مولاناالطاف حسین حالیؒ

مولاناالطاف حسین حالیؒ

  

تنقید کو بطور مضمون پڑھانا اور پڑھنا دونوں جہاں اہمیت کے حامل رہے ہیں وہاں اس کے حوالے سے تفہیم وترسیل کے مسائل بھی جنم لیتے رہے ہیں،جہاں تک پوسٹ گریجویٹ لیول اور اردو میں اعلیٰ تعلیم کی تدریس کا تعلق ہے ، وہاں تنقید بطور مضمون طلباع وطالبات کو لازمی پڑھنا پڑھتا ہے ۔ یہ دوسرے مضامین کے مقابلے زیادہ تر طلبہ کو مشکل لگتا ہے، کیونکہ اُردومیں زیادہ تر جو نظریات پڑھائے جاتے ہیں ان کا تعلق یونانی ،انگریزی، روسی، فرانسیسی اور امریکی تنقید سے ہے۔ اردو تنقید کو عالمی تنقید سے ملانے کا پہلا کام مولانا الطاف حسین حالی نے انجام دیا۔ 1893ءمیں شائع ہونے والے ”دیوان حالی“ کے ”مقدمہ شعرو شاعری“ کو اردو میں جدید تنقید کا نقطہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔اسی کی بنا پر اردو میں حالی کو پہلا نقاد ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔

اردو شعروادب اورتنقید وتحقیق میں جدید رویوں اور نئے رجحانات کا آغازسرسید کی کثیر المقاصد تحریک کو قرار دیا جاسکتا ہے۔اسی تحریک سے جدید علمی وادبی دھاروں نے جنم لیا ہے۔ سرسید تحریک کے زیر اثر اردوادب کے لئے نئے اصول وضع کیے گئے اور وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اردو ادب کو مناسب اصلاح کے بعد موجودہ دور کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے نئے خطوط پر استوار کیا گیا،جس کے نتیجے میں نئی تنقید کے امکانات پیدا ہوئے ۔ بقول ڈاکٹر وزیر آغا : حالی اور سرسید کے دور میں ابھرنے والی تنقید نے ایسے ادب کی تخلیق پر زور دیا جو ہندوستانی سماج میں نمودار ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کو منعکس کر سکے“۔

حالی سے پہلے اردو میں تنقید زیادہ تر زبان کی صحت اور الفاظ و محاورات کے استعمال کے علاوہ مضمون آفرینی ، خیال بندی ، صنائع بدائع اور رعایت لفظی کے مباحث پر مبنی تھی۔پہلے پہل مقدمہ شعروشاعری الگ کتاب کی شکل میں شائع نہیں ہوئی تھی ، جب حالی نے اپنا دیوان ترتیب دیا تو اس پر ایک جامع قسم کا مقدمہ بھی لکھ ڈالا۔ بقول کلیم الدین احمد: حالی نے سب سے پہلے جزئیات سے قطع نظر کی اور بنیادی اصول پر غوروفکر کیا۔ شعروشاعری کی ماہیت پر روشنی ڈالی اور مغربی خیالات سے استفادہ کیا، اپنے زمانے اپنے ماحول اپنی حدودمیں حالی نے جو کچھ کیا وہ بہت تعریف کی بات ہے وہ اردو تنقید کے بانی بھی ہیں اور اردو کے بہترین نقاد بھی ۔مقدمہ شعروشاعری اردو میں گویا پہلی اور اہم ترین ناقدانہ تصنیف ہے“۔

حالی کے تنقیدی خیالات سے معلوم ہوتا کہ تنقید برائے تنقید کے بجائے موجودہ حالات کی روشنی میں ایک ایسی تنقید ہونی چاہئے جو کہ ایسے ادب کی نشاندہی کرے، جس سے ہمارے سماج کی برائیوں کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔انہوں پرانی تنقید کو ایک نئی شکل اور اصول وضوابط دیئے،کیونکہ اس سے پہلے تنقید میں تذکرہ نگاری کا عنصر غالب تھا۔

مقدمہ شعروشاعری سے پہلے مشرقی تنقید تذکروں سے آگے نہیں بڑھ پائی۔ ایسے میں مقدمہ شعروشاعری اردو تنقید میں ایک نیا سنگ میل ثابت ہوا جس نے تنقید کو نئے رستے دکھائے۔ تنقید کے ساتھ ساتھ شاعری کے نئے پیرا میٹر پر بھی بات کی گئی اور حقیقی شاعری اسے قراردیا گیا، جس میں اصلیت سادگی اور جوش پایا جاتا ہو۔

مولانا الطاف حسین حالی نے پہلی بار تنقید اور شعر گوئی کے لئے نئے ضابطے مقرر کئے اور سوانح نگاری کے ذریعے ادبی شخصیات پر عملی تنقید کے نمونے پیش کئے۔انہوں نے اردو میں پہلی بار شعر کی ماہیت پربات کی ۔ یادگارِ غالب، حیاتِ سعدی، حیاتِ جاویدجیسی کتابوں میں حالی نے نظری اور عملی تنقید کا مظاہرہ بھی کیا۔

مولانا الطاف حسین حالی نے مشرقی اور فارسی تنقید سے ایک قدم آگے بڑھ کر اردو تنقید کے لئے راستہ ہموار کیا۔

اور تنقید کے کے فن میں اولیت حاصل کی۔

حالی نے وزن اور بحر کے بجائے موضوع اور مواد کو ترجیح دینے کی بات کی۔وزن پر خیال کو فوقیت دی جیسا کہ راگ کو بول پہ اہمیت حاصل ہے۔

حالی نے اپنے مقدمہ شعروشاعری میں شعراءپر جو اعتراضات کیے ان کی وجہ سے انھیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، مگر ان کی باتوں کو لوگوں نے درست بھی تسلیم کیا، کیونکہ ان سے پہلے یہ باتیں کسی اور نے تنقید کے حوالے سے نہیں کی تھیں۔اس مقدمہ شعروشاعری کی وجہ سے انہیں مقبول عام بھی ملا۔

تنقید کے اصول وضوابط قائم کرنے کے پس پردہ حالی کا مقصد اصلاح احوال تھا،اسی لئے وہ ادب اور شعر کی اصلاح چاہتے تھے تاکہ ایک ایسا معاشرہ پیدا ہو جو کہ ہندوستان کے سماجی مسائل کو حل کر سکے۔ سماجی اصلاح ہی کے ذریعے سامراجی حکومت سے اپنے حقوق حاصل کرسکتے تھے، اگر سماجی اصلاح کا کام نہ ہوتا تو قوم بہت پیچھے رہ جاتی اور یہ کام تعلیمی اور ادبی سطح پر ہونا ضروری تھااور سامراجی حکومت کے خلاف قوم میں وطن سے محبت کے جذبات پیدا نہ ہوتے۔

ہیں اگر بے دردیاں اپنوں کی دل کو ناگوار

ناگوار اِن سے سوا غیروں کی ہیں غم خواریاں

(کلیات نظم حالی، جلد اول، ص107)

اپنے تنقیدی نظریات وخیالات میں انھوں نے ادب برائے اصلاح اور ادب برائے مقصد پر زور دیا ،وہ محض تفریحِ طبع کے لئے تخلیق کیے گئے ادب کے خلاف تھے اور ان کے انہی خیالات کی بنا پر ترقی پسندوں نے انہیں اپنا حامی وپیش رو قرار دیا۔ انہوں نے اپنے تنقیدی اور شعری نظریات کی وجہ سے قوم میں ایک نئی گرمی ، جوش اورولولہ ¿عمل پیدا کیا۔

حالی نے ادب برائے ادب کے بجائے ادب برائے اصلاح اور ادب برائے مقصد کی بات کی۔ درپردہ انہوں نے دراصل ادب زندگی کے لئے تخلیق کرنے کی بات کی جو کہ بعد میں سامنے آنے والی ترقی پسند تحریک کا منشور بنا۔حالی نے اپنے خیالات کے ذریعے اردو تنقید کو وہ وسعت اور سوچ کے زاویے دیئے جو اِس سے پہلے اردو تنقید میں مفقود تھے۔

مقدمہ شعروشاعری:

دیوان حالی کے اس مقدمہ کی وجہ سے حالی کی مخالفت بھی کی گئی خاص طور پر لکھنو¿ کے شعراءنے اس کی بھرپور مخالفت کی ، کیونکہ حالی نے شاعری کو پرکھنے کے جو اصول بیان کیے تھے ان کی روشنی میں اس دور کے بہت سے شعراءکا کلام اضافی اور بے مقصد تھا۔

اس سے پہلے تشبیہات واستعارات اور روزمرہ ومحاورہ اور زبان دانی ولفاظی ہی کی روشنی میں شاعری کو پرکھا جاتا تھا۔پہلی بار حالی نے اس مقدمہ میں اس قسم کے مباحث اٹھائے کہ شعر کیا ہے،اسے کیسا ہونا چاہئے، شعر کی خصوصیات کیا ہیں، شعر کی ماہیئت اور مقاصد کیا ہونے چاہئےں۔ اس مقدمہ میں حالی نے غزل ،نظم، مثنوی، قصیدہ اور مثنوی کے حوالے سے الگ الگ بحث کرتے ہوئے روشنی ڈالی ہے۔کہ ان اصناف کی اصل کیا ہے اور شاعری میں ان سے کیا کیا فائدہ اٹھائے جا سکتے ہیں۔اس مقدمہ کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ مولانا حالی مغربی تنقیدی خیالات سے بڑی حد تک آگاہ تھے۔

شعر کی خوبیاں

حالی کے خیال میں شعر میں جو خوبیاں ہونی چاہئےں انہیں ملٹن نے ان سے پہلے بیان کیا ہے اور وہ ہیں کہ: شعر سادہ ہو، جوش سے بھرا ہوا ہو اور اصلیت پر مبنی ہو۔شعر میں ہر قسم کی سادگی ہونی چاہئے لفظی بھی اور معنوی بھی۔ اور شعر نیچر کے قریب ہو، جہاں تک اصلیت پر مبنی ہونے کا تعلق ہے تو حالی کے خیال میں شعری خیال حقیقت پر مبنی ہو فرضی یا مبالغے یا خواب جیسا نہ ہو اور شعر میں جوش سے مراد وہ یہ لیتا ہے کہ شعر اس انداز میں منظوم کیا جائے ایسے الفاظ اور موضوعات بیان کئے جائیں کہ پڑھنے والوں کے دل میں جوش پیدا ہو۔شعر میں ایک ایسی کشش ہو جیسا کہ مقناطیس میں۔

سادگی:

سادگی سے مراد شعر کی یہ خوبی ہے کہ وہ پڑھنے والے کے فوری سمجھ میں آجائے اور اس میں شاعر جو کچھ کہنا چاہتے ہے قاری فوری طور پر اس بات اور خیال تک پہنچ جائے۔الفاظ روزمرہ کی بول چال کے نزدیک ہوں۔پیچیدہ اور دقیق خیالات سے بچا جائے۔بقول حالی:

”جو عمدہ کلام ایسا صاف اور عام فہم ہو ک اس کو اعلیٰ درجہ سے لے کر ادنیٰ تک ہر طبقہ اور ہر درجہ کے لوگ برابر سمجھ سکیں اور اس سے یکساں لذت اور حظ اٹھاسکیں وہ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کو سادہ اور سمپل کہا جائے “ ۔

شعر میں سادگی اور آسان فہمی ہو مگر سوقیانہ اور عامیانہ پن نہ ہو۔بڑے سے بڑا خیال سادہ اور آسان لفظوں میں بیان کردیا جائے اور جو خوبی شاعر نے شعر میں رکھی ہے اس کا ادراک پڑھنے والوں پر فوری طور پر ہوجائے۔

اصلیت کیا ہے:

اصلیت سے مراد یہ ہے کہ مبالغہ سے کم سے کم کام لیا جائے۔فخرو مباہات سے بچا جائے۔جس بات پر شعر کی بنیاد رکھی گئی ہو وہ حقیقت پر مبنی ہو اور فی الواقع موجود ہو۔اس میں شاعر ضرورت کے مطابق کسی نہ کسی حد تک تجاوز یا کمی کرسکتا ہے۔مگر زیادہ تر اصلیت ہونی ضروری ہے۔حالی لکھتے ہیں:

”اصلیت کے معنی جو کچھ کہ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہیں کہ شاعر کے بیان کا کوئی منشاءیا محکی عنہ نفس الامر میں یا صرف شاعر کے ذہن میں موجود ہو“ ۔

ایسے اوصاف بیان نہ کیے جائیں جس سے وہ موصوف بالکل متصف ہی نہ ہو۔قصائد میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ وہ صفات بھی ممدوح کے ساتھ جوڑ دی جاتی ہیں جو کہ اس میں موجود تک نہیں یا جن کا اس میں شائبہ تک نہیں۔

جوش:

جوش سے مراد یہ ہے کہ شاعری میں بے ساختہ پن ہو اور موضوع کو ایسے پیرائے میں بیان کیا جائے کہ لگے بیان خود سامنے آیا ہے لکھا نہیں گیا۔یعنی تصنع اور بناوٹ نہ ہو۔شاعر کو یہ ہنر حاصل ہوتا ہے کہ وہ خوشی یا غم کے جذبات کی ایسے عکاسی کرسکتا ہے کہ جس کو پڑھنے والا اپنے حسبِ حال سمجھ کر واہ واہ یا آہ کہہ اٹھتا ہے۔وہ بے جان اور بے زبان چیزوں کو بھی اس انداز میں ان کی زبان سے بیان کرسکتا ہے کہ ان میں قوت گویائی ہوتی تو بھی وہ شاید اتنے عمدہ انداز میں اپنی حالت بیان نہ کرسکتے۔

بعض شاعر دھیمے لہجے کے باوجود جوش کو اپنی شاعری میں قائم رکھتے ہیں مثلاً میر تقی میر کا یہ شعر ملاحظہ کیجئے:

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

میر تقی میر

ستم زدہ دل کی عکاسی نہایت عمدہ الفاظ اور جوش میں کی گئی ہے۔

فرط ِمحبت اور دل بستگی کا حال یوں بیان کرتے ہیں:

جب نام ترا لیجئے تب چشم بھر آئے

اس طرح کے جینے کو کہاں سے جگر آئے

میرتقی میر

خواجہ میر درد کے شعر کی یہ مثال دیتے ہیں :

تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے

کس لئے آئے تھے ہم کیا کر چلے

میر درد

حالی فرماتے ہیں کہ درجہ بالا تمام اشعار میں جوش بھی ہے، اصلیت بھی اور سادگی بھی۔یہ تینوں چیزیں ان اشعار میں بدرجہ احسن پائی جاتی ہیں ۔اصلیت سادگی اور جوش جو کہ ملٹن کی تعریف کے مطابق شعر میں خصوصیات ہونی چاہئےں ، ان کے علاوہ بھی حالی نے دیگر ناقدین کی شعر کے حوالے سے تعریفیں بیان کی ہیں۔

حالی کے خیال میں عربی اور عبرانی شاعری میں سب سے زیادہ جوش پایاجاتا تھا۔

شاعری کے لئے شرائط:

مولانا حالی شاعری کے لئے تین شرائط کو ضروری قرار دیتے ہیںجو شاعر کو غیر شاعر سے ممیز کرتی ہیں۔

تخیل:

ان کے خیال میں تخیل ہی ایک شاعر کو شاعر بناتا ہے۔ یہ شاعر کی بنیادی خصوصیت ہے، شاعر میں تخیل کی قوت جس قدر اعلیٰ درجے کی ہوگی وہ اسی اعلیٰ درجے کا شعر کہہ سکے گا۔ تخیل کی تعریف میں حالی لکھتے ہیں:

”وہ ایک ایسی قوت ہے کہ معلومات کا ذخیرہ جو تجربہ یا مشاہدہ کے ذریعے سے ذہن میں پہلے سے مہیا ہوتا ہے یہ اس کو مکرر ترتیب دے کر ایک نئی صورت بخشتی ہے اور پھر اس کو الفاظ کے ایسے دلکش پیرایہ میں جلوہ گر کرتی ہے کو معمولی پیرایوں سے بالکل یا کسی قدر الگ ہوتا ہے“ ۔

تخیل نہ صرف خیالات بلکہ الفاظ میں بھی تصرف کرتا ہے اور ایسے ایسے مضامین سامنے لاتا ہے جو کہ شاعر کی معلومات کو ایک نئی صورت عطا کرتی ہے۔

کائنات کا مطالعہ کرنا:

حالی دوسری شرط کائنات کا مطالعہ کرنے کو قرار دیتے ہیں۔اگر شاعر کی معلومات کا دائرہ تنگ ہے، اس کے پاس ذخیرہ¿ علمی نہیں ہے اور اس کا مشاہدہ زیادہ نہیں ہے تو وہ اپنی شاعری میں اس سے زیادہ بہت نتائج حاصل نہیں کرسکے گا۔ حالی لکھتے ہیں:

”قوت متخیّلہ کوئی شے بغیر مادہ کے پیدا نہیں کرسکتی بلکہ جو مصالح اس کو خارج سے ملتا ہے اس میں وہ اپناتصرف کرکے ایک نئی شکل تراش لیتی ہے۔جتنے بڑے بڑے نامور شاعر دنیا میں گزرے ہیں وہ کائنات یا فطرتِ انسانی کے مطالعہ میں ضرور مستغرق رہے ہیں۔ جب رفتہ رفتہ مطالعہ کی عادت ہوجاتی ہے تو ہر ایک چیز کو غور سے دیکھنے کا ملکہ ہوجاتا ہے اور مشاہدوں کے خزانے گنجینہ¿ خیال میں خود بخود جمع ہونے لگتے ہیں“ ۔

قوت متخیّلہ اسی وقت نشوونما پاتی ہے جب انسان مطالعہ کرتا ہے یا مشاہدہ کی قوت کو بروئے کار لاتا ہے۔

تفحص الفاظ:

قوت تخیل اور کائنات کے مطالعہ کے بعد ان الفاظ کی اہمیت ہے جن کے ذریعے شاعر اپنے مطالعہ یا مشاہدہ میں آئی ہوئی باتوں کو پیش کرتا ہے۔حالی لکھتے ہیں:

”شعر کی ترتیب کے وقت اول متناسب الفاظ کا انتخاب کرنا اور پھر ان کو ایسے طور پر ترتیب دینا کہ شعر سے معنی مقصود کے سمجھنے میں مخاطب کو کچھ تردد باقی نہ رہے اور خیال کی تصویر ہو بہو آنکھوں کے سامنے پھر جائے اور باوجود اس کے اس ترتیب میں ایک جادو مخفی ہو جو مخاطب کو مسخر کرلے“ ۔

شاعر کو اپنی شاعری منظوم کرتے وقت ایک ایک لفظ کی قدروقیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسے پتہ ہونا چاہئے کہ کون سا لفظ کس مقام پر قارئین کے جذبات پر کیا اثرات مرتب کرے گا۔اگر شاعری میں کسی لفظ میں کوئی فرق یا کمی رہ گئی تو شاعری کی تاثیر جاتی رہے گی۔

نیچرل شاعری:

حالی مبالغہ آمیز شاعری کے بجائے نیچرل شاعری کی بات کرتے ہیں۔نیچرل شاعری کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:

”نیچرل شاعری سے مراد وہ شاعری مراد ہے جو لفظاً ومعناً دونوں حیثیتوں سے نیچرل یعنی فطرت یا عادت کے موافق ہو، لفظاً نیچرل کے موافق ہونے سے یہ غرض ہے کہ شعر کے الفاظ اور ان کی ترکیب و بندش تا بمقدور اس زبان کی معمولی بول چال کے موافق ہو ،جس میں وہ شعر کہا گیا ہے کیونکہ ہر زبان کی معمولی بول چال اور روزمرہ اس ملک والوں کے حق میں جہاں وہ زبان بولی جاتی ہے نیچر یا سیکنڈ نیچر کا حکم رکھتے ہیں۔ پس شعر کا بیان جس قدر کہ بے ضرورت معمولی بول چال اور روز مرہ سے بعید ہوگا اسی قدر اَن نیچرل سمجھا جائے گا“ ۔

نیچرل اور ان نیچرل اشعار کے حوالے سے مولانا حالی نے درج ذیل اشعاربطور مثال پیش کیے ہیں۔درج ذیل شعر نیچرل شاعری کی مثال ہیں:

رہتا ہے اپنا عشق میں یوں دل سے مشورہ

جس طرح آشنا سے کرے آشنا صلاح

(ذوق)

چونکہ مشکل وقت میں لوگ اپنے دوستوں سے صلاح کرتے ہیں لہٰذا یہ شعر نیچرل ہے۔

ترے رخسارو گیسو سے بتا تشبیہہ دوں کیوں کر

نہ ہے لالہ میں رنگ ایسا نہ ہے سنبل میں بو ایسی

(ظفر)

کوئی رنگ یا خوشبو محبوب کے رنگ اور بو سے بڑھ کر نہیں ہوتی۔

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

(مومن)

جس سے جتنا زیادہ تعلق ہو وہ اسی قدر اپنے نزدیک محسوس ہوتا ہے۔

رنگ سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں

یہ بھی نیچرل ہے کیونکہ غم اور مشکلات برداشت کرتے کرتے انسان ان کا عادی ہو جاتاہے۔

حالی نے مقدمہ شعروشاعری میں ان نیچرل شاعری کی درج ذیل مثالیں پیش کی ہیں۔

عرض کیجئے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں

کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

(غالب)

یہ شعر ان نیچرل ہے جوہر اندیشہ میں کیسی ہی گرمی کیوں نہ ہو ،صحرا نوردی کا خیال آتے ہی صحرا نہیں جل سکتا۔

کیا نزاکت ہے جو توڑا شاخ گل سے کوئی پھول

آتشِ گل سے پڑے چھالے تمہارے ہاتھ میں

(امیر)

پھولوں میں اتنی گرمی نہیں ہوتی کہ چھونے سے ہاتھ میں چھالے پڑ جائیں ۔

دفن ہے جس جا پہ کشتہ سرد مہری کا تری

بیشتر ہوتا ہے پیدا واں شجر کافور کا

(ذوق)

یہ شعر بھی ان نیچرل ہے ۔

حالی کے خیال میں قدما کی شاعری نیچرل ہوتی ہے اگر قدما کے اول طبقے میں اسے مقبولیت نہ ملے تو دوسرا آنے والا طبقہ اس کو سڈول اور خوبصورت بناتا ہے۔اگر متاخرین قدما کی تقلید کے دائرے سے نکلتے ہیں تو ان کی شاعری رفتہ رفتہ نیچرل حالت سے تنزلی کی طرف سفر شروع کردیتی ہے۔

حالی کے ان تنقیدی نظریات کو پڑھانے کے لئے اساتذہ کو اس روھ کو سمجھنا چاہئے جو کہ ھالی کے نظریات میں موجود تھی اور جس کی مدد سے وہ قوم کی تربیت کرنا چاہتے تھے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -