قطر سے تشریف لائے ہوئے نامور شاعر احمد اشفاق کے ساتھ ایک شام

15 اگست 2018 (17:01)

کویت(عرفان شفیق )دوحہ ،قطر سے تشریف لانے والے نامور شاعر احمد اشفاق کے اعزاز میں کویت میں مقیم بین الاقوامی شہرت کے حامل شاعر خالد سجاد احمد کی رہائش گاہ پر شعری نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں کویت میں مقیم شعراء کے علاوہ نامور ادبی شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ نشست کی نظامت منفرد لب ولہجہ کے شاعر مسعود حساس نے کی جبکہ مشاعرے کی صدارت سینئر شاعر عامر قدوائی نے کی۔ مہمان شاعر احمد اشفاق اور  میزبان خالد سجاد احمدکے علاوہ کویت میں مقیم شعرا میں سید صداقت علی ترمذی، ذوالفقار ذکی، خضر حیات خضر،مسعود حساس، عامر قدوائی، فیصل جمیل، اقبال ساحر، شہزادہ سلطان کیف، کمال انصاری،اور ایوب جھاپنڑ نے اپنا کلام پیش کیا۔ شعراء کے علاوہ کویت کی نامور شخصیات انجینیئر اشرف ضیا،لیاقت علی بٹ،  فاروق گھمن، ندیم مغل، ڈاکٹر خورشید، آفتاب جٹ، عامر روشن، اور عرفان ڈار کی شرکت نے محفل کو دوبالا کر دیا۔  میزبان محفل خالد سجاد احمد نے اہلِ کویت کی جانب سے مہمان شاعر کو خوش آمدید کہااور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔  سید صداقت علی ترمذی نے کہا کہ خالد سجاد احمد نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیشہ ہی ادب اور ادبی لوگوں سے محبت کی ہے،  جس کی تازہ مثال آج کی نشست ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خالد سجاد احمد  جیسی شخصیت کے دوستوں میں شمار نہ صرف میرے لئے بلکہ ہم سب  اہلِ کویت کے لئے قابلِ فخر اور باعثِ اعزاز بات ہے۔ انہوں نے ایک شاندار محفل کے انعقاد پر تمام شعراء کرام اور میزبان کو مبارکباد بھی پیش کی. تمام شعراء کرام نے سامعین سے خوب داد سمیٹی۔ نشست کے اختتام پر مہمانوں کے لئے عشائیے کا بھی انتظام کیا گیا۔

شعرا ء حضرات کا نمونہ کلام پیش خدمت ہے۔

سب جل گیا جلتے ہوئے خوابوں کے اثر سے 

اٹھتا ہے دھواں دل سے ، نگاہوں سے، جگر سے 

روٹھے ہوئے سورج کو منانے کی لگن میں 

ہم لوگ سرِ شام نکل پڑتے ہیں گھر سے 

احمد اشفاق 

وہاں وہاں سے زمانہ بعید ہے مجھ سے 

جہاں جہاں میرے نزدیک آ رہا ہے تو 

مجھے دکھائی نہیں دے رہا ہے کوئی چراغ

یہ کس کی لو سے بتا جگمگا رہا ہے تو 

خالد سجاد احمد 

تم خود ہی ذرا سوچو تہذیب ہے یہ کیسی 

اک گھر کو گرا ڈالیں اک گھر کو بنانے میں 

آئینہ دکھایا تھا دنیا کو محبت کا 

اب شرم سی آتی ہے تصویر دکھانے میں 

عامر قداوئی 

 کبھی نہ جھکنا ، کبھی نہ بکنا کہ خوف دل سے مٹا کے چلنا 

ہمارے لشکر کے ساتھ چلنا قلم کو طاقت بنا کے چلنا 

ہماری نسبت سنو ہے اُن سے سناں پہ سر جن کے بولتے ہیں 

جھکا کے سر کو بھلے چلو تم ہمیں تو ہے سر اٹھا کے چلنا 

سید صداقت علی ترمذیؔ

اپنے رقیب سے ہنس کلام کرتے ہوئے 

گزر گیا ہے وہ مجھ کو سلام کرتے ہوئے 

عجب کہ ڈوبنے والا تو مطمئن ہے مگر 

ڈرا ہوا ہے سمندر یہ کام کرتے ہوئے 

ذوالفقار ذکی

اس دل میں غموں کے سبھی دھارے ہیں تمہارے 

پلکوں پہ چمکتے یہ ستارے ہیں تمہارے 

خضر حیات خضر

ایسا نہیں کہ چاند ستارے بدل گئے 

لیکن تری نظر کے اشارے بدل گئے 

کمال انصاری

دو چار دس کے نام کو لینا فضول ہے 

الزام ایک شخص کے سر جانا چاہئے 

روٹی جہاں پہ بکتی ہو عزت کے بھاؤ پر

اس شہر کے امیر کو مر جانا چاہئے 

مسعود حساس

اک مولوی ہمارے مزاجا شریف تھے

غصہ مگر جناب اک دم کمال تھا 

قسمت سے ان کی مار کا جو بھی ہوا شکار 

سیدھے کہیں پہ بیٹھنا اس کا محال تھا 

ایوب جھانپڑ

بات اتنی سی ہے سمجھ لو

راہ جتنی بھی کٹھن ہو 

ساتھ چلنا ہے مجھ کو تیرے 

سانس چاہے آخری ہو  

فیصل جمیل 

وہ جو اپنا اپنا سا لگتا ہے 

دل نشیں ، دلربا لگتا ہے 

اقبال ساحر

مزیدخبریں