رسول خداﷺ نے روٹی کے ٹکڑے کئے اور فرمایا’’ دس دس لوگوں کو کھانے کے لئے بلا لو‘‘وہ ایمان افروز معجزہ رسول ﷺ جس کی بدولت کئی دنوں کے بھوکے درجنوں صحابہؓ نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا

رسول خداﷺ نے روٹی کے ٹکڑے کئے اور فرمایا’’ دس دس لوگوں کو کھانے کے لئے بلا ...
رسول خداﷺ نے روٹی کے ٹکڑے کئے اور فرمایا’’ دس دس لوگوں کو کھانے کے لئے بلا لو‘‘وہ ایمان افروز معجزہ رسول ﷺ جس کی بدولت کئی دنوں کے بھوکے درجنوں صحابہؓ نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا

  

اللہ کے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ سراپہ رحمت اور صبر وتحمل کا پیکر عظیم تھے ۔بھوک میں اپنے صحابہؓ کے ساتھ مشقت فرماتے اور جب کبھی کھانے کے لئے بظاہر چند نوالے میّسر ہوپاتے تواللہ اپنے حبیب ﷺ کے رزق میں ایسی کشادگی فرمادیتا کہ وہ کھانا جو عام طور پر ایک آدھ نفس کے لئے ہوتا تھا وہ درجنوں لوگ شکم سیر ہوکر تناول فرماتے اور کھانا پھر بھی بچ جاتا ۔ متعدد احادیث میں ایسے معجزات رقم ہیں کہ جب مشیت الٰہی سے معجزات کا ظہور ہوتا اور صحابہ کرامؓ اپنے محبوب آقاﷺ کے معجزات سے مستفیض ہوتے ۔بخاری شریف میں ایک حدیث مبارکہ میں اس معجزہ کا ذکر کیا گیا ہے جب رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھ کئی دنوں کے بھوکے صحابہؓ کو چند روٹیوں اور گھی سے پیٹ بھر کر کھانا کھلوایا اور وہ نور رحمت سے ختم نہ پایا ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیمؓ (والدہ حضرت انسؓ) سے فرمایا’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آواز سنی ہے جس میں ضعف محسوس ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھوکے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟‘‘ انہوں نے اثبات میں جواب دیا اور چند جو کی روٹیاں نکال لائیں۔ پھر اپنا ایک دوپٹہ نکالا اور اس کے ایک پلے روٹیاں لپیٹ دیں پھر روٹیاں میرے سپرد کر کے باقی دوپٹہ مجھے اْڑھا دیا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جانب روانہ کر دیا۔ 

میں روٹیاں لے کر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مسجد میں پایا ۔شمع رسالت کے گرد چند پروانے بھی موجود تھے۔ پاس جاکرکھڑا ہوگیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا’’ کیا تمہیں ابو طلحہ نے کھانا دے کر بھیجا ہے؟‘‘

میں عرض گزار ہوا’’ ہاں‘‘ پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا’’ کھڑے ہوجاؤ‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم چل پڑے۔ میں ان سے آگے چل دیا اور جاکر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بتادیا۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا’’ اے ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم لوگوں کو لے کر غریب خانے پر تشریف لا رہے ہیں اور ہمارے پاس انہیں کھلانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے‘‘ عرض گزار ہوئیں’’ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں‘‘ پس حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے استقبال کو نکل کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ رسول خداﷺ کے پاس جاپہنچے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیا اور ان کے گھر جلوہ فرما ہوگئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا’’ اے ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آو‘‘ انہوں نے وہی روٹیاں حاضر خدمت کردیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کے ٹکڑے کرنے کا حکم فرمایا اور حضرت ام سلیمؓ نے سالن کی جگہ کپی سے سارا گھی نکال لیا۔ پھر رسول خداﷺ نے اس پر وہی کچھ پڑھا جو خدا نے چاہا۔ پھر فرمایا کہ دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلالو۔ پس انہوں نے سیر ہوکر کھانا کھالیا اور چلے گئے۔ پھر فرمایا’’ دس آدمی کھانے کے لیے اور بلالو‘‘ چنانچہ وہ بھی سیر ہوکر چلے گئے۔ پھر دس آدمیوں کو کھانے کے لیے اور بلالو۔ پس انہیں بلایا گیا۔ وہ بھی شکم سیر ہوکر کھاچکے اور چلے گئے۔ پھر دس آدمیوں کو بلانے کے لیے فرمایا گیا اور اسی طرح جملہ حضرات نے شکم سیر ہوکر کھانا کھا لیا۔ جملہ مہمان ستر یا اسّی افراد تھے۔

مزید :

روشن کرنیں -