فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر496

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر496
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر496

  

بمبئی میں کیفی اعظمی نے عملی زندگی کا آغاز ایک رسالے کی ادارت سے کیا تھا۔ تیس روپے ماہانہ تنخواہ تھی اور بمبئی جیسا غدار شہر مگر دولت کی انہیں طمع نہ تھی۔ اگر دولت کی چاہ ہوتی تو زمینداری کے ٹھاٹ باٹ تج کر کیوں آتے؟

کیفی اعظمی کی بیگم شوکت تھیٹرکی نامور اداکارہ تھیں۔ دونوں کی محبت مثالی تھی۔ دونوں فن کارانہ مزاج کے حامل تھے۔ شادی کے بعد تیس روپے ماہوار میں گزار کرنا مشکل تھا اس لیے بیگم شوکت اعظمی نے ڈراموں میں اداکاری کو مستقل پیشہ بنا لیا۔

بمبئی بہت بڑا فلمی مرکز تھا جہاں ادیبوں اور شاعروں کو فلموں کے لیے کام کر کے معقول معاوضہ مل جاتا تھا۔ دوستوں کے اصرار پر کیفی اعظمی نے بھی فلموں میں نغمہ نگاری شروع کردی۔ عصمت چغتائی اور ان کے شوہر شاہد لطیف بھی ان کے ہم عصر ، ہم خیال اور دوست تھے۔ ان دونوں نے فلم ’’بزدل‘‘ کا آغاز کیا تو کیفی اعظمی کو گیت نویسی کے لیے گھیر لیا۔ یہ فلمی گیت نگار کی حیثیت سے ان کی پہلی فلم تھی۔ یہ بہت معیاری اور خوبصورت فلم تھی۔ نمی اور پریم ناتھ نے مرکزی رومانی کردار کیے تھے لیکن کہانی کا مرکزی کردار کشور سا ہونے ادا کیا تھا۔ یہ انتہائی خوبصوت ، انوکھا اور نفسیاتی کردار تھا۔ عصمت چغتائی نے جیسا کردار تخلیق کیا تھا ، شاہد لطیف اور کشور سا ہونے اس کو ہو بہو اسکرین پر پیش کر دیا تھا۔ یہ ایک نفسیاتی مریض اور دہری شخصیت کا حامل کردار تھا جو اپنے بھائی سے بے پناہ پیار بھی کرتا تھا اور اس کا رقیب بھی تھا۔ دنیا کی نظروں میں وہ اتار تھا لیکن در حقیقت اس کے اندر ایک شیطان چھپا ہوا تھا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر495پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’ بزدل‘‘ ہر لحاظ سے بہت اعلیٰ درجے کی فلم تھی۔ ہم نے بھی کئی بار دیکھی تھی۔ سعادت حسن منٹو صاحب کے گھر ہمارا آنا جانا تھا۔ اس فلم کے بارے میں ان سے بھی گفتگو ہوئی ۔ انہوں نے اس قسم کے اور موضوع بھی ہمیں سنائے جنہیں فلم کے لیے لکھنے کا انہیں موقع نہیں مل سکا۔

کیفی اعظمی کو پہلے گیت کامعاوضہ پانچ سو روپے ملا تھا۔اس کے بعد انہوں نے دوسری فلموں کی نغمہ نگاری بھی کی لیکن فلمی نغمات کی آمدنی کمیونسٹ پارٹی کے فنڈ میں دے دیا کرتے تھے۔ گھر کے خرچ کے لیے تیس چالیس روپے دیتے تھے۔ باقی اخراجات بیگم شوکت اپنی اداکاری سے پورے کرتی تھیں۔ ذرا سوچئے کہ یہ کیسے لوگ تھے جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے محض زبانی باتوں اور خوشنما وعدوں پر یقین نہیں کرتے تھے بلکہ تکلیف سہتے تھے ، دکھ اٹھاتے تھے۔ خود کو اور اپنے بیوی بچوں کو روکھی سوکھی کھلاتے تھے لیکن اپنے مقصد سے روگردانی نہیں کرتے تھے۔ اور ان کے بیوی بچے بھی قابل تعریف ہیں جو ان کے ساتھ پورا تعاون کرتے تھے۔ آج تو اولاد اور بیگمات اپنے اپنے گھر کے سربراہوں کو طعبے دے دے کر ان کی زندگی وبال کردیتی ہیں کہ دیکھئے ، دوسرے لوگ کیسے عیش اڑا رہے ہیں ۔ مگر ہمارا نالائق اور نکما باپ اپنی دیانت داری اور اصول پرستی کی خاطر ہمیں ہر آسائش سے محروم رکھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی کرپشن، بے ایمانی اور لوٹ کھسوٹ کا سبب بھی یہی ہے کہ اچھے برے کی تمیز ختم ہوچکی ہے۔ صرف پیسہ معیار ہے جو پیسا نہیں کھاتا وہ کام کے سلسلے میں تو دکھ اٹھاتا ہی ہے ، اپنے گھروالوں کی نظروں سے بھی گرجاتا ہے اور شب وروز ان کے طعنے ۔۔۔ سننے پر مجبو رہوجاتا ہے۔ ہم جب پرانے لوگوں اور گئے دنوں کے نوحے لکھتے اور بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ دور اور وہ لوگ اب مرچکے ہیں۔ ان کا سوگ منانے اور ماتم کرنے کے سوا ہم کچھ اور نہیں کرسکتے۔ اس لیے ترقی اور دولت کی ریل پیل کے باوجود ہر شخص بے سکونی ، بے اطمینانی اور بے چینی میں مبتلا ہے۔ انسان نے ترقی کے نام پر اپنا سبھی کچھ تو کھودیا ہے اور پھر بھی اسے اپنے اس زیاں کا احساس نہیں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کیفی اعظمی نے جب فلم ’’ بزدل‘‘ کے لیے اپنا پہلا فلمی گیت لکھا تو وہ اس وقت روپوش تھے کیونکہ حکومتی ادارے ان کی کھوج میں تھے۔ سرکار ان سے ناراض تھی۔ وہ چھپے پھرتے تھے۔ دن کہیں ، رات کہیں۔ اس بے سکونی کے عالم میں انہوں نے ’’ بزدل‘‘ کا نغمہ لکھا تھا۔ لتا منگیشکر کا گایا ہوا یہ نغمہ نمی پر فلمایا گیا تھا۔ اس کے بول اور طرز آج بھی کانوں میں گونج رہی ہے۔

روتے روتے گزر گئی رات رے

آئی یاد تری ہر بات رے

اس فلم کے موسیقار ایس ڈی برمن تھے۔ بہت ماہر اور گنی موسیقار تھے۔ ان کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ ایک ریاست کی شہزادگی چھوڑ کر موسیقی کے عشق میں بن باس لے لیا تھا اور پھر فلمی دنیا میں ان مٹ یادیں چھوڑ گئے۔

کیفی اعظمی نے فلموں کے لیے نغمات لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا اور کافی مقبولیت بھی حاصل کی لیکن ایک تو وہ مزاج کے اعتبار سے فلمی شاعر نہ تھے دوسرے فلم کی کہانی اور موسیقار کے لیے زیادہ وقت نہیں نکال سکتے تھے اس لیے دوسرے پیشہ ور نغمہ نگاروں کی طرح وہ یکسوئی سے یہ کام نہ کرسکے۔ ان کے لکھے ہوئے بہت سے نغمات بے حد مقبول ہوئے لیکن بعد میں مقبولیت میں کمی واقع ہوگئی۔ یہاں تک کہ ان کا فلمی دنیا سے واسطہ بہت کم رہ گیا۔ ان کے پاس فلمی دنیا کے لیے وقت نہ تھا اور بھلا فلم والوں کو انہیں تلاش کرنے کی کیا ضرورت پڑی تھی۔

اس طرح کیفی اعظمی صاحب کو فلمی مصروفیات تقریباً ختم ہوکر رہ گئیں۔ مگر یہ شخص پارٹ ون کا اختتام یا انٹرویل تھا کیونکہ قدرت انہیں ایک بار پھر فلمی صنعت میں واپس لانا اور مقبول و محبوب بنانا چاہتی تھی۔

اس وقت جبکہ کیفی اعظمی فلمی نغمات لکھنے کا ارادہ ترک کر چکے تھے ، اداکار دیو آنند کے بڑے بھائی اور معروف و ذہین ہدایت کار چیتن آنند کو ایک فلم بنانے کی سوچی۔ چیتن آنند صاحب بہت کم ، طویل وقفے کے بعد فلمیں بنانے کے عادی ہیں مگر جو فلم بھی بناتے ہیں وہ مختلف اور منفرد ہوتی ہے۔ اس بار انہوں نے ’’ حقیقت‘‘ کے نام سے ایک فلم بنانے کی ٹھانی اور یہ بھی طے کر لیا کہ اس فلم کے نغمات کیفی اعظمی ہی لکھیں گے۔ کیفی صاحب نے بہت لیت و لعل کی لیکن چیتن آنند نے ایک نہ سنی اور انہیں فلم ’’ حقیقت‘‘ کے گانے لکھنے پر آمادہ کرہی لیا۔ وہ دو ذہین ، تعلیم یافتہ اور ترقی پسند فن کاروں کا ملاپ تھا جس کے نیتجے میں ایک بہت خوبصورت فلم وجود میں آئی۔

عجیب بات یہ ہے کہ چیتن آنند کی یہ فلم باکس آفس پر بھی کامیاب ہوئی۔ بس پھر کیا تھا ، فلم سازوں نے کیفی اعظمی کے فلیٹ پر پڑاؤ ڈال دیے۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ اس کی فلم کے لیے نغمہ نگاری کریں۔

اس طرح فلمی صنعت میں کیفی اعظمی نے دوسراجنم لیا۔ اس کے بعد انہوں نے بہت سی فلموں کے نغمات تحریرکیے۔ وہ کم کام کرنے کے قائل تھے اور اس اصول پر قائم بھی رہے۔ اس کے باوجود انہیں فلمی نغمہ نگاری کے لیے وقت مخصوص کرنا پڑا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ فلم سازوں کے اصرارسے مجبور ہو کر وہ دوسرے کاموں کو ملتوی کرکے نغمہ نگاری کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اس دور میں انہوں نے بہت سی فلموں کے خوبصورت اور شاعرانہ نغمات لکھے جن میں شعلہ و شبنم ، لالہ رخ ، ایک گاؤں کی کہانی ، گیارہ ہزار لڑکیاں، قرار ، پروانہ ، گہرہ، ارتھ ، انوکھی بات کے علاوہ کاغذ کے پھول ، پاکیزہ اور ہیررانجھا (اردو) جیسی فلمیں بھی شامل ہیں۔ کاغذ کے پھول گو رودت کی فلم تھی۔ عام طور پر یہ تاثر ہے کہ یہ ان کی اپنی کہانی تھی۔ کسی حد تک یہ درست بھی تھا۔ اس فلم پر گورو دت نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیاتھا۔ بہت محنت اور لگن سے یہ فلم بنائی گئی تھی لیکن بدقسمتی سے وہ کامیاب نہ ہوسکی حالانکہ نقاروں نے اسے گورودت کی بہترین فلموں میں سرفہرست قرار دیا ہے۔ ہم نے بھی یہ فلم دیکھی ہے مگر ہمارے خیال میں اس فلم کا منظر نامہ اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے حیرت ہے کہ گورودت جیسے ذہین اور تجربہ کار ہدایت کار نے بعض بنیادی خامیوں کی طرف بھی وجہ نہیں دی حالانکہ وہ اس فلم کو ایک شاہکار بنایا چاہتے تھے۔ اس فلم کی ناکامی کا سبب ہمارے خیال میں اس کی سست رفتاری اور بے جان اور غیر حقیقی منظر نامہ تھا۔ بہرحال ، اپنا اپنا خیال ہے ۔ کاغذ کے پھول سے کیفی صاحب کو بھی بہت امیدیں وابستہ تھیں مگر اس فلم کے نغمات بہت دلکش تھے جو آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔

’’ پاکیزہ‘‘ کمال امرو ہوی کی یادگار فلم ہے۔ اس کی موسیقی نے فلم کی دلکشی اور حسن میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس فلم کا سب سے زیادہ مقبول نغمہ یہ تھا۔

یوں ہی کوئی مل گیا تھا

سرِ راہ چلتے چلتے

یہ کیفی اعظمی نے لکھا تھا اور موسیقار غلام محمد نے اس کی انتہائی خوبصورت دھن بنائی تھی۔ یہ نغمہ ہمیشہ کیفی صاحب کی یاد دلاتا رہے گا۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر497 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ