انتقال اقتدار کے تمام مراحل بخیر و خوبی مکمل ہوں گے، جمہوری نظام کے تسلسل کا سنگ میل!

انتقال اقتدار کے تمام مراحل بخیر و خوبی مکمل ہوں گے، جمہوری نظام کے تسلسل کا ...

  

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

عام انتخابات کے نتیجہ میں ایک جمہوری حکومت معرض وجود میں آجائے گی اور انتقال اقتدار کے تمام مراحل خوش اسلوبی سے طے پا چکے ہوں گے جو ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کے لئے ایک نیا سنگ میل ثابت ہو گا گو کہ تحریک انصاف جو حکومت بنانے جا رہی ہے کے پاس حکومت سازی کی شرائط کے مطابق سادہ اکثریت بھی نہیں ہے تاہم وہ تعداد پوری کر چکے ہیں بلکہ دعویٰ اس سے زیادہ کا بھی ہے لیکن اس کے بارے میں تو واضح اس دن ہو گا جب سپیکر اور وزیر اعظم کے ووٹ پڑیں گے ان کی تعداد کتنی ہو گی۔کیونکہ موجودہ حالات میں اپوزیشن خاصی مضبوط نظر آرہی ہے جبکہ دوسری طرف حکمرانی کی مسند پر بیٹھنے والی تحریک انصاف بھی مثبت دعویٰ کرتی رہی ہے اب کس کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے یہ تو حکومت کے چلن اور اپوزیشن کے رد عمل پر منحصر ہو گا۔

ایک بات خوش آئند ہے کہ متوقع حکمران جماعت کے قائد عمران خان کی ہدایت پر وفد کی صورت میں ان کی جماعت نے اپوزیشن کی مختلف سیاسی جماعتوں سے فرداً فرداً رابطہ کیا ہے اور انہیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ مثبت قانون سازی میں حکومتی بنچوں کا ساتھ دیں خاص طور پر سپیکر کے انتخاب کے لئے بھی حمایت کا کہا ہے ان اپوزیشن جماعتوں نے بھی چند معاملات پر مثبت رد عمل کا اشارہ دیا ہے تاہم سپیکر سمیت دوسرے عہدوں پر انتخاب میں تعاون نہ کرنے کا واضح جواب دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنا سیاسی تشخص الگ رکھنے پر متفق ہیں البتہ یہ بات اہم ہے انہوں نے متوقع حکومتی جماعت کو یہ یقین دہانی ضرور کروائی ہے کہ وہ تمام احتجاج اور حقوق کی بات اسمبلی فلور پر ہی کریں گے اور کسی بھی مقام پر حکومت کے لئے بے معنی مسئلہ پیدا نہیں کریں گے اس کا نظارہ قومی اسمبلی میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب تمام ارکان حلف کے لئے اسمبلی میں آئے ایک دوسرے کے ساتھ بھر پور انداز میں ہاتھ ملایا اور کچھ بغل گیر بھی ہوئے خصوصاً تحریک انصاف کے چیئر مین اور متوقع وزیر اعظم عمران خان جب اسمبلی آئے تو وہ فرنٹ ڈیسک پر بیٹھے اپوزیشن رہنماؤں میاں شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری سمیت تمام رہنماؤں سے گرم جوشی سے ملے جس کا جواب بھی انہیں اس طرح ہی ملا جو آنے والے وقت کے لئے ایک اچھا شگون ہو سکتا ہے قبل ازیں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل قومی رہنماؤں اور ارکان اسمبلی نے مختلف میڈیا سے بات چیت پر مثبت رائے کا اظہار کیا۔ خاص طور پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ وہ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ کر پارٹی منشور پر عمل کریں گے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانا چونکہ ان کے منشور میں شامل ہے اس لئے وہ اس مشن پر کام کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے عوام کی ترقی کے لئے کام کریں گے اور عوام کو مشکلات سے نجات دلائیں گے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کم و بیش انہی الفاظ سے اس کاز کی تائید کی گو کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب سے قومی اسمبلی کی مخص 5 سیٹیں مل سکی ہیں جس میں سے 3 تو صرف مظفر گڑھ سے ہیں جبکہ دو رحیم یار خان سے، لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے سابق وفاقی وزیر حنا ربانی کھر کو خواتین کے لئے مخصوص نشست پر کامیاب کروایا ہے یوں انہوں نے جنوبی پنجاب کو سیٹ دے کر اپنے منشور پر عمل کر دیا ہے لیکن دوسری سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے نہ تو اپنے منشور پر عمل کیا ہے اور نہ ہی اس بات کا خیال رکھا ہے کہ جنوبی پنجاب سے انہوں نے جتنی نشستیں عام انتخابات میں جیتی ہیں کم از کم اسی اوسط سے ہی یہاں مخصوص نشستوں پر سیٹیں تقسیم کر دیں اس میں متوقع حکمران جماعت تحریک انصاف سر فہرست ہے جس نے یہ نعرہ بھی لگا رکھا ہے کہ پہلے 100 دن میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے گا لیکن انہوں نے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر اس کا عملی مظاہرہ نہیں کیا اعداد و شمار کے مطابق تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب سے قومی اسمبلی کی 29 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ مخصوص کوٹے میں انہیں 33 خواتین کو ٹکٹ دینا تھا اگر وہ اس پر ہی دھیان کرتے تو کم از کم اس حساب سے قومی اسمبلی میں اس کی 4 سے 5 نشستیں بنتی تھیں اور ویسے نتائج کے حوالے سے دیکھتے تو انہیں زیادہ نشستیں جنوبی پنجاب سے ملی تھیں تو وہ مخصوص نشستیں زیادہ جنوبی پنجاب ہی کو دیتے لیکن انہوں نے بھی یہ لاہور اور راولپنڈی میں تقسیم کر دی ہیں اور جنوبی پنجاب کو قومی اسمبلی کی صرف ایک مخصوص نشست دی گئی ہے اسی طرح پنجاب اسمبلی میں بھی 50 سے زیادہ نشستیں جنوبی پنجاب سے حاصل کی ہیں لیکن صرف 3 مخصوص نشستیں دی گئی ہیں اور ایک نشست اقلیتی امیدوار کو دی گئی ہے جو تحریک انصاف میں بیٹھے ’’سیاسی وڈیروں‘‘ کے ذہن کی نشاندھی کرتا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر باقی سیاسی جماعتوں کی طرح جنوبی پنجاب کو کس حد تک سیاسی اور معاشی طور پر نظر انداز کرتے ہیں تحریک انصاف کے قائد اور متوقع وزیر اعظم عمران خان کو اس حوالے سے فوری طور پر قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ پنجاب سمیت ملک بھر میں سب سے زیادہ نشستیں انہیں اسی خطے نے دی ہیں اب وہ بھی ان کے ساتھ یہ سلوک کریں گے تو پھر سیاسی طور پر آئندہ ان کے لئے مشکلات ہوں گی اس کے لئے ماضی کے تمام انتخابات کا رزلٹ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

ادھر تحریک انصاف کی طرف سے حکومت سازی کے بعد عوام نے بہت زیادہ توقعات بھی وابستہ کر لی ہیں خصوصاً جنوبی پنجاب کے عوام نے تو کاؤنٹ ڈاؤن بھی شروع کر دیا ہے کہ کب 100 دن پورے ہوتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو اس سے بھی زیادہ اہمیت کے مسائل کا سامنا ہو گا لیکن کیا کیا جائے کہ انہوں نے الفاظ پر یقین کر لیا ہے اور اب وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں کیونکہ کچھ خبریں یہ بھی آرہی ہیں کہ ابتدائی طور پر مسلم لیگ ن والا رول ماڈل بنا دیا جائے یعنی ایک ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور کچھ محکموں کے سیکرٹریز کو ملتان میں بیٹھا کر فی الحال ’’گذارہ‘‘ کر لیاجائے۔ لیکن اب شاید یہ رول ماڈل قابل قبول نہ ہو گا اور الگ صوبے کی بات نہیں ہو گی چیئر مین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے اس بیان سے ’’فیس نہیں، کیس‘‘ دیکھ کر تفتیش کی جائے پر لگتا ہے کچھ نہ کچھ عمل درآمد شروع ہو چکا ہے یہی وجہ ہے کہ نیب ملتان میں میٹرو بس سکینڈل جو کافی عرصے سے سرد خانے کی نظر تھا اب اس پر دوبارہ پیش رفت شروع کر دی گئی ہے جس میں سابق ڈپٹی کمشنر ملتان نادر چٹھہ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے جنہوں نے سرکاری اکاؤنٹنٹ سے نیب لاہور کے پاس گرفتار احمد چیمہ کے پرائیویٹ اکاؤنٹ میں 5 کروڑ روپے کی خطیر رقم منتقل کی تھی جس کے شواہد نیب کے حاصل کر لئے ہیں اور اہم ریکارڈ تک رسائی حاصل کی ہے معلوم ہوا ہے کہ نادر چٹھہ کو متعدد مرتبہ نیب میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے اور اب سرکاری سکالر شپ پر بیرون ملک چلے گئے ہیں قبل ازیں ملتان ترقیاتی ادارہ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رانا رضوان قدیر کے بارے میں بھی نیب نے تحقیقات کی تھیں لیکن بوجوہ خاموشی چھا گئی مگر اب ان کے خلاف بھی دوبارہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے کیونکہ میٹرو کی تعمیر شروع ہونے سے مکمل ہونے تک رانا رضوان قدیر ہی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر رہے اور اب بھی ہیں اور انہی کے دور میں 34 ارب روپے کی ادائیگیاں بھی ہوئیں اور مختلف ٹھیکیداروں کے ساتھ ملی بھگت بھی سامنے آئی اب نیب اس پر اقدام کرتا ہے یہ جلد سامنے آئے گا۔

مزید :

ایڈیشن 2 -