کیاگیا وہ اس بات کی واضح دلیل تھا کہ کشمیر کے عوام بھی اپنے آپ کو فقط پاکستانی کہلوانا چاہتے ہے، چنانچہ سوچیت گڑھ سے جموں تک اور جموں میں قیام کے بعد بانہال سے سری نگر تک قائد اعظم کا جو شاندار استقبال ہوا وہ اب تک کشمیر کے راجہ، مہاراجہ یا انگریز سرکار کے کسی افسر کے حصے میں نہیں آیا تھا۔اس استقبال کے بعد ایک غیر ملکی مبصر نے لکھا تھا کہ اگرچہ گاندھی اور نہرو بیرونی دنیا میں ہندوستان کی تحریک کے علمبرادار سمجھے جاتے ہیں،لیکن حقیقت میں ہندوستان کے سیاسی سٹیج پر مقبول اور زور دار شخصیت محمد علی جناح کی ہی ہے۔

اپنے استقبال میں قائداعظم نے ایک ایسا جملہ کہا، جس نے کشمیریوں کو پاکستان کے حق میں یک جان و یک قالب کر دیا۔ قائد اعظم نے کہا ’’ کشمیر کے لوگو! آپ نے استقبال محمد علی جناحؒ کا نہیں کیا، بلکہ ہندستان میں مسلمانوں کی آزادی کی نمائندہ جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کا کیا ہے‘‘۔ یہ جلسہ اتنا بڑا تھا کہ آج تک کشمیر میں کسی سیاسی جماعت کو اتنی عوامی پذیرائی نصیب نہیں ہوئی۔ اس میں سری نگر سے باہر میر پور، پونچھ، مظفرآباد، گلگت ، لداخ، جموں اور کشمیر کے گرد نواح سے بھی لوگ آئے تھے۔ اخبارات کی اطلاعات کے مطابق جلسے میں ایک لاکھ افراد شریک ہوئے تھے۔ کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار کسی جلسے میں عورتیں بھی شریک ہوئیں اور ان کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی۔یہ بھی اطلاع ملی کہ سری نگر کے تمام سرکاری ملازم مسلم پارک کے اردگرد پرائیویٹ مکانوں میں قائداعظم کی تقریر سُن رہے تھے۔

اس جلسے کا اثر اتنا گہرا ہوا کہ وہ لوگ جنہوں نے اب تک پاکستان کے ساتھ الحاق کے بارے میں کوئی خاص ذہن نہیں بنایا تھا،وہ بھی پاکستان کے حامی بن گئے۔ قائداعظم نے کشمیر کے لوگوں میں جذبہ آزادی اُبھارتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’ ہمارا اللہ ایک،ہمارا رسول ؐ ایک، کتاب ایک اور دین ایک ہے، ہماری تنظیم اور قائد بھی ایک ہونا چاہئے۔ قائداعظم کے اس جلسے سے لے کر آج تک کے تمام جلوسوں میں کشمیری حریت قائدین کا ایسے ہی استقبال کرتے ہیں۔ جلسہ گاہ میں ان کی تعداد اسی قدر ہوتی، سامعین کے آزادی کے نعرے بھی اسی جوش و خروش سے ہوتے ہیں، آزادی کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور قائدین کی تقریروں میں جذبات اور پیغام بھی وہی ہوتے ہیں۔انڈیا کا یہ دعویٰ ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے۔ شاید وہ یہ بھول گیا کہ کشمیر کبھی اس کا حصہ تھا ہی نہیں۔ بھارتی آئین کی خاص دفعہ 370 کے تحت کشمیر بھارت کے پبلک سروس کمیشن، سپریم کورٹ اور آئین ساز اسمبلی سے باہر تھا۔ کشمیرکا پرچم ترانہ اور زبان بھی بھارت سے الگ تھی۔ بعد میں نہرو نے اس میں ترمیم کی۔

آج کل کشمیر کے ہر چوک و چوراہے میں ایک ہی نعرہ گونج رہا ہے۔ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘۔۔۔یہ نعرہ اس وقت بھی بہت گونجا تھا جب انڈیا نے اپنی فوج کو کشمیر میں ظالمانہ تسلط کے لئے داخل کیا تھا۔ جب انڈین فوج سری نگر شہر میں داخل ہوئی تو سری نگر شہر کی ہر گلی میں کشمیری بچے، بوڑھے اور جوان ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے لگا کر ہر روز جلوس نکالتے تھے، تب ریاستی حکومت نے بالکل آج کی طرح بہتر بہتر گھنٹے تک کرفیو لگائے رکھا۔ تقریباً دس ہزار افرد کو فوری گرفتار کیا گیا۔ یہاں تک کہ جیلوں میں گنجائش باقی نہ رہی۔ مجاہدین کی مدد کے الزام میں نوجوان کشمیریوں کو ملٹری کے زیر نگرانی فوجی بیرکوں میں بند کر دیا گیا۔ جموں کے ایک پرانے قلعے کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا، جس طرح آج انڈین فوج ٹرکوں پر مشین گنیں نصب کر کے گھومتی ہے، تب بھی اسلام آباد ، بارہ مولہ اور سوپور وغیر ہ کا یہی حال تھا۔ تب بھی انڈیا کشمیر کی آواز کو نہیں دبا سکا تھا ور آج بھی نہیں دبا سکے گا۔

انڈیا شاید یہ بھول چکا ہے کہ پاکستان نے صرف 15ماہ کشمیری عوام کی مسلح جدوجہد میں شرکت کی تھی۔ ان پندرہ ماہ میں آدھا کشمیر انڈیا کے چنگل سے آزاد ہوگیا تھا۔ تب انڈیا بھاگا بھاگا یواین پہنچا تھا اور جنگ بندی کی درخواست کی تھی ۔ کشمیر کی مسلح جدوجہد میں سب سے پہلے جس مرد مجاہد سردار عبدالقیوم خان نے گولی چلائی تھی،وہ جاتے جاتے بھی ہندوستان کے خلاف قلمی جہاد اور کشمیریوں میں تادم آخر آزادی کی لہر پھونک کر گئے ہیں۔ مجاہد اول سردار عبد القیوم خان اپنی کتاب ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ میں یہ پیغام دیتے ہیں کہ کشمیریوں کے پاس دو ہی راستے ہیں۔۔۔ اول: کشمیری بھارت کو بڑا مُلک تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار ڈال کر صلح کر لیں اور بھارت کے کشمیر پر ناجائز قبضے کو تسلیم کر لیں۔ جیسا کہ وہ چاہتا ہے ۔ دوم: یہ کہ انگریز اگر سوچی سمجھی سازش کے تحت پٹھانکوٹ انڈیا کو نہ دے دیتا تو کشمیر کا مسئلہ ہی نہیں بننا تھا۔ گویا یہ مسئلہ دانستہ طور پر سازش کر کے اسی لئے پیدا کیا گیا تھا کہ پاکستان کی سرحدیں مکمل نہ ہو سکیں اور بالآخر مجبور ہو کر خود ہی پکے ہوئے پھل کی طرح بھارت کی جھولی میں آ گرے، لیکن انڈیا خود ہی اس سے پریشان ہو گا، کیونکہ ریاست جموں و کشمیر جغرافیائی، معاشرتی، دفاعی، تاریخی اور اقتصادی طور پر مُلک پاکستان کا طبعی حصہ ہے۔

قارئین کرام! قائداعظم محمد علی جناحؒ کے جلسے اور سردار عبد القیوم خان کی جہادی و عملی کاوش انڈیا کے لئے اس بات کا واضح پیغام ہے کہ کشمیر کبھی انڈیا کا حصہ نہیں تھا، نہ ہے اور نہ ہو گا۔ کشمیری صرف اسلام کی وجہ سے پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور اسی وجہ سے پاکستان ہی سے الحاق چاہتے ہیں۔اسی لئے اقوام متحدہ نے 1948ء میں کشمیریوں سے حق خود ارادیت کا کہا تھا۔ انڈین فوج کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی قوتیں مل کر مظلوم و مقہور کشمیریوں کو وعدے کے مطابق ان کا حق دلائیں۔ یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری بھی ہے اور عہد کی پاسداری بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کشمیریوں کو جلد آزادی کی نعمت عطاء فرمائے ۔ آمین

مزید : رائے /کالم