صوابی ، ایئر فورس کے ریٹا ئرڈاہلکار کے قتل کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

صوابی ، ایئر فورس کے ریٹا ئرڈاہلکار کے قتل کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

  

صوابی (بیورورپورٹ)صوابی میں منگل کی علیٰ الصبح نا معلوم سی ٹی ڈی اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے ائیر فورس سے ریٹائرڈ اہلکار نور الحق کے قتل کے خلاف ہزاروں افراد نے امن چوک صوابی میں لاش کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کر کے جہانگیرہ مر دان اور ٹوپی روڈ کو کئی گھنٹے تک مکمل طور پر بند رکھااور مظاہرین نے دھرنہ دیا۔ پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ ہونے پر مظاہرین کا لاش کے ساتھ احتجاج جاری رہا۔ مظاہرین سے مقتول کے چچا زاد بھائی ضلع کونسل کے رکن جہانزیب خان نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ائیر فورس سے ریٹائرڈ ان کے چچا زاد بھائی نور الحق معمول کے مطابق اپنے گھر میں اہل خانہ کے ہمراہ سوئے تھے کہ اس دوران دوسرے علاقے سے نامعلوم سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گھر کے دیوار کو پھلانگ کر اندر داخل ہو کر بچوں کے سامنے ان کو قتل کر دیا اور لاش کو بوری میں بند کر دیا ۔ اور اس کا علم ہمیں فائرنگ سے زخمی اہلکار کے ساتھ مقتول کا لاش ہسپتال لانے سے ہمیں ہوا۔اس دوران مقامی پولیس بھی بے خبر رہی سہ پہر نماز ظہر کے بعد دو بجے جنازہ ادا کرنے کے لئے میت کو امن چوک لایا گیا تو اس دوران عوام نے امن چوک صوابی میں مقتول نور الحق کی لاش سڑک پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کر کے تمام روڈ کو بند رکھا مظاہرین سے ضلع کونسل کے رکن جہانزیب خان کے علاوہ قومی وطن پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد سلیم ایڈوکیٹ، مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر حاجی شیراز خان، جنرل سیکرٹری حاجی دلدار خان، تحصیل جنرل سیکرٹری ربنواز خان، جلیل احمد خان، پی پی پی کے جاوید اقبال انقلابی ایڈوکیٹ ، اصلاحی جر گہ کے صدر نور اللہ ، حافظ عبدالمنعم،پی ٹی آئی کے شاہ ولی خان، امتیاز خان، یوسف علی ، قومی وطن پارٹی کے چیر مین مسعود جبار، ضلع کونسل کے رکن سلیم خان اور دیگر نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ نور الحق کسی بھی مقدمے میں مقتول نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ماورائے عدالت قتل کیا گیا جو کہ غیر قانونی ، غیر اسلامی اور غیر اخلاقی اقدام ہے ۔ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے چادر اور چار دیواری کا تحفظ پامال کر کے مقتول نور الحق کو اپنی بیوہ بچوں کے سامنے قتل کر دیا۔ اس قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے انہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس آف پاکستان کتے مارنے کے واقعہ پر سو موٹو ایکشن لے سکتا ہے تو ایک انسان اور مسلمان کے بے گناہ قتل پر کیوں سوموٹو ایکشن نہیں لیتا ہے ۔ آخر قانون کیوں مجبور ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک ایف آئی آر درج نہیں کرائی جاتی تب تک ہم لاش کے ساتھ احتجاج کرینگے لہٰذا پولیس ایف آئی آر درج کر کے عدالت ہمیں انصاف دیں اگر عدالت نے انصاف نہیں دیا تو روز محشر اللہ کے سامنے یہ لوگ جواب دہ ہونگے۔ اس قتل کی جوڈیشل انکوائری کی جائے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے۔مظاہرین اور مقامی پولیس کے مابین ایف آئی آر درج نہ ہونے پر مذاکرات ناکام رہے اور مقتو ل کے چچا زاد بھائی جہانزیب نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر درج نہ ہونے پر ہم مقتول کو امن چوک صوابی میں دفن کرینگے۔آخری اطلاع تک احتجاج لاش کے ساتھ جاری تھا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -