سندھ اسمبلی، 160 نو منتخب اراکین نے حلف اٹھایا، چاراراکین غیرحاضر رہے

سندھ اسمبلی، 160 نو منتخب اراکین نے حلف اٹھایا، چاراراکین غیرحاضر رہے

  

سیاسی ڈائری ۔ کراچی ۔ مبشر میر

پندرھویں نومنتخب سندھ اسمبلی کے 160 ممبران نے حلف اٹھالیاہے، ایوان میں ارکان کی مجموعی تعداد 168ہے تاہم ایک نشست پر امیدوار کے انتقال کرجانے کے باعث الیکشن نہیں ہوسکا ،دو ارکان نے نوٹی فکیشن جاری نہ ہونے کی وجہ سے حلف نہیں اٹھایا ،ایک رکن سید فضل علی شاہ جیلانی نے قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف لیا جبکہ چار ارکان علی مردان شاہ ،علی نواز مہر ،ڈاکٹرسیما ضیا اور شاہین اشعر ایوان میں حاضر نہ ہونے کے باعث حلف نہیں اٹھاسکے۔ ایوان میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کو مکمل اکثریت حاصل ہے، تقریبِ حلف برداری میں یہ بات منفرد رہی کہ ممبران نے اردو، انگلش اور سندھی تین زبانوں میں حلف اٹھایا، گو یا ہر کسی کی خواہش کا احترام کیا گیا۔ سندھ اسمبلی کے الیکشن سیاست کے طالبعلموں کیلئے دلچسپی پیدا کیے ہوئے ہیں، اعدادو شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ٹرن آؤٹ گذشتہ الیکشن2013 کے مقابلے میں 6.51 فیصد کم رہا، 2018کے الیکشن میں ٹرن آؤٹ صوبائی اسمبلی کیلئے 48.11 فیصد تھا۔ اسی طرح گذشتہ دس سالوں سے برسراقتدار پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین 5 فیصد اضافے اور 3853081ووٹ کے ساتھ 97 نشستیں، پاکستان تحریک انصاف گذشتہ الیکشن کے مقابلے میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ 1435813 ووٹ اور 30 نشستیں، ایم کیو ایم 30 فیصد ووٹوں کی کمی کے ساتھ 773951ووٹ اور 21 نشستیں، گرینڈ ڈیمو کرٹیک الائنس نے 15 نشستیں حاصل کیں اور 1479472ووٹ ملے، جو کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم سے بھی زیادہ ہیں، متحدہ مجلس عمل نے ایک نشست اور 656990ووٹ جبکہ تحریک لبیک پاکستان 2 نشستیں اور 414701ووٹ کے ساتھ نمایاں ہیں۔ شہر کراچی کے نتائج میں خاص بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین جس کی مرکزی قیادت سمیت تمام اعلیٰ عہدیدار ہمہ وقت کراچی میں موجود ہیں۔ اس کو روایتی نشستیں جو لیاری میں تھیں، سے ہاتھ دھونا پڑے، ملیر کی چار نشستیں ملیں اور شہری علاقے کی واحد نشست سعید غنی کے حصے میں آئی، ایم ایم اے اور ٹی ایل پی نے بھی شہر کراچی سے نشستیں حاصل کیں۔ پی پی پی پی کو اس لحاظ سے سبقت حاصل ہے کہ سندھ اسمبلی میں دو بہنیں فریال تالپور اور عذرا افضل پیچوہو جنرل نشست سے ، لاڑکانہ اور نوابشاہ سے الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئیں اور اقلیتی کمیونٹی سے گیانومل اور ہری رام بھی جنرل نشست سے جامشورو اور میرپورخاص سے کامیاب قرار پائے۔ جمہوری اقدار کے فروغ کے حوالے سے یہ بہت خوش آئند ہے۔

عمران اسماعیل کی گورنر سندھ کیلئے نامزدگی کے بعد ایم کیو ایم، پی ٹی آئی اور جی ڈی اے کی متحدہ اپوزیشن مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ تحریک لبیک اور ایم ایم اے کے ممبران اسمبلی کو ساتھ ملانے کے حوالے سے حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں تذبذب کا شکار ہیں کہ ان کے ساتھ چلا جائے یا نہیں۔ قرین قیاس ہے کہ وہ اپوزیشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں قدر مشرک ایک چیز نظر آتی ہے کہ دونوں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے صوبہ پنجاب میں بلدیاتی نظام کی تبدیلی کا عندیہ بھی دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ میئر کراچی کے اختیارات کے حصول کیلئے دونوں پارٹیاں کس طرح مل کے کام کرتی ہیں اور نئے گورنر سندھ ان کیلئے کس حد تک معاون ثابت ہوتے ہیں۔ شہر کراچی دراصل ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا ووٹ بینک ثابت ہوا ہے ، جبکہ حکمران پارٹی کو انتخابات میں پذیرائی نہیں ملی ، اس لیے شہر کراچی کے حوالے سے پی پی پی پی کو حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے گی۔ اپوزیشن راہنما کیلئے حلیم عادل شیخ کو نامزد کیا گیا ہے جو کہ عوامی سیاست میں ماہر ہیں۔ اس لیے پی پی پی کو مشکل اپوزیشن کا سامنا ہوگا۔

پیپلز پارٹی کے کئی سینئر راہنما اسمبلی میں نہیں پہنچ سکے جن میں منظور وسان، نثار کھوڑو نمایاں ہیں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس کے اراکین اسمبلی کے طور پر موجود ہے۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ صوبائی کابینہ میں جواں سال اراکین اسمبلی کو زیادہ موقع دیا جائے گا۔ ان میں سے اکثریت روایتی سیاسی خاندانوں کے بچوں کی ہے لیکن مثبت بات یہ ہے کہ وہ تعلیم یافتہ ہیں، بلاول بھٹو زرداری اگر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو منوانا چاہتے ہیں تو انہیں ایسے ہی نوجوانوں پر مشتمل کابینہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ سندھ کے مسائل اور وسائل دونوں بے پناہ ہیں، اگر مخلصانہ کوشش کی گئی تو پیپلز پارٹی شہر کراچی میں اپنا مقام بنا سکتی ہے ۔ اگرچہ ان سے اندرون سندھ کے بھی بہت لوگ خفا ہیں، شہری اور دیہی سندھ میں زمین اور آسمان جیسے فرق کو کم کرنے کیلئے انقلابی اقدامات درکار ہیں، شہر کراچی میں بڑھتی ہوئی کچی آبادیاں بھی ایک چیلنج ہیں، پیپلز پارٹی کی قیادت کا امتحان بھی شروع ہے اور حکومت کے پہلے سو دن اہم ہونگے ، جس سے آئندہ کیلئے سمت کا تعین ہوگا۔

مزید :

ایڈیشن 2 -