ابوبکر البغدادی کی دماغی موت ہوچکی ہے ، جان نشیبی کے لیے شدید اختلافات

ابوبکر البغدادی کی دماغی موت ہوچکی ہے ، جان نشیبی کے لیے شدید اختلافات

  

 بغداد(این این آئی)عراقی عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ رواں برس جون میں شام کے اندر عراقی فضائیہ کے ایک حملے میں زخمی ہونے کے بعد داعش تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی دماغی موت واقع ہو چکی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق عراقی فضائیہ کے طیاروں نے جون میں مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر شامی سرزمین پر داعش تنظیم کے رہ نماؤں کے ایک اجلاس کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں وہاں موجود کئی کمانڈر مارے گئے اور دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ذریعے نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں داعش کا سرغنہ ابوبکر البغدادی بھی تھا۔ شدید اور گہرے زخموں نے اس کو دماغی طور پر مردہ کر دیا اور وہ کچھ کر سکنے کے قابل نہیں رہا۔مذکورہ ذریعے نے البغدادی کی جاں نشینی کے حوالے سے تنظیم کی قیادت کے درمیان اختلافات کا بھی انکشاف کیا ۔ ذریعے کا کہنا تھا کہ داعش کے بعض غیر عراقی رہ نماؤں نے البغدادی کی جگہ لینے کے لیے ابو عثمان التونسی کو نامزد کیا ہے۔ اس کے سبب تنظیم کی صفوں میں غیر مسبوق نوعیت کے شدید اختلافات اور انقسام دیکھنے میں آ رہا ہے کیوں کہ عراقی رہ نماؤں نے التونسی کی نامزدگی کو مسترد کردیا ہے۔

مزید :

علاقائی -