قومی اسمبلی کے سپیکر ، ڈپٹی کا انتخاب آج، سید خورشید شاہ کا اسد قیصر سے مقابلہ ، مفتی اسد محمود کا قاسم سوری سے جوڑ پڑے گا ، پنجاب اسمبلی کا بھی اجلاس آج ہوگا

قومی اسمبلی کے سپیکر ، ڈپٹی کا انتخاب آج، سید خورشید شاہ کا اسد قیصر سے ...

  

 اسلام آباد لاہور ، کراچی (سٹاف رپورٹر ، نمائندہ خصوصی،آن لائن) سپیکر اورڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کا الیکشن آج (بدھ)کو ہوگا اس سلسلے میں چار امیدواروں کے کاغذات درست قرار پاگئے ہیں ۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدے کیلئے مجموعی طور پر چار امیدوار میدان میں ہیں ۔تمام امیدوار وں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہوگئی ہے ۔سپیکر کے عہدے کے لیے تحریک انصاف کے اسد قیصر اور متحدہ اپوزیشن کے امیدوار سید خورشید شاہ کے درمیان مقابلہ ہوگاجبکہ ڈپٹی سپیکر کے لیے تحریک انصاف کے قاسم سوری اور اپوزیشن کے اسد محمود میدان میں ہوں گے۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب خفیہ شماری سے ہوگا پہلے مرحلے میں سپیکر کا انتخاب ہوگا انتخاب قومی اسمبلی کے قاعدہ نو باب تین کے تحت ہوگا موجودہ سپیکر ایاز صادق نئے سپیکر کے لیے اجلاس کی صدارت کرینگے۔ اجلاس شروع ہونے کے بعد ووٹنگ کا عمل شروع ہوجائے گا کسی بھی رکن کو موبائل سے ووٹ کی تصویر بنانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ہر ووٹر کو بیلٹ پیپر سیکرٹری اسمبلی کی طرف سے جاری ہوگا ۔امیدوار اپنے دو دو پولنگ ایجنٹوں کے نام سپیکر کو دے سکیں گے۔ووٹرز لسٹ کے مطابق جب تمام ووٹرز ووٹ ڈال لینگے تو سپیکر ووٹنگ ختم ہونے کا اعلان کرینگے ۔امیدواروں اور پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی ہوگی ۔سپیکر سب کے سامنے نتیجے کا اعلان کرینگے۔کامیاب سپیکر سے سبکدوش سپیکر حلف لیں گے ۔نئے سپیکر اسی طریقہ کار کے تحت ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کروائے گا۔ قبل ا زیں تحریک انصاف کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے قاسم سوری نے اپنے کاغذات نامزدگی سیکرٹری قومی اسمبلی کے پاس سیکرٹریٹ میں جمع کرا دیئے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ بھی پارٹی رہنماوں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاوس پہنچے جہاں انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اوروہ متحدہ اپوزیشن کے نامزد امیدوار ہیں اس موقع پر سیکرٹری قومی اسمبلی نے خورشید شاہ کے کاغذات نامزدگی وصول کیے اس موقع پر دونوں کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ سیکرٹری قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ کے آنے سے پہلے ہم بلا مقابلہ انتخاب کا طریقہ دیکھ رہے تھے جس پر خورشید شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ تو میرے خلاف سازش تھی۔اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے خورشید شاہ کے تجویز کنندگان میں ان کے دیرینہ دوست سید نوید قمر، رمیش لعل، شازیہ ثوبیہ، مسرت مہیسر اور شاہدہ رحمانی شامل ہیں اس موقع پر انہوں نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپیکر ہمیشہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری پارلیمنٹ کا ہوتا ہے اور میں 30سال سے پارلیمنٹ ہاؤس میں سیاست کررہا ہوں جس کی وجہ سے تمام جماعتوں کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اس لیے اس وقت پارلیمنٹ کو ایسے اسپیکر کی ضرورت ہے جو سب جماعتوں کو ایک ساتھ لے کر چلے انہوں نے امید ظاہر کی کہ ارکان ووٹ کا فیصلہ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اسپیکر شپ کے لیے پی ٹی آئی کے اسد قیصر اور متحدہ اپوزیشن کے خورشید شاہ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کے نامزد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اتحادی جماعتوں سے بھی حمایت کے لئے رابطے جاری ہیں، مضبوط اپوزیشن بہترین گورننس کی علامت ہوتی ہے، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں ہماری واضح اکثریت ہو گی۔پاکستان کو اس وقت چیلنجز کا سامنا ہے، ہماری معیشت کو بھی چیلنجز درپیش ہیں سندھ اسمبلی میں 29 ویں وزیراعلی سندھ کا انتخاب کل 16 اگست کوہوگا،پیپلزپارٹی کے سید مراد علی شاہ اورمتحدہ اپوزیشن کے شہریارمہرمیں مقابلہ ہوگا،تحریک لبیک نے پیپلزپارٹی یا اپوزیشن کے کسی بھی امیدوارکوووٹ نہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے،قائد ایوان کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعہ ہوگا۔سندھ کے ستائیسویں وزیراعلی کے انتخاب کے لیے میدان سج گیا ہے سندھ اسمبلی کی اکثریتی پارٹی پیپلزپارٹی نے سابق وزیراعلی سندھ سید مرا دعلی شاہ کووزارت اعلی کا امیدوارنامزد کررکھا ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے فنکشنل لیگ کے شہریارمہرکومراد علی شاہ کے مقابلے میں میدان میں اتاردیا ہے۔سندھ اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی آج پندرہ اگست سے حاصل اوروصول کیے جاسکیں گے انتخاب کل16 اگست کوصبح دس بجے سندھ اسمبلی بلڈنگ میں خفیہ رائے شماری کیذریعہ ہوگا اورنئے منتخب وزیراعلی سندھ اسی روز شام کواپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔اسی طرحپنجاب اسمبلی کاپہلااجلاس (آج) بدھ کو ہوگا، اجلاس میں نو منتخب ارکان صوبائی اسمبلی اجلاس میں حلف اٹھائیں گے جبکہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں کیلئے انتخاب (کل) جمعرات کو ہوگا۔ اجلاس میں ممکنہ طور پر 297 میں سے 287 ارکان حلف اٹھائیں گے،وزارت قانون کی جانب سے اسمبلی اجلاس طلب کیے جانے کے لیے گورنر پنجاب کو سمری بھجوائی گئی تھی۔ دریں اثناپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت بنی گالہ میں مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب پر تبادلہ خیال کیا گیا ، اجلاس میں وفاقی کابینہ کے ناموں سمیت اہم امور پر مشاورت کی گئی ، جہانگیر ترین نے قومی اسمبلی کے آزاد اراکین سے رابطوں پر بھی عمران خان کو بریفنگ دی ۔اجلاس میں نعیم الحق، جہانگیر ترین ، اسد عمر ، عامر کیانی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی ۔ اجلاس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب پر تبادلہ خیال اور وفاقی کابینہ کے ناموں سمیت اہم امور پر مشاورت کی گئی ۔ جہانگیر ترین نے عمران خان کو آزاد ارکان سے رابطوں پر بھی بریفنگ دی اور 13میں سے 9ارکان قومی اسمبلی پی ٹی آئی میں شامل ہوئے جبکہ آزاد ارکان علی نوازشاہ ، اسلم بھوتانی پی ٹی آئی امیدواروں کو ووٹ دیں گے اور بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر بھی حمایت کریں گے ۔

مزید :

صفحہ اول -