پاکستان زندہ باد روزنامہ’’پاکستان‘‘شوبز سٹارز کا جشن آزادی

پاکستان زندہ باد روزنامہ’’پاکستان‘‘شوبز سٹارز کا جشن آزادی

  

حسن عباس زیدی

’’روزنامہ پاکستان ‘‘

جشن آزادی کا کیک کاٹنے کی تقریب،معروف فنکاروں کی شرکت

روزنامہ پاکستان کے زیر اہتمام گزشتہ روز جشن آزادی کے سلسلے میں کیک کاٹنے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیا ت نے شرکت کی جبکہ علی مجیب شامی،ایثار رانا گروپ ایڈیٹر کوآرڈینیشن اور چیف رپورٹر جاوید اقبال نے خصوصی شرکت کی س تقریب میں شرکت کرنے والے فنکاروں میں میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس گلوکارہ شاہدہ منی ،سینئر ادکارہ عذرا آفتاب،سینئر اداکار راشد محمود،رائٹر ڈائریکٹر پرویز کلیم،موسیقار رفیق حسین،گلوکار شعمون فدا،سینئر اداکار اچھی خان ،اداکار ببرک شاہ،سینئر اداکارہ راحیلہ آغا،فلم ،ٹی وی اور سٹیج کی معروف اداکارہ،ماڈل اور پرفارمر قتالہ سٹیج میگھا،سینئر اداکارہ ہانی بلوچ،فلم،ٹی وی اور سٹیج کی نامور اداکارہ،ماڈل اور پرفارمر ماہ نور،لکی ایرانی سرکس کے روح رواں میاں راشد فرزند، کامیڈین غفار لہری،سینئر اداکار و ڈائریکٹر سہراب افگن،اداکار و رائٹر افتخار افی،سینئر اداکار ظفر عباس کھچی ،ڈائریکٹر عتیق الرحمن ،پروڈیوسرپی ٹی وی شوکت چنگیزی،گلوکارمزمل حسنین حیدر،رائٹر عطاء اللہ عالی،اداکار ڈیشی راج،ایان شاہ،اداکار و ماڈل عینی خان،ڈی او پی ایس کے شاہ ،شہزاد سنتو قوال،اداکار و رائٹر آغا عباس،سینئر اداکار عباس باجوہ،اداکار سلیم شاد،رائٹر ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک ،کلاسیکل گائیک چاند خان ،سورج خان ،کامیڈین سرفراز وکی،اداکارہ ثمینہ بٹ ،کامیڈین عابد شاہ،اداکار علی اصغر،فاروق اسماعیل،کامیڈین انور ماہی اوراداکارہ ردا عاصم کے نام نمایاں ہیں۔اداکارہ ،ماڈل اور پرفارمر ماہ نور نے کہا کہ ’’صبح آزادی کا قرض ابھی باقی ہے ابھی تک نا مکمل ہے مگر تعبیر آزادی‘‘ آج جب ہم اپنے بزرگوں سے جو اِن واقعات کے چشم دید گواہ اور راوی ہیں سوال کرتے ہیں کہ آپ نے یہ قربانیاں کس لئے دی تھیں تو وہ ہمیں فوراً ہی جواب دیتے ہیں ’’اْس پاکستان کیلئے جس کا مقصد ’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الاللہ ، قانون ریاست کیا ہوگا محمد رسول اللہ ‘‘ تھا، یہ کوئی جذباتی بات یا نعرہ نہیں بلکہ وہ ٹھوس اور زندہ حقیقت ہے جسے بتدریج ایک منظم طریقے سے بھلایا جارہا ہے اور ہم بھولتے جارہے ہیں۔یہی وہ اصل حقیقت، عزم اور منزل کے حصول کے ساتھ ایک ایسا وعدہ تھا جو ہم نے اللہ اور اْس کے رسول ؐکے ساتھ کیا تھا ،اور اسی وعدے پر مسلمانان برصغیر نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے قیام پاکستان کی تاریخ ساز جدوجہد کی تھی، اس خواب کو تعبیر بخشنے کیلئے ہمارے قائدین نے قربانیاں دیں، تحریکیں چلائیں، گھر بار زمین و جائیدادیں چھوڑی اور عوام کیلئے پاکستان کا جواز فراہم کیا، جس کی وجہ سے لاکھوں مسلمانوں نے آگ و خون کے دریا عبور کئے، ماؤں نے معصوم بچوں کو نیزوں کی انیوں پر اچھلتے دیکھا، عورتوں نے اپنے سہاگ اجڑتے دیکھے اور گھر بار، عزیز و اقارب اور اپنے پیاروں کے نام و نشان چھوڑ کر پاکستان کیلئے عازم سفر ہوئے اور ہجرت کی۔میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ غلامی کی لعنت حساس افراد اور زندہ قوموں کیلئے ہمیشہ ذہنی اذیت، روحانی بے چینی اور قلبی درد و کرب کا باعث بنتی ہے حقیقت یہ ہے کہ احساس غلامی اور محرومیت نے ہمیشہ محکوم اور غیور انسانوں اور غیرت مند قوموں کے لہو کو گرم رکھا اور نتیجتاً حکمران قوموں کی ظاہری شفقت و مہربانی اور آئین پسندی کے باوجود محکوم قوموں نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈالا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ غلامی کی زنجیریں ٹوٹنے کا عمل کبھی خاموش نہیں ہوتا، غلامی کی زنجیروں پر موت کے رقص ہوتے ہیں۔فلم،ٹی وی اور سٹیج کی معروف اداکارہ ،ماڈل اور پرفارمر قتالہ سٹیج میگھا نے کہا کہ آزادی کے متوالے سولیوں پر چڑھتے ہیں، سروں کے نذرانے پیش کئے جاتے ہیں، جانوں کی قربانی دی جاتی ہے اور شہداء کے بہتے ہوئے خون سے دریا سرخ ہوجاتے ہیں، گاؤں دیہات لٹتے ہیں، شہر جلائے جاتے ہیں لیکن آزادی کے متوالے آگ و خون کے دریاؤں سے گزر کر آزادی کی منزل تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ان آگ و خون کے دریاؤں سے گزرنے کا احساس اور تجربہ برصغیر کے مسلمانوں سے زیادہ کسی اور قوم کو نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ غلامی کا طوق گلے سے اتارنے کیلئے ہمیشہ سینہ سپر رہے، انہوں نے ہندو قوم کی طرح عزت و آزادی کے سودے نہیں کئے، پلاسی کے میدان سے لے کر سرنگا پٹم کی سرزمین تک، 1857ء کی جنگ آزادی سے لے کر تحریک خلافت، تحریک ہجرت اور تحریک عدم تعاون تک، جلیانوالہ باغ کے المیہ سے لے کر واقعہ کانپور مچھلی بازار، سانحہ مسجد شہید گنج اور حادثہ قصہ خوانی بازار تک، ایسے تمام مواقع پر مسلمانانِ ہند جرات و بہادری کے ساتھ بڑھ چڑھ کر مردانگی کا مظاہرہ کرتے رہے اور اپنے خون سے آزادی کے چراغ روشن کرتے دکھائی دئیے۔سینئر اداکار ورائٹر آغا عباس نے کہا کہ مسلمانان برصغیر کی جدوجہدِ آزادی بلاشبہ انتہائی کٹھن اور صبر آزما کام تھی اور مسلمانوں کو کئی محاذوں پر برسرپیکار رہنا پڑا، ایک طرف انگریز کی غلامی سے نجات کا مرحلہ درپیش تھا تو دوسری طرف ہندو ببنیے کے متوقع رام راج کے برسراقتدار آنے کے خطرات لاحق تھے، انگریزوں اور ہندوؤں دونوں کی غلامی کے طوق انہیں اپنی گرفت میں لینے کیلئے بے چین تھے، کیونکہ دونوں ہی مسلمانوں کے ازلی دشمن تھے، انگریزوں کے ذہن سے صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کبھی محو نہیں ہوسکی اسی طرح ہندو برصغیر کے میدانوں میں سلطان محمود غزنوی، سلطان محمد غوری، ظہیر الدین محمد بابر، احمد شاہ ابدالی جیسے مایہ ناز سورماؤں اور جری جرنیلوں کے ہاتھوں اپنی ذلت آمیز شکستوں کے واقعات نہیں بھولے تھے۔سینئر اداکارہ عذرا آفتاب نے کہا کہ جب آزادی کی گھڑیاں قریب آئیں تو دونوں قوموں نے اپنے سینوں میں چھپائی ہوئی برسوں کی دشمنی، نفرت اور بغض کا برملا اظہار کیا۔میاں راشد فرزند نے کہا کہ انگریز نے حالات و واقعات سے مجبور ہوکر مسلمانان برصغیر کا مطالبہ تو منظور کرلیا لیکن پاکستان کے وجود کو گہری اور خطرناک ضربیں لگانے سے باز نہیں آئے، پاکستان میں شامل ہونے والے دو بڑے صوبے بنگال اور پنجاب کو تقسیم کردیا گیا، باؤنڈری کمیشن سے تمام بے اصولیاں کرائیں گئیں، الغرض پاکستان کو لولا لنگڑا بنانے کیلئے انہوں نے تمام ممکنہ کوششیں روا رکھیں۔سینئر اداکارہ راحیلہ آغانے کہا کہ ہندوؤں اور سکھوں نے بھی اگرچہ پاکستان کے قیام پر بظاہر رضا مندی ظاہر کردی تھی لیکن اندرونی طور پر وہ پاکستان کے وجود کو چند ساعتوں یا چند مہینوں سے زیادہ دیکھنے کے متحمل نہیں تھے، وہ برصغیر کے مسلمانو ں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے اور خاص کر انہوں نے بھارت میں شامل ہونے والے علاقوں کے مسلمانوں پر لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا، مسلمانوں کے محلے قصبے، شہر اور دیہات لوٹے انہیں آگ لگائی، ہزاروں لاکھوں بے گناہ بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کو تہہ تیغ کیا، نوجوان لڑکیوں اور عورتوں کو اغوا کیا، نواکھلی سے لے کر لاہور تک، کشمیر سے لے کر راس کماری تک غریب مسلمانوں پر ایک قیامت گزر گئی، پورا مسلم ہندوستان جل رہا تھا، بہار سے لے کر مشرقی پنجاب تک آگ لگی ہوئی تھی، لیکن انگریزوں کا ’’نیرو‘‘ لارڈ ماونٹ بیٹن اور ہندوؤں کا’’ نیرو‘‘ مہاراجہ پٹیالہ جو پنجاب کا رنجیت سنگھ بننا چاہتا تھا چین سے بیٹھے بانسری بجارہے تھے، مسلمانوں کی دنیا لٹتی رہی اور مسلمانوں کے ازلی دشمن 14اگست 1947ء کی صبح آزادی تک بانسری بجاتے رہے۔ڈائریکٹر عتیق الرحمن نے کہا کہ پاکستان سے محبت عبادت ہے چودہ اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اسلامی جمہوری مملکت پاکستان کی شکل میں ابھری، جس کے قیام کیلئے مسلمانان ہند نے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑی، یہ وہ سیاسی اور جمہوری حقوق کی بازیابی کی جنگ تھی جس کیلئے مسلمانانِ ہند نے قید و بند کی صعوبتیں تو ایک طرف ہزاروں ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کی شہادت سے، ہزاروں بہنوں نے اپنی عزتوں اور عفتوں کے نذرانے دے کر اور ہزاروں معصوموں نے بوڑھوں نے اپنی جانوں کی بازی ہار کر ظالم و متعصب انگریزوں اور ہندوؤں سے اپنے پاک وطن کی آزادی حاصل کی۔ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک نے کہا کہ حصول پاکستان کی طویل جدوجہد پر مبنی تاریخی واقعات زندہ اور باغیرت قوم کی تاریخ ہیں جو آج ہمارے لئے قابل رشک اور قابل زکر ہیں، یہ اْن نیک جذبوں اور پاکیزہ آرزوؤں کی تاریخ ہے جس کی قوت اثر سے ہندوستان کی تین سو سالہ شب ظلمت کا سینہ چیر کر آزادی کا سورج طلوع ہوا مگر اِن پاکیزہ فولادی جذبوں کی تاریخ کا آخری باب گیارہ ستمبر 1948ء4 کو بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمدعلی جناح کی وفات کے ساتھ ہی ختم اور مکمل ہوگیا اور اْس کے بعد جس تاریخ کا آغاز ہوا اْس کے صفحات پر کارناموں کی جگہ المیے رقم ہوئے۔بابائے قوم اور شہید ملت لیاقت علی خان کی وفات کے بعد سے تا حال ہماری قومی تاریخ المیوں در المیوں کی تاریخ ہے جس کے صفحات کا ایک سرا مقبوضہ کشمیر کی لہو رنگ وادی، سری نگر کے خوں آلود پہاڑوں سے لے کر ڈھاکہ اور چٹاگانگ کی خون آلود گلیوں تک پھیلا ہوا ہے تو دوسر سرا صوبہ بلوچستان و سرحد کے کوہساروں سے لے کر کراچی کی سڑکوں تک سسکتی ہوئی مظلوم انسانیت اور بے بسی و لاچارگی کی تاریخ بیان کرتا ہے، اِن المیوں نے ہمیں ایک متحد و منظم قوم سے چھوٹے چھوٹے انسانی گروہوں اور بکھرے ہوئے بھیڑوں کے ریوڑ میں تبدیل کردیا۔انگریزوں اور ہندو بنیے سے لڑ کر پاکستان حاصل کرنے والی قوم جغرافیائی، لسانی اور نسلی تضادات میں الجھ کر بکھر گئی، اقتدار مافیا نے کبھی جمہوریت، کبھی اسلام، اور کبھی غریب پروری کے لبادوں میں روپ بدل بدل کرجمہوریت کی دھجیاں اڑائیں، اسلام کے ساتھ کھلا مذاق کیا اور سیاست کا وہ کھیل کھیلا جس کے احوال دیکھ کر شاید گورستانوں کے گل فروش بھی شرمندہ ہوتے ہوں،سیاستدانوں کی باہمی چپقلش ،سیاسی مفادات کی کالی آندھی نے تحریک پاکستان کے مقاصد کے ساتھ ساتھ قرار داد مقاصد کو بھی نہ صرف دھندلا کر رکھ دیا بلکہ بانیان پاکستان اور تحریک پاکستان کے گمنام شہیدوں کی ارواح کو بھی زخم لگائے جنہوں نے اپنا سب کچھ اس مملکت عظیم کے قیام کیلئے قربان کیا تھا۔سینئر اداکار راشد محمود نے کہا کہ قوم گزشتہ 71برس سے اپنی ناکام تمناؤں اور حسرتوں کے لاشے اٹھائے امید بر آس رہی جبکہ حکمرانوں نے ہر مرتبہ وطن عزیز پاکستان کے جواز کی توہین کی اور قیام پاکستان کے بنیادی مقصد کو فراموش کردیا، جس کی بنیاد پر تحریک پاکستان چلائی گئی اور یہ توہین ہے اْس تاریخ کی جس کی پیشانی پر اسلام کی 12سو سالہ حکمرانی کا تاج سجا رہا اور جس نے دنیا کو رہنے، سہنے اور جینے کے ڈھنگ اور قرینے سکھائے۔رائٹر دائریکٹر پرویز کلیم نے کہا کہ آج اسی قوم کی تباہی و بربادی پر باطل ہنس رہا ہے، قوم بانیان پاکستان کی قربانیوں اور مقاصد کو بھول کر مفادات میں الجھ گئی ہے ہر کوئی کہیں بھی ہو اپنی مفاداتی جنگ سے باہر نہیں آرہا ہے، اس وقت قوم جس دور آشوب سے گزر ر ہی ہے وہ انتہائی خطرناک اور بھیانک منظر کی عکاسی کررہا ہے۔ سینئر اداکار اچھی خان نے کہا کہ دشمن چاروں طرف سے منہ کھولے ہمیں نگلنے کیلئے تیار کھڑا ہے لہٰذا اس نازک وقت میں ہمیں اسلام کی درخشاں تاریخ کی روشنی میں اپنے گھوڑے ہر لمحے تیار رکھنے چاہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دشمن نے پاکستان کو کبھی معاف نہیں کیا اْس کا تو مقصد ہی یہی تھا کہ پاکستان چند ماہ میں ختم ہوجائے لیکن وہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے اِس قول اور حقیقت کو بھول گیا کہ ’’پاکستان خدا کی مرضی ہے اور یہ مرضی پوری ہوکر رہے گی۔استاد رفیق حسین ،ظفر عباس کھچی،شوکت چنگیزی،غفار لہری ،عمون فدا،عباس باجوہ ،ببرک شاہ،عابد شاہ،ڈیشی راج ،شہزاد سنتو قوال،چاند خاں،سورج خاں،ردا عاصم ،سرفراز وکی،عینی خان،انور ماہی اور ثمینہ بٹ نے کہا کہ پاکستان قیامت تک زندہ رہے گا۔ ‘‘قائد اعظم کی اس بات کا ثبوت ہر سال لوٹ کر آنے والا ہمارا یوم آزادی ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دشمن خواہ کچھ بھی کرلے مشیعت ایزدی یہ ہے کہ پاکستان ٹوٹنے کیلئے نہیں بلکہ دنیا کے نقشے پر قائم رہنے کیلئے بنا ہے۔ پاکستان قیامت تک زندہ وآباد اور قائم و دائم رہے گا، دشمن کی کوئی چال کوئی حربہ پاک سر زمین کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا، ہم کل بھی آزاد تھے، آج بھی آزاد ہیں اور اپنے رب کی عطا سے کل بھی آزاد رہیں گے، آج ہم اس پاک سر زمین کے مرغزاروں، ریگزاروں، اور آباد قصبوں اور شہروں میں اپنی آزاد فضاؤں کے ساتھ محو رقص ہیں، یہاں کی سر سبز و شاداب وادیا ں ہمیں زندگی کے جبر سے بے خبر کئے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے دامن میں جاری دریا اور اس کی تہوں میں چھپے خزانے ہماری توانائیوں کے جواب میں اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے کیلئے تیار ہیں، یہاں کے پہاڑوں کی بلندیاں اور سمندر کی وسعتیں ہماری ہمتوں کی آزمائش کیلئے محو انتظار ہیں، قدرت کی اَن گنت عطیات اس خطہ ارضی کے دامن میں پوشیدہ ہیں۔لیکن افسوس کہ ہماری تمام توانائیاں سہل انگاری کی نظر ہوگئیں، ہماری خوابیدہ صلاحیتیں کسی معجزہ کے ظہور کا انتظار کررہی ہیں۔سینئر اداکار سہراب افگن نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سہل انگاری کے فریب اور معجزوں کے انتظار کے سحر سے باہر نکلیں اور سوچیں کہ وہ کون سے دشمن ہیں جنہوں نے ہمیں 71برس تک قیام کے پاکستان کی اصل منزل سے دور رکھا ہوا ہے، پاکستان ہمارے پاس اللہ اور اس کے رسول ؐکی امانت ہے، یہ امانت ہے اْن شہداء کی جنہوں نے اس کی بنیادیں اپنے گرم لہو سے اٹھائیں، یہ امانت ہے ہماری آئندہ نسلوں کی جنہیں کل اس کا پاسبان بننا ہے۔یاد رکھیں کہ پاکستان ایک حقیقت ہے یہ عطیہ خداوندی ہے اس نعمت سے فیضیابی کیلئے ہمیں اپنے آپ کو پورے خلوص اور عزم صمیم کے ساتھ تیار کرنا ہوگا جس طرح ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی انتھک محنت اور کامل جذبہ ایمان سے اسلام کے پیغام حق کو جزیرہ ہائے عرب کے ریگزاروں سے نکال کر دنیائے عالم کے گوشہ گوشہ تک پہنچایا تھا، آج ہمیں اْسی جذبہ اور ایمان کے ساتھ رخت سفر باندھنا ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت کے دروازے کھلتے جائیں گے اور گردوں سے آج بھی فرشتوں کا نزول قطار اندر قطار ہونا شروع ہوجائے گا، آئیے ہم سب مل کر اپنے بزرگوں کی اِس امانت کی حفاظت کریں۔سینئر اداکار و رائٹر افتخار افی اور عطاء اللہ عالی اور دیگر نے بھی ملے جلے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نامکمل عمارت کی تعمیر کریں، اور اْس تصور پاکستان کی تکمیل کریں جس کی تخریب ہمارے دشمنوں کا مقصد و مدعا ہے، آج تکمیل پاکستان کیلئے ہمیں وہی جذبے، وہی ولولے اور وہی قربانیاں دینا ہو ں گی جس کا نظارہ تشکیل پاکستان کے وقت ہمارے آباؤ اجداد نے پیش کیا تھا، آئیے اِس قافلے کے ہم رکاب بن کر تکمیل پاکستان کی جد وجہد کا عملی حصہ بنیے کیونکہ جسم و جاں پر صبح آزادی کا قرض ابھی باقی ہے۔’’لہو بر سا ، بہے آنسو ، لٹے رہرو ، کٹے رشتے ابھی تک نا مکمل ہے مگر تعبیر آزادی‘‘۔اس موقع پر تقریب کے شرکاء نے 71 ویں یوم آزادی پر اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آزادی بہت بڑی نعمت خداوندی ہے ہمیں ہر حال میں اس کا شکر اداکرنا چاہیے ۔شرکاء کا یہ بھی کہنا تھا کہ زندہ قومیں اپنا یوم آزادی دھوم دھام سے مناتی ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی کرتی ہیں انہوں نے کہاکہ ہمیں اس آزادی پر اپنے رب کا ہر حال میں شکر اداکرتے رہنا چاہیے کہ اس نے ہمیں اپنے پیارے ملک پاکستان میں سکھ کا سانس لینے دیا اور ہمیں غیروں کی غلامی سے آزادی دلائی ہمیں اس دن اپنے بزرگوں کی قربانیاں بھی یاد رکھنی چاہیے جنہوں نے اپنی جانیں ، عزت آبرو اور اپنی اولاد اس ملک پر قربان کیں اور ہمیں یہ وطن دلایا ۔شرکاء کا کہنا تھاکہ اس آزادی میں جہاں ہمارے بزرگوں کا لہو شامل ہے وہیں ہمارے سرحدوں کے محافظ ہماری پاک آرمی بھی سرفہرست ہے جس نے دشمن کے ہر حملے کو ناکا م بنایا اور ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا ہمیں اس دیس کے ان شہیدوں کے لئے بھی دست دعا اٹھانا چاہیے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہماری جان و مال کی حفاظت کی ۔شرکاء کا مزیدکہنا تھاکہ وہ اس یوم آزادی پر ملک و قوم کی سلامتی کے لئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام بھی کریں گے اور اس دن منعقد کی جانے والی تقریبات میں بھی خصوصی شرکت کریں گے۔پاکستان سے محبت عبادت ہے۔

مزید :

کلچر -