جمہوریت اور احتساب ساتھ ساتھ چلیں گے

جمہوریت اور احتساب ساتھ ساتھ چلیں گے
جمہوریت اور احتساب ساتھ ساتھ چلیں گے

  

کل سے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر شور مچا ہوا ہے کہ عمران خان نے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف سے مصافحہ کیسے کرلیا؟ خاص طور پر آصف علی زرداری سے ہاتھ ملانے کو اتنی بڑی خبر بناکر پیش کیا جارہا ہے، جیسے اس سے زیادہ انہونی کوئی ہوہی نہیں سکتی۔ ایک چیز جسے سراہا جانا چاہئے، اُسے تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو عجیب سی کوفت محسوس ہوتی ہے۔ کیا قومی اسمبلی کے ہال میں اتنی گنجائش ہوتی ہے کہ لوگ میلوں کے فاصلے پر بیٹھے ہوں، نشستیں تو ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔ پھر نفرت کو اتنا کیوں بڑھایا جائے کہ ہاتھ تک ملانا ممکن نہ رہے۔ مَیں سمجھتا ہوں اگر یہ مصافحے نہ ہوتے تو زیادہ بڑی خبریں بنتیں، کیونکہ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات اس حد تک چلی جائے کہ دونوں طرف کے سیاستدان ہاتھ تک ملانا گوارا نہ کریں تو نظام کیسے چل سکتا ہے؟ بلاشبہ تینوں سے ہاتھ ملانے میں آگے بڑھنے کا عمل عمران خان کا تھا، انہیں ایسا کرنا بھی چاہئے تھا، جس طرح ایک خاندان کے بڑے کی ذمہ داریاں بھی بڑی ہوتی ہیں، اُسی طرح قائد ایوان یا وزیر اعظم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلے۔ اب یہ بڑی سطحی سوچ ہے کہ کل تک تو عمران خان آصف علی زرداری کو ملک کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے، آج اُن سے ہاتھ کیسے ملا لیا؟۔۔۔ ہاتھ ملا کر عمران خان نے آصف علی زرداری کو بریت کا سرٹیفکیٹ تو نہیں دے دیا، پھر آصف علی زرداری اور شہباز شریف بھی تو عمران خان کو جھوٹا خان اور جھوٹا نیازی کہتے رہے ہیں۔ کیا اس بات کو حرفِ آخر مان لیا جائے اور تین بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کٹی کرکے بیٹھے رہیں نہ ایک دوسرے کی طرف دیکھیں نہ ہاتھ ملائیں۔ سیاست میں بات عمل کی ہوتی ہے، آنے والے دنوں میں ثابت ہوگا کہ عمران خان مصلحت سے کام لیتے ہیں یا شخصی تعلقات کو نبھاتے ہوئے قانون کو اپنا راستہ بھی متعین کرنے دیتے ہیں۔

یہ ہماری تاریخ رہی ہے کہ ہم نے سیاست اور انتقام کو الگ کرنے کا کبھی تاثر پیدا نہیں کیا۔ ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ آنے والے حکمران نے جانے والے حکمرانوں کو کسی نہ کسی طرح مقدمات میں لپیٹا اور کوشش کی کہ انہیں سیاسی طور پر نقصان پہنچایا جائے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی تاریخ تو اس حوالے سے انتہائی شرمناک رہی، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آیا، جب دونوں کو میثاق جمہوریت کے ذریعے یہ انتقامی باب بند کرنے کا تہیہ کرنا پڑا۔ آج نیب کا بڑا چرچا ہے، اسی نیب کا دونوں جماعتوں نے جس بُری طرح استعمال کیا، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ خاص طور پر مسلم لیگ (ن) نے بے نظیر بھٹو کو نشانہ بنانے کے لئے اس کا سہارا لیا اور ملک قیوم جیسے کردار سامنے آئے، اب اس سلسلے کو ختم ہونا چاہئے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ احتساب کا دروازہ ہی بند کردیا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ احتساب کے جو ادارے ہیں، انہیں سیاسی تسلط سے آزاد کردیا جائے۔ وہ اپنا کام آزادانہ کریں اور یہ نہ دیکھیں کہ کس کا تعلق کس جماعت سے ہے، بلکہ کیس کی نوعیت کو دیکھ کر فیصلے کریں۔ موجودہ چیئرمین نیب جاوید اقبال نے بڑی اچھی بات کی کہ نیب اب ’’فیس دیکھ کر نہیں کیس دیکھ کر کارروائی کرتا ہے‘‘۔۔۔ خود تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور متوقع وزیر اعظم عمران خان بھی یہ کہتے آئے ہیں کہ ہم اداروں کو آزاد کریں گے، انہیں خود مختار بنائیں گے۔

نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، ایف ای سی پی اور سٹیٹ بینک کو آزادانہ کام کرنے دیں گے، تاکہ کسی کو یہ شکایت نہ ہو کہ اس کے خلاف سیاسی یا انتقامی کارروائی ہو رہی ہے۔ اس فارمولے کے مطابق توخود تحریکِ انصاف کے وہ لوگ بھی قانون کی گرفت میں آئیں گے، جو بدعنوانی میں ملوث ہوں گے۔ یہ توقع رکھنا کہ عمران خان ان کی مدد کریں، ایک احمقانہ بات ہے۔ ایسی فضا میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ عمران خان نے چونکہ آصف علی زرداری سے ہاتھ ملا لیا ہے، اس لئے آصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کے حوالے سے جو کارروائی ہو رہی ہے، وہ رک جائے گی یا سندھ کے اندر جو اربوں روپے کی لوٹ مار ہوتی رہی ہے، نیب یا ایف آئی اے اس پر کارروائی نہیں کریں گے، تو اسے بے وقت کی راگنی ہی کہا جا سکتا ہے۔

ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ ہم جمہوریت اور احتساب کے شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ جس ملک میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے سیاستدان کو بکتر بند گاڑی کے ذریعے احتساب عدالت میں لایا جاتا ہو، کوئی عقل کا اندھا ہی کہہ سکتا ہے کہ وہاں ادارے کام نہیں کر رہے۔ مَیں سمجھتا ہوں نوازشریف کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، وہ تاریخ بدل گیا ہے۔ اب کوئی طاقتور نہیں بچ سکتا، اگر اس نے بد عنوانی کی ہے یا قومی خزانے کو لوٹا ہے۔ چیف جسٹس نے جب سے آصف علی زرداری و دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کیس پر جے آئی ٹی بنانے کا عندیہ دیا ہے، سب سیدھے ہو گئے ہیں، حتیٰ کہ آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بھی عدالت میں یقین دہانی کرا دی ہے کہ ایف آئی اے جب بھی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو بلائے گی، وہ پیش ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے کئی بار بلانے کے باوجود دونوں ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور یہی مطالبہ کرتے رہے کہ پہلے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو تبدیل کیا جائے، پھر پیش ہوں گے۔

اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اب ایسے ہتھکنڈے یا حربے کامیاب نہیں ہوں گے اور بے گناہی ثابت کرنی ہو گی یا پھر سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے منی لانڈرنگ کا پوچھا تو ہمیں دھاندلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گالیاں دی گئیں۔ ایسی حرکتوں سے جان نہیں چھوٹے گی، یا حلال کا مال ثابت کرنا پڑے گا یا پھر حرام کے مال کا حساب دینا ہوگا۔ اب یہ ہے وہ فضا جس سے ملک گزر رہا ہے، ایسے میں مستقبل کے وزیراعظم کے کسی اپوزیشن لیڈر سے ہاتھ ملانے کا یہ مطلب کیسے نکالا جا سکتا ہے کہ اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔ ویسے بھی جس ملک میں ایک حاضر وزیر اعظم اپنی تمام تر طاقت کے باوجود احتساب کے شکنجے سے نہیں بچ سکا، وہاں کوئی با اختیار شخص کسی دوسرے کو ریلیف کیسے دلوا سکے گا؟ وہ زمانے گئے جب حکومت کیس کھولتی اور بند کرا دیتی تھی۔ کبھی نندی پور کھول دیا، کبھی بند کر دیا، کبھی حدیبیہ پر کارروائی شروع کرائی اور کبھی اسے کھوہ کھاتے میں ڈال دیا۔ اب تو ایف آئی اے اور نیب خود ہی کیس ڈھونڈتی ہیں اور کارروائی شروع کر دیتی ہیں۔ یہ فواد حسن فواد، احد چیمہ جیسے کردار اپنی حکومتوں کی موجودگی میں پکڑے گئے ہیں، انہیں شہباز شریف چھڑا سکے، نہ نوازشریف کے خلاف کیس بند ہو سکے۔

اس تبدیلی کو پیش نظر رکھ کر سب کو آگے بڑھنا ہوگا۔ سیاست ایک طرف چلے گی اور آئینی ادارے دوسری طرف اپنا کام کرتے رہیں گے۔ ہاتھ ملانے سے کوئی کیس ختم ہوگا نہ کسی کے خلاف کھل سکے گا۔ تحریک انصاف اسی ایجنڈے اور اسی نعرے کے ساتھ اقتدار میں آ رہی ہے۔ جو لوگ عمران خان کو جانتے ہیں انہیں علم ہے کہ وہ کسی کو بچانے یا کسی کو ناجائز پھنسانے کی سوچ بھی نہیں رکھتا۔ وہ کبھی نوازشریف یا شہباز شریف کی طرح یہ پریس کانفرنس نہیں کرے گا کہ نیب انتقامی کارروائی کر رہا ہے اور ہمارے سیاستدان اور افسر اس کی وجہ سے کام نہیں کرپا رہے۔ جب وہ اپنے لوگوں کے لئے اس حوالے سے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھے گا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ سیاسی مخالفین کو صرف سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایسا کوئی تحفظ فراہم کرے۔

سو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ عمران خان ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی طرح آگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ سیاسی سطح پر کوئی انتشار نہیں چاہتے، اسی لئے انہوں نے دھاندلی کی تحقیقات کے لئے حکومتی سپورٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح وہ مخالفت برائے مخالفت بھی نہیں رکھنا چاہتے۔ جو اسمبلی کا رکن ہے وہ اس کے قائد ایوان ہیں، مجھے یہ بھی یقین ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت وہ رویہ اختیار نہیں کرے گی جو ماضی میں حکومتیں اختیار کرتی رہی ہیں کہ سیاسی مخالفین کے حلقوں میں کوئی ترقیاتی کام نہ کرائے جائیں، نہ ہی فنڈز دیئے جائیں، تاکہ عوام ان سے متنفر ہو جائیں ۔ ان حلقوں میں بھی اتنے ہی ترقیاتی کام کرائے جائیں گے جتنے ان حلقوں میں ہوں گے، جہاں سے تحریک انصاف کامیاب ہوئی ہے۔ سب اس بات پر مطمئن ہیں کہ نئی اسمبلی کا پہلا اجلاس بہت پُر امن اور مثبت رہا۔ اس میں متوقع حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک ہم آہنگی نظر آئی، اس میں ان مصافحوں کا بھی بڑا کردار ہے، جو جرأت مندی کے ساتھ قدم آگے بڑھا کر کئے گئے۔ اُمید ہے جمہوریت کی یہ مثبت پیش رفت جاری رہے گی اور ہم اس کے ثمرات سے بہرہ مند ہونے کی منزل بھی جلد ہی حاصل کر لیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -