وہ چیز جو اللہ نے ہم سب کے ہاتھوں میں تھما رکھی ہے 

15 اگست 2018 (12:56)

ابویحییٰ

سورہ رحمن قرآن مجید کی ایک بڑی خوبصور ت سورت ہے۔ اس کی ایک آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و قدرت کی نشانیوں کے ضمن میں ایک بات اس طرح بیان کرتے ہیں۔

’’اس نے آسمان کو بلند کیااور اس میں میزان قائم کردی ہے کہ تم بھی میزان میں تجاوز نہ کرو اور ٹھیک تولوانصاف کے ساتھ اور وزن میں کمی نہ کرو۔‘‘،(الرحمن7۔9:55)

ان آیات میں میزان کا لفظ جب وزن کے ساتھ استعمال ہوا ہے تو ترازو کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ تاہم پہلی آیت میں آسمان کے ساتھ میزان لفظ مجازاً استعمال ہوا ہے۔ یعنی آسمان اور ا س میں موجود تمام اجرام فلکی اگر بغیر کسی سہارے کے فضا میں بلند نظر آتے اور اپنے متعین دائروں میں گردش کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک ضابطے قاعدے کا پابند کررکھا ہے۔

یہ اصل تصوّر ہے جس کے بیان کے لیے آسمان میں میزان رکھنے کی تعبیراستعمال کی گئی ہے۔ اس کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ جس طرح میزان یا ترازو کے دونوں پلڑو ں میں وزن اور شے برابر رکھے جائیں تو ترازو کے دونوں پلڑے ہاتھ لگائے بغیر فضامیں معلق ہوجاتے ہیں اسی طرح آسمان اور اجرام فلکی بغیر کسی ظاہری سہارے کے فضا میں معلق ہیں۔

اپنی اس عظیم قدرت کی طرف توجہ دلاکر اللہ تعالیٰ نے اس سے متعلق جو چیز بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ جس طر ح میں نے آسمان پر ایک میزان رکھی ہے، زمین پر میں نے تمھارے ہاتھوں میں بھی ایک میزان تھمائی ہے۔ تم بھی اپنے دائرے میں عدل، ضابطے، قاعدے کی یہی میزان قائم رکھو اور اس میں تجاوز نہ کرو۔ پھر اس کی ایک مثال بالکل واضح طور پر ناپ تول کے پیمانے سے دے دی ہے کہ تم وزن پورا تولو اور اس میں کمی نہ کیا کرو۔ میزان یا ترازو کو زندگی میں قائم و دائم رکھنا ہی وہ بنیادی دینی مطالبہ ہے جسے قرآن مجید دیگر مقامات پر عدل و انصاف کے عنوان سے بیان کرتا ہے۔جنت اسی بنیادی مطالبے کو ماننے کا نتیجہ ہے۔

اپنی اس عظیم قدرت کی طرف توجہ دلا کر اللہ تعالیٰ نے اس سے متعلق جو چیز بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ جس طر ح میں نے آسمان پر ایک میزان رکھی ہے، زمین پر میں نے تمھارے ہاتھوں میں بھی ایک میزان تھمائی ہے۔ تم بھی اپنے دائرے میں عدل، ضابطے، قاعدے کی یہی میزان قائم رکھو اور اس میں تجاوز نہ کرو۔پھر اس کی ایک مثال بالکل واضح طور پر ناپ تول کے پیمانے سے دے دی ہے کہ تم وزن پورا تولو اور اس میں کمی نہ کیا کرو۔ میزان یا ترازو کو زندگی میں قائم و دائم رکھنا ہی وہ بنیادی دینی مطالبہ ہے جسے قرآن مجید دیگر مقامات پر عدل و انصاف کے عنوان سے بیان کرتا ہے۔جنت اسی بنیادی مطالبے کو ماننے کا نتیجہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی تمام کی تمام ایک نازک توازن پر قائم ہے۔ یہ توازن رشتوں اور تعلقات کا توازن ہے۔ میاں بیوی، اولادوالدین، بھائی بہن،اقربا و احباب، مستقل اور عارضی پڑوسی ،استاد اور شاگرد، آجر اور اجیر، تاجر اور گاہک، ریاست اور فرد اور سب سے بڑھ کر بندے اور رب کاتعلق ہی وہ ڈور ہے جس میں تمام انسان ہر وقت بندھے ہوتے ہیں۔ہم اپنے مفاد، خواہش اور انانیت کی وجہ سے اکثر وبیشتر ان تعلقات میں دراڑ ڈال دیتے ہیں۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم اس میزان میں تجاوز کردیتے ہیں جسے خدا نے آسمان میں رکھنے کے بجائے زمین پر ہمارے ہاتھ میں تھمادیا تھا۔

اس تجاوز کا ایک طریقہ یہ ہوتاہے کہ ہمارے لینے اور دینے کے پیمانے بالکل جدا ہوتے ہیں۔ ہم دوسروں کی غلطیاں یاد رکھتے ہیں، اپنی بھول جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کے فرائض یاد رکھتے ہیں، اپنے فراموش کردیتے ہیں۔ ہم دوسروں کی آنکھ میں تنکے ڈھونڈتے ہیں اور اپنی آنکھ کے شہتیر کو دیکھنے کے لیے اندھے بن جاتے ہیں۔ہم اپنی خواتین کے لیے تحفظ چاہتے ہیں، مگر دوسروں کی خواتین کو وہ تحفظ اور احترام دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔اپنی بہو سے بدسلوکی کرتے ہیں اور بیٹی کی سسرال سے حسن سلوک کا مطالبہ کرتے ہیں۔ہم تنخواہ پوری لیتے ہیں، کام پورا نہیں کرتے یا کام پورا لیتے ہیں، لیکن تنخواہ بہت کم دیتے ہیں۔

ہم یہ سب کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں جو میزان تھمائی گئی ہے وہ عنقریب ہم سے لے لی جائے گی۔ اور پھر ہمارا سخت ترین احتساب شروع ہوگا۔ جب یہ ہوگا تو تجاوز کرنے والوں کا انجام جہنم کی آگ کے سواکچھ اور نہیں ہوگا۔

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزیدخبریں