ایجوکیشن راؤنڈ اپ

ایجوکیشن راؤنڈ اپ

  

دانش سکولز غربت کے خاتمے کا وہ منصوبہ ہے جو طلبہ کی انفرادی ذہانت کو اہمیت دیتے ہوئے وہ وسائل فراہم کرتا ہے جن کی بنا پر وہ خود کو اور اپنے خاندان کو غربت کے چُنگل سے نکال سکیں اور ملک کے فعال شہری بنیں۔ یہی وہ نقطہء نظر ہے جس کی بناء پر صوبہ پنجاب میں سماجی اور معاشرتی برابری کے اصول پر ملک بھر میں سب سے بڑے اقامتی تعلیمی ادارے تشکیل دیئے گئے۔ پنجاب دانش سکولز اپنے طلبہ کی تعلیمی رہنمائی کے لیے مواقع اور بہترین سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔ یہاں طلبہکی مکمل تربیت کے لیے نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی بھی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ دانش سکولزکچھ ہی سالوں میں بہترین رہائشی سہولتیں، شاندار تعلیمی نتائج، نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں کے میدان میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے ملک کا سب سے بڑا سماجی بہبود کا ادارہ بن گئے ہیں۔ اِس منصوبے کی کامیابی کی وجہ بہترین انتظامی امُور، پرنسپلز اور اساتذہ کی انتھک محنت اور طلبہ کی تمام شعبوں میں بہترین کارکردگی ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف بورڈ کے امتحانات میں پنجاب دانش سکولز کے بچّے سرِ فہرست ہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں۔ پنجاب دانش سکولز مفت تعلیم کے ذریعے غریب ترین طبقے کے مستقبل کو سنوارنے کے تصوّر کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کوشاں ہیں۔

پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے حکومتِ پنجاب نے لوگوں کو تعلیم کے ذریعے اخلاقیات، سماجی اقدار اورثقافتی رجحان کو بہتر بنانے اور روزگارکی فراہمی کی جامع حکمتِ عملی تیار کی تا کہ معیاری تعلیم کے ذریعے اِن لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جاسکے۔ دانش سکولزکا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پنجاب دانش سکولز پسماندہ ترین طبقے کی تعلیمی فلاح و بہبود کے ذریعے سماجی مساوات کا جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ اِس منصوبے کا آغاز 2010 ء میں بہاولپورڈویژن میں چھ سکولوں کی تعمیر سے کیا گیا۔ بعد ازاں ان میں توسیع کرتے ہوئے راجن پور، ڈیرہ غازی خان، میانوالی اور اٹک میں بھی ان کا قیام عمل میں لایا گیا۔ صرف 9 سال کے قلیل عرصے میں دانش سکولوں کو ملک کے سب سے بڑے رہائشی تعلیمی اداروں کیCHAIN بنا دیا گیا۔ وہاڑی، منکیرہ اور تونسہ شریف میں بھی دانش سکولز زیرِ تعمیر ہیں۔ پاکستان کے اس سب سے بڑے اقامتی سکولز سسٹم کے پنجاب بھر میں فی الوقت 14 کیمپسز کام کر رہے ہیں، جن میں لڑکیوں اور لڑکوں کے ہر ضلع میں الگ الگ کیمپس ہیں۔ اِن رہائشی تعلیمی اداروں میں معاشرے کے نظر انداز کیے جانے والے طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو بلا معاوضہ معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجے کی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

حکومتِ پنجاب کا یہ تعلیمی منصوبہ اُن ہونہار اور ذہین طلبہ و طالبات کے لئے ہے جو وسائل کی کمی کے باعث تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے۔ دانش سکول میں داخلے کے لئے پہلی ترجیح غریب سے غریب تر بچوں کو دی جاتی ہے تاکہ ایسے طلبہ و طالبات اپنی زندگیوں میں انقلاب لاسکیں اور یہ آگے چل کر نہ صرف بہتر روزگار حاصل کر سکیں بلکہ اپنے خاندانوں کے لئے بھی مدد گار ثابت ہوں اور ان کا معیارِ زندگی بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکیں۔ جھونپڑیوں اور کچے گھروں کے مکینوں کو ان کی دہلیز پر بین الاقوامی معیار کی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لئے پنجاب دانش سکولوں کا قیام تعلیمی پسماندگی کے شکار علاقوں میں عمل میں لایا گیا۔ پنجاب دانش سکولز میں نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کے دوسرے حصوں سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، فاٹا، سوات، آزاد جموں و کشمیراورخیبر پختونخوا سے بھی بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ دانش سکولز میں اُن بچوں کو داخلہ دیا جاتا ہے جن کے والدین کی ماہانہ آمدنی 15 ہزار سے زائد نہ ہو یا وہ بچے جن کے والدین وفات پا چکے ہوں یا والد فوت ہو چکا ہے اور بچہ ماں کے ساتھ رہتا ہو یا والدین میں سے کوئی ایک معذور ہو۔ اِس کے علاوہ جو والدین اَن پڑھ ہوں اور اُن کی کوئی غیر منقولہ جائیداد اور مستقل ذریعہ آمدن نہ ہو۔ بچہ گاؤں یا شہر کا رہنے والا ہو اور اُس کا مکان کچا ہو اور والدین نیم ہنر مند یا محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ چھٹی جماعت میں داخلے کے لیے بچوں کی عمر کی حد 10 سے 12 سال اور بچیوں کے لیے 10 سے 13 سال مقرر ہے۔ علاوہ ازیں سیلف فنانس بچوں کے لیے 10 فیصد کوٹہ مخصوص ہے۔ دانش سکولوں میں داخلے کے لیے صوبہ پنجاب کے علاوہ تینوں صوبوں بشمول گلگت بلتستان، فاٹا، سوات اور آزاد جموں وکشمیر کے لیے نشستیں مختص کی گئی ہیں۔

ایشیا میں سماجی فلاح و بہبود کا سب ے بڑا ادارہ جہاں پسماندہ گھرانوں کے 9300 سے زائد طلبہ و طالبات بشمول 1500 یتیم بچے اور بچیاں زیرِتعلیم ہیں۔ پاکستان میں لڑکیوں کے رہائشی تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں، لیکن پنجاب دانش سکولز میں خواتین کی تعلیم اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھرپور نمائندگی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ یہی وجہ کہ اِن اداروں میں چارہزار پانچ سو پچاس طالبات کا زیرِتعلیم ہونا غریب خاندانوں کا دانش سکولوں کے محفوظ ماحول پر اعتماد ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے، اِسی لیے جہاں بھی دانش سکولز قائم ہیں، وہاں لڑکیوں اور لڑکوں کے الگ الگ کیمپس موجود ہیں۔ اِس کا مقصد نہ صِرف صنفی مساوات کو برابری دینا ہے،بلکہ خواتین کو بااختیار بنانا بھی ہے۔ پنجاب دانش سکولز ملک میں قائم کسی بھی دوسرے اقامتی تعلیمی اداروں سے کم نہیں۔ یہاں معیاری تعلیم، اعلیٰ انتظامی سہولتیں اور دیگر ضروریاتِ زندگی فراہم کی جاتی ہیں جو بڑے شہروں کے اعلیٰ سکولوں میں بھی دستیاب نہیں ہیں۔ پنجاب دانش سکولز سسٹم نادار مگر ذہین بچوں کی تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے تاکہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر تعلیم حاصل کر سکیں۔ پنجاب دانش سکولز سسٹم اپنے بہترین تعلیمی نتائج کی بنیاد پر پنجاب کے اُفق پر چمکتا وہ ستارہ ہے جو تعلیمی معیار پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتا۔ اس بات کا ثبوت پنجاب دانش سکولز اور سنٹر آف ایکسیلنس کے شاندار تعلیمی نتائج ہیں۔

2018-19ء کے پنجاب ایگزامینیشن کمیشن PEC کے زیر اہتمام آٹھویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں صوبہ بھر کے دانش سکولز کے 97 طلبہ نے اے پلس اور اے گریڈ حاصل کیا، دانش سکول چشتیاں کے طالب علم مبین اسلم نے 500میں سے488نمبر لے کر دانش سکولز میں پہلی، جبکہ چشتیاں گرلز کیمپس کی مریم نعیم نے 487نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ میٹرک کے سالانہ امتحانات2018ء میں دانش سکولز کے 1332طلبہ نے لاہور بورڈ سے امتحان دیا۔ ان میں 94فیصد طلبہ نے اے پلس اور اے گریڈ حاصل کیا۔ دانش سکول راجن پور کے طالب علم وسیم یاسین نے 1091 نمبر لے کر لاہور بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 2019ء کے میٹرک کے سالانہ امتحانات میں دانش سکولز کے نتائج 100فیصد رہے، اِن میں 91فیصد طلبہ نے اے پلس اور اے گریڈ حاصل کیا۔ اس سال پنجاب دانش سکولز کے 1430طلبہ نے لاہور بورڈ سے میٹرک کا امتحان دیا جس میں 1008طلبہ نے اے پلس، جبکہ 289 طلبہ نے اے گریڈ حاصل کیا۔ دانش سکول رحیم یار خان گرلز کی طالبہ اریبہ فاروق نے 1077نمبر لے کر دانش سکولز میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔علاوہ ازیں لاہور بورڈ کے زیر اہتمام ایف ایس سی کے سالانہ امتحان2018ء میں دانش سکولز کے طلبہ کے نتائج 98فیصد رہے اور 60فیصد طلبہ نے ایف ایس سی کے امتحانات میں اے پلس اور اے گریڈ حاصل کئے۔

پنجاب دانش سکولز اینڈ سنٹر آف ایکسیلنس اتھارٹی کے زیر اہتمام ماڈل تعلیم دینے کے لئے پنجاب گورنمنٹ کے 11سکولوں کو منتخب کیا گیا جنہیں سنٹر آف ایکسیلنس کا درجہ دیا گیا تاکہ عام آدمی کے بچوں کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت کے مواقع میسر ہوں۔ ان سکولوں کو سنٹر آف ایکسیلنس کا درجہ دینے کے بعد ان کے نتائج میں 100فیصد بہتری آئی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی بچوں نے بہتر کارگردگی کا مظاہرہ کیا۔ 2018ء کے سالانہ میٹرک امتحانات میں پنجاب بھر میں قائم 11 سنٹر آف ایکسیلنس کے طلبہ و طالبات نے 100فیصد کامیابی حاصل کی اور 60فیصد طلبہ نے اے پلس اور اے گریڈ حاصل کیا۔جبکہ2019ء کے میٹرک کے سالانہ امتحانات میں 65فیصد طلبہ نے پنجاب بھر کے بورڈ میں اے پلس اور اے گریڈ حاصل کئے۔ سنٹر آف ایکسیلنس مظفر گڑھ کی طالبہ زہرہ بتول نے آرٹس گروپ میں 1017نمبر لیکر ڈی جی خان بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ایف ایس سی کے بعد پنجاب دانش سکولز سے فارغ التحصیل طلبہ کو ایم ڈی کیٹ، ای کیٹ کی خصوصی طور پر تیاری کروائی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں آرمڈ فورسز میں شمولیت کے لئے بھی طلبہ کو تیار کیا جاتا ہے۔

پنجاب دانش سکولز کے طلبہ و طالبات تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ ان طالبِ علموں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی طرح بھی دوسروں سے کم نہیں ہیں۔ ادارے سے فارغ التحصیل 95 فیصد سے زائد طلبہ و طالبات ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں جن میں کامسیٹ، غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ایپلائیڈ سائنسز، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ انجینئرنگ سائنسز، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور FAST قابل ذکر ہیں۔ یہ بچے آنے والے دنوں میں اپنی اور اپنے خاندانوں کی قسمت بدلنے کے لئے کوشاں ہیں۔پنجاب دانش سکولزدر پیش مسائل کا مقابلہ کرتے ہوئے تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے ہی کامیابیاں سمیٹنے کے لئے پُر عزم ہیں۔ پنجاب دانش سکولز حکومتِ پنجاب کا ایک کامیاب قدم ہے جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -