شاید کوئی حکمران یہ شعاعِ امید بن جائے!

شاید کوئی حکمران یہ شعاعِ امید بن جائے!
شاید کوئی حکمران یہ شعاعِ امید بن جائے!

  

توقع ہے کہ تین چارروز کے بعد نئے پاکستان کی ایک نئی صبح طلوع ہونے جارہی ہے۔ اس صبح کی پھوٹتی کرنیں کیسی ہوں گی اور ہمیں ان سے کیا امیدیں وابستہ کرنی چاہئیں یہ باتیں وقت کے ساتھ ساتھ چلتی رہیں گی۔۔۔ لیکن انسانی تخیل بھی کیا عجیب چیز ہے!

میں نے جب اس کالم کا پہلا فقرہ لکھا تھا تو خیال تھا کہ ایسی چند تجاویز کا ایک خاکہ نئے حکمرانوں کے سامنے رکھوں گا جس پر عمل پیرا ہوکر چین نے ایک قلیل مدت میں بے مثال ترقی کرلی۔ لیکن دوسرے فقرے میں جب ’’صبح کی پھوٹتی کرنوں‘‘ کا لفظ لکھا تو یقین کیجئے کہ وہ موضوع جس کو ذہن میں رکھ کر قلم اٹھایا تھا وہ کہیں پس منظر میں دبک گیا اور اس کی جگہ ایک ایسا نیا موضوع پیش منظر میں سامنے آکر کھڑا ہوگیا جو ’’صبح کی کرنوں‘‘ کے ساتھ خاص نسبت رکھتا ہے۔

حضرت اقبال کی ایک نظم کا عنوان ہے ’’شعاعِ امید‘‘ اور وہ ’ضربِ کلیم‘ کی دوسری طویل ترین نظم ہے۔طوالت کے اعتبار سے پہلے نمبر پر جو نظم ہے اس کا عنوان ہے ’’جاوید سے‘‘ اور اس میں چھوٹی بحرکے 34اشعار ہیں۔ دوسرے نمبر پر یہ ’’شعاعِ امید‘‘ والی نظم ہے جس کے 18اشعار ہیں۔ ضرب کلیم کی باقی تمام منظومات ایسی ہیں جن میں سے ہر نظم میں صرف 5,4 اشعار ہیں۔۔۔۔ البتہ آخری نظم کا عنوان ہے ’’محراب گُل افغان کے افکار‘‘۔۔۔ یہ نظم چھوٹی چھوٹی 20نظموں کا مجموعہ ہے جن کو موضوع کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک ’’نظمِ مسلسل‘‘ بھی کہی جاسکتی ہے۔ اس میں اقبال نے افغانستان کے باسیوں کو جو خراجِ تحسین پیش کیا ہے وہ بے مثال ہے اور اس حوالے سے یہ نظم بھی اقبال کی طولانی اور لافانی نظموں میں شامل ہو چکی ہے۔

البتہ میرے ذہن میں یہ ’’شعاعِ امید‘‘ والی نظم اس پس منظر میں آئی کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اقبال چاہتے تھے کہ وہ اِس خطۂ زمین جسے ہم آج پاکستان کا نام دیتے ہیں وہ جب برٹش دور کی غلامی سے نجات حاصل کرچکے گا اور جب ایک ’’نیا اسلامی ملک‘‘ وجود میں آ جائے گا تو اس کا ایک خاکہ سا بھی شاعرِ مشرق نے اپنے ذہن میں بنا رکھا تھا۔

اقبال کی کئی دوسری نظموں کی طرح ’’شعاعِ امید‘‘ میں بھی ایک ڈرامائی عنصر پایا جاتا ہے۔ اس مختصر ڈرامے کے تین ایکٹ اور تین ہی کردار ہیں۔۔۔ ایک سورج، دوسرا اس کی کرنیں اور تیسرا ایک ایسی کرن جو اس سرزمین کو ایک ایسا خطہ بنانا چاہتی ہے جو اقبال کا خواب تھا ۔

پاکستان کا نام اقبال نے تو تجویز نہیں کیا تھا، اس کا کریڈٹ چودھری رحمت علی صاحب کو دیا جاتا ہے لیکن اقبال نے جن علاقوں کو ہندوستان سے الگ کرکے ایک نئے اسلامی ملک کا تصور دیا تھا، وہ وہی پاکستان تھا جو 14اگست 1947ء کو وجود میں آیا۔

ضربِ کلیم 1936ء میں شائع ہوئی اور اوائل 1938ء میں اقبال کا انتقال ہوگیا۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ جب یہ نظم (شعاعِ امید) لکھی گئی تو اس وقت اقبال کے ذہن میں پاکستان کا نام توموجود نہ تھا لیکن ایک خاکہ ضرور ترتیب پاچکا تھا جس کی جغرافیائی سرحدیں، فکرِ اقبال کے احاطے میں مجسم صورت میں موجود تھیں۔ ان ایام میں اقبال نے جو نظمیں کہیں وہ ان کے مفکرِ پاکستان ہونے کے حوالے سے ایک خاص تاثر کی حامل ہیں۔۔۔۔ ’’شعاعِ امید‘‘ میں بھی یہی تاثر موجود ہے ۔۔۔اور میں قارئین کی توجہ اسی طرف دلانی چاہتاہوں۔

ڈرامے کا پہلا سین ہے۔۔۔ پردہ اٹھتا ہے تو سکرین پر سورج ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے اردگرد اس کی ساری شعاعیں جمع ہیں۔ سورج کو احساس ہے کہ روزِ ازل سے اس کی یہ بیٹیاں(شعاعیں) آفاق کے دور دراز گوشوں میں بھٹک رہی ہیں لیکن ان کو کوئی فوکل پوائنٹ ایسا دکھائی نہیں دیتا جس پر وہ مرکوز ہو کر اس کو زیادہ روشن، زیادہ تابناک اور زیادہ ثمربار بناسکیں۔۔۔ سورج اپنی شعاعوں سے ہمکلام ہے۔۔۔ اقبال کی یہ نظم ’’شعاعِ امید‘‘ شروع ہوتی ہے:

سورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام

دنیا ہے عجب چیز، کبھی صبح، کبھی شام

مدت سے تم آدارہ ہو، پہنائے فضا میں

بڑھتی ہی چلی جاتی ہے، بے مہرئ ایام

نے ریت کے زروں پہ چمکنے میں ہے راحت

نے مثلِ صبا، طوفِ گل ولالہ میں آرام

پھر میرے تجلی کدۂ دل میں سما جاؤ

چھوڑو چمنستان و بیابان و دروبام

سورج کے اس خطاب میںیاس انگیزی کا بھی ایک شائبہ پایا جاتا ہے۔ وہ شعاعوں کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہے : ’’ایک طویل مدت سے تم وسعتِ افلاک میں ماری ماری پھر رہی ہو لیکن تمہاری بے چینی ہے کہ کسی صورت کم نہیں ہوتی۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں کوئی منزل نہیں مل رہی‘‘۔۔۔ یہ کہہ کر سورج آخری شعر میں جو پیغام دیتا ہے وہ قابلِ غور ہے۔ وہ کہہ رہا ہے : ’’اگر صدیوں کی تلاش کے بعد بھی ،گوہرِ مقصود ہاتھ نہیں آرہا تو پھر واپس آکر میرے سینے میں سما جاؤ۔ یعنی خلا میں جو بے شمار اجرامِ فلکی گردش میں ہیں اگر وہ تمہارا استقبال کرنے کو تیار نہیں تو آوارہ گردی چھوڑو اور واپس میرے دل میں آکر بسیرا کرلو۔۔۔۔‘‘

قارئین کرام سے گزارش کروں گا کہ اس آخری شعر کو ایک بار پھر پڑھیں اور دیکھیں کہ اس میں اقبال نے جو صوتی گھن گرج بھر دی ہے وہ کتنی گرجدار اور شنیدنی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نقارے پر چوٹ پڑ رہی ہے اور ’’دَنا دَن، دَنادَن‘‘ کی آوازیں آرہی ہیں۔۔۔ ایک بار پھر اسے پڑھ لیں:

پھر میرے تجلی کدۂ دل میں سما جاؤ

چھوڑو چمنستان و بیابان و دروبام

اس بند کے بعد دوسرا بند شروع ہوتا ہے۔۔۔ یہ گویا ڈرامے کا دوسرا سین ہے۔ سورج کی ساری شعاعیں اکٹھی ہوکر اجرامِ فلکی کی مخلوقات کی ناقدری کا گلہ کررہی ہیں اور کہہ رہی ہیں:’’یورپ، امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک تو مشینوں کے دھوئیں سے اَٹے ہوئے ہیں۔ اس لئے ہم اس از حد تاریک ماحول کو روشن کرنے سے قاصر ہیں ۔اور جہاں تک مشرقی ممالک کا تعلق ہے تو وہ سب ہمیں دیکھ تو رہے ہیں اور مسلسل دیکھے بھی جارہے ہیں لیکن یوں خاموش ہیں جیسے یہ کوئی ’عالمِ لاہوت‘ ہو کہ جس پر ازلی اور ابدی سکوت طاری ہوتا ہے۔پھریہ ساری شعاعیں اکٹھی ہو کر سورج کی ہاں میں ہاں ملاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اگر اس وسیع و عریض آفاق میں ہمیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا تو پھر توہی ہمیں اپنے آغوش میں چھپالے۔۔۔ دیکھئے اقبال نے اس منظر کو کس خوبصورتی سے شعر بند کیا ہے:

آفاق کے ہر گوشے سے اٹھتی ہیں شعاعیں

بچھڑے ہوئے خورشید سے ہوتی ہیں ہم آغوش

اک شور ہے مغرب میں اُجالا نہیں ممکن

افرنگ مشینوں کے دھوئیں سے ہے سیہ پوش

مشرق نہیں گو لذتِ نظارا سے محروم

لیکن صفتِ عالمِ لاہوت ہے خاموش

پھر ہم کو اُسی سینۂ روشن میں چھپالے

اے مہرِ جہاں تاب! نہ کر ہم کو فراموش

اب اس نظم کا تیسرا اور آخری سین ابھرتا ہے۔۔۔سورج کی شعاعیں اس کے سینے میں واپس جانے کی تیاریاں کرتی ہیں تو ان لاتعداد کرنوں میں ایک کرن ایسی بھی ہے جو بے حد شوخ، بے چین اور مضطرب ہے لیکن ناامید ہرگز نہیں۔ وہ سورج سے کہتی ہے:’’ میں تمہارے سینے میں واپس نہیں جاؤں گی۔۔۔ لیکن میری اتنی سی درخواست ہے کہ مجھے روشن رکھیو۔ اور یہ روشنی مجھ سے نہ چھین لینا۔ میں عہد کرتی ہوں کہ جب تک ہندوستان کا ذرہ ذرہ چمک نہیں جاتا، تب تک میں چمکتی رہوں گی اور زیادہ شدت اور آب و تاب سے چمکوں گی۔ یہ خطہ تو وہ ہے جو سارے مشرق کا ایک بے نظیر ٹکڑا ہے اور وہاں کا ایک شاعر جس کا نام اقبال ہے وہ دن رات اس خطے کو روشن دیکھنے کے لئے کوشاں اور آرزو مند رہتا ہے اور اسی غم میں اشک فشانی کئے جارہا ہے۔ یہاں کے باسی اگرچہ سوئے ہوئے ہیں لیکن میں جانتی ہوں کہ ایک دن وہ ضرور بیدار ہوں گے کیونکہ یہ خاک تو وہ خاک ہے جس سے چاند ستاروں کو روشنی مل رہی ہے۔ اس خاک کا ایک ایک سنگریزہ ،لعل و جواہر سے کم نہیں۔ اسی خاک سے ایسے ایسے شناورپیدا ہوئے ہیں جو دنیا کے بڑے بڑے سمندروں کو پار کرکے ساحل مراد پر آپہنچے ۔ یہ خاک ایک ایسا ساز ہے جس کے گیتوں اور نغموں سے، مایوس اور افسردہ دلوں میں زندگی کی حرارت دوڑ جاتی تھی لیکن آج وہ ساز اس لئے خاموش ہے کہ اس کو بجانے کے لئے کوئی مضراب نہیں۔ وگرنہ تمام کا تمام ماحول نغموں سے گونج اٹھتا۔۔۔

آج اس خطۂ ہند کا حال یہ ہے کہ یہاں کی دونوں قومیں (ہندو اور مسلمان) خوابِ غفلت میں مدہوش ہیں۔ برہمن اگر بت خانے میں سو رہا ہے تو مسلمان مسجد کی محراب تلے محوِ خواب ہے۔ دونوں خواب خرگوش میں مست ہیں۔ اس لئے میں ساری شعاعوں سے کہوں گی کہ وہ مل کر مصمم ارادہ کرلیں کہ اس ملک کے ہر کونے کو، خواہ وہ مشرق کا ہو یا مغرب کا، اپنی چمک سے روشن کردیں ۔ منشائے خداوندی بھی یہی ہے نا کہ ہررات کا انجام ،صبح ہے۔ اگر ہندوستان کے چاروں کھونٹ رات کی تاریکیاں چھائی ہوئی ہیں تو ہم اکٹھے مل کر اس کو مطلعِ انوار بنادیں گی!۔۔۔

اب اس نظم کے اس آخری حصے کو دیکھئے کہ یہ کتنا زوردار اور تاثیر میں ڈوبا ہوا ہے:

اک شوخ کرن، شوخ مثالِ نگہِ حور

آرام ہے فارغ، صفتِ جوہرِ سیماب

بولی کہ مجھے رخصتِ تنویر عطا ہو

جب تک نہ ہو مشرق کا ہر اک ذرہ جہاں تاب

چھوڑوں گی نہ میں ہند کی تاریک فضا کو

جب تک نہ اٹھیں خاک سے، مردانِ گراں خواب

خاور کی امیدوں کا یہی خاک ہے مرکز

اقبال کے اشکوں سے یہی خاک ہے سیراب

چشمِ مہ و پرویں ہے اسی خاک سے روشن

یہ خاک کہ ہے جس کا خزف ریزہ، دُرِناب

اس خاک سے اٹھے ہیں وہ غوّاصِ معانی

جن کے لئے ہر بحرِ پر آشوب ہے پایاب

جس ساز کے نغموں سے حرارت تھی دلوں میں

محفل کا وہی ساز ہے، بیگانۂ مضراب

بت خانے کے دروازے پہ سوتا ہے برہمن

تقدیر کو روتا ہے مسلماں، تہِ محراب

مشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حذرکر!

فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر!

قارئین کرم! جیسا کہ میں نے سطورِ بالا میں کہا اقبال نے اس نظم میں جس ہندوستان کا ذکر کیا ہے وہ دراصل پاکستان ہے اور جس برہمن اور بت خانے کا ذکر کیا ہے وہ اس لئے ضروری تھا کہ جب یہ نظم لکھی گئی تھی تو ہندوستان گو متحد تھا لیکن تحریکِ پاکستان ابھررہی تھی، اس لئے اقبال نے ’’ہندو اور مسلمان‘‘ دونوں کو اس نظم میں اکٹھا کردیا۔ یہ دونوں قومیں برصغیر کی سب سے بڑی قومیں جو تھیں!

آج 2018ء میں اگر نئے پاکستان کی باتیں ہورہی ہیں تو شاید کوئی نیا حکمران وہ ’’شعاعِ امید‘‘ بن جائے جس کا ذکر اقبال نے اس دلسوزی سے کیا ہے۔

مزید : رائے /کالم