عمران اسماعیل پر بوگس چیک کا مقدمہ ،8سال بعد ریکوری خواب، مدعی دھکے کھا کر مایوس

عمران اسماعیل پر بوگس چیک کا مقدمہ ،8سال بعد ریکوری خواب، مدعی دھکے کھا کر ...

  

ملتان (وقائع نگار)ضلعی پولیس کی عدم توجیہی کے باعث پاکستان تحریک انصاف کے صوبہ سندھ کیلئے نامزد گورنر عمران اسماعیل تقریباً گزشتہ 8سالوں سے مقدمہ میں ملزم ہونے (بقیہ نمبر32صفحہ12پر )

کے باوجود گرفتار نہ ہوسکے۔ اور اسی وجہ سے ملتان پولیس کی ناقص کارکردگی کھل کرسامنے آئی ہے واضح رہے تھانہ ممتاز آباد میں جمیل اختر نامی شخص نے ایک تحریری درخواست دی ہے کہ 19مئی 2010میں عمران اسماعیل کیلیفورنیا نیچرل پروڈکٹس نامی ایک کمپنی کے ڈائریکٹر تھے۔ اس کمپنی نے ٹیٹرا پیک جوس اور دودھ کی ڈسٹری بیوشن کیلئے مجھ سے 40لاکھ روپے لیئے کئی عرصہ گزر نے کے باوجود ڈسٹری بیوشن نہ ملی جس کے بعد عمران اسماعیل اور ندیم حسنین نے 20‘20لاکھ روپے مالیت کے دوعدد چیک دیئے چیکس مقررہ تاریخ پر کیش نہ ہونے پر ڈس آنر ہوگئے جس کے بعد تھانہ ممتاز آباد کی پولیس جمیل اختر کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 1051/10بجرم 489-Fدرج کیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملتان تھانہ ممتاز آباد کی پولیس کی عدم دلچسپی اور ضلعی پولیس افسران کی عدم توجہیی کے باعث مقدمہ میں نامزد ملزم عمران اسماعیل ودیگر ہونے کے باوجود گرفتار نہ کرسکی ہے اور ناقص کارکردگی کامظاہرہ کیاگیا، قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ اگر مذکورہ مقدمہ کا مدعی عدالت سے رجوع کرے تو آج بھی ملزمان کرگرفتار کیاجاسکتا ہے۔ جبکہ مقدمے کا مدعی تھانے دھکے کھاکھا کر گھر بیٹھ گیا ہے اور 40لاکھ کی ریکوری کھٹائی میں پرگئی۔

عمران اسماعیل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -