پطرس بخاری

پطرس بخاری

  

گورنمنٹ کالج لاہور کے سابق پرنسپل پطرس بخاری کی کتاب ”پطرس کے مضامین“ اردو ادب میں انہیں ظریفانہ نثر کے خالق کے طور پر نہ صرف زندہ جاوید کر چکی ہے بلکہ وہ طنزیہ نثر کے اراکین خمسہ میں شامل ہیں۔ ان کا مضمون ”ہاسٹل میں پڑھنا“ ایک شاہکار مضمون ہے جس سے قاری کے ہونٹوں پر مسلسل ایک مسکراہٹ رہتی ہے اور جب مضمون ختم ہوتا ہے تو قاری اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا اور خوشگوار محسوس کرتا ہے۔

ہاسٹل میں پڑھنا

ہم نے کالج میں تعلیم تو ضرور پائی اور رفتہ رفتہ بی۔اے بھی پاس کر لیا۔ لیکن اس نصف صدی کے دوران میں جو کالج میں گزارنی پڑی، ہاسٹل میں داخل ہونے کی اجازت ہمیں صرف ایک ہی مرتبہ ملی۔

خدا کا یہ فضل ہم پر کب اور کس طرح ہوا؟ یہ سوال ایک داستان کا محتاج ہے۔ جب ہم نے انٹرمیڈیٹ پاس کیا تو مقامی سکولوں کے ہیڈ ماسٹر صاحب خاص طور پر مبارکباد دینے کے لئے آئے۔ قریبی رشتہ داروں نے دعوتیں دیں۔ محلے والوں میں مٹھائی بانٹی گئی اور ہمارے گھر والوں پر یک لخت اس بات کا انکشاف ہوا۔ وہ لڑکا جسے آج تک کوتاہ بینی کی وجہ سے ایک بیکار اور نالائق فرزند سمجھتے رہے تھے دراصل لامحدود قابلیتوں کا مالک ہے، جس کی نشوونما پر بے شمار آنے والی نسلوں کی بہبودی کا انحصار ہے، چنانچہ ہماری آئندہ زندگی سے متعلق طرح طرح کی تجویزوں پر غور کیا جانے لگا۔

تھرڈ ڈویژن میں پاس ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی نے ہم کو وظیفہ دینا مناسب نہ سمجھا۔ چونکہ ……ہمارے خاندان نے خدا کے فضل سے آج تک کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا، اس کے لئے وظیفے کا نہ ملنا بھی خصوصاً رشتہ داروں کے لئے جو رشتہ کے لحاظ سے خاندان کے مضافات میں بستے تھے، فجر ومباہات کا باعث بن گیا، اور مرکزی رشتہ داروں نے اس کو پاس وضع اور حفظ مراتب سمجھ کر ممتحنوں کی شرافت ونجابت کو بے انتہا سراہا۔ بہرحال ہمارے خاندان میں فالتو روپے کی بہتات تھی، اس لئے بلا تکلف یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ نہ صرف ہماری، بلکہ ملک وقوم کی اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایسے ہونہار طالب علم کی تعلیم جاری رکھی جائے۔

اس بارے میں ہم سے بھی مشورہ لیا گیا۔ عمر بھر میں اس سے پہلے ہمارے کسی معاملے میں ہم سے رائے طلب نہیں کی گئی۔ لیکن اب تو حالات بہت مختلف تھے اب تو ایک غیر جانبدار ایمان دار اور منصف یونیورسٹی ہماری بیدار مغزی کی تصدیق کر چکی تھی۔ اب ہمیں کیونکر نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ ہمارا مشورہ یہ تھا کہ ہمیں فوراً ولایت بھیج دیا جائے۔ ہم نے مختلف لیڈروں کی تقریروں کے حوالے سے یہ ثابت کیا کہ ہندستان کا طریقہ تعلیم بہت ناقص ہے۔ اخبارات تھوڑی تھوڑی فیس دے کے بیک وقت جرنلزم، فوٹو گرافی، تصنیف وتالیف، دندان سازی ایجنٹوں کا کام، غرضیکہ بے شمار مفیدوکم خرش بالانشین پیشے سیکھے جا سکتے ہیں اور تھوڑے عرصے کے اندر انسان ہر فن مولا بن سکتا ہے۔

لیکن ہماری تجویز کو فوراً رد کر دیا گیا، کیونکہ ولایت بھیجنے کے لئے ہمارے شہر میں کوئی راویات موجود نہ تھیں۔ ہمارے گردو نواح میں کسی کا لڑکا بھی ابھی تک ولایت نہیں گیا تھا۔ اس لئے ہمارے شہر کی پبلک وہاں کے حالات سے قطعاًنا واقف تھی، لہٰذا ہم سے رائے طلب نہ کی گئی اور ہمارے والد، ہیڈ ماسٹر صاحب، اور تحصیلدار صاحب ان تینوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں لاہور بھیج دیا جائے۔ جب ہم نے یہ خبرسنی تو شروع میں ہمیں سخت مایوسی ہوئی،لیکن جب ادھر نہیں۔ بعض واقف کار دوستوں نے سنیما کے حالات پر روشنی ڈالی اور بعض نے تھیٹروں کے مقاصد سے آگاہ کیا، بعض نے ٹھنڈی سٹرک وغیرہ کے مشاغل کو سلجھا کر سمجھایا، بعض نے شاہدرہ سے اور شالامار کی رونام انگیز فضا کا نقشہ کھینچا۔ چنانچہ لاہور کا جغرافیہ پوری طرح ہمارے ذہن نشین ہوگیا تو ثابت ہوا کہ خوشگوار مقام ہے، اور اعلیٰ درجے تعلیم حاصل کرنے کے لئے بے حد موزوں ہے، اس پر ہم نے اپنی زندگی کا پروگرام واضح کرنا شروع کر دیا، جس میں پڑھنے لکھنے کی جگہ تو ضروری دی گئی،لیکن ایک مناسب حد تک تا کہ طبیعت پر کوئی جائز بوجھ نہ پڑے، اور فطرت اپنا کام حسن وخوبی کے ساتھ کر سکے۔

لیکن تحصیلدار صاحب اور ہیڈ ماسٹر صاحب کی نیک نیتی یہیں تک محدود نہ رہی اگر وہ صرف ایک عام اور مہمل سامشورہ دے دیتے کہ لڑکے کو لاہور بھیج دیا جائے تو بہت خوب تھا، لیکن انہوں نے تو تفصیلات میں دخل دینا شروع کر دیا اور ہاسٹل کی زندگی اور گھر کی زندگی کا مقابلہ کر کے ہمارے والد صاحب پر یہ ثابت کر دیا کہ گھر پاکیزگی اور طہارت کا ایک کعبہ اور ہاسٹل گناہ ومعصیت کا ایک دوزخ ہے۔ ایک تو تھے وہ چرب زبان، اس پر انہوں نے بیشمار غلط بیانیوں سے کام لیا، چنانچہ گھر والوں کو یقین سا ہوگیا کہ کالج کا ہوسٹل جرائم پیشہ اقوام کی ایک بستی ہے۔ جو طلباء باہر کے شہروں سے لاہور جاتے ہیں،اگر ان کی پوری طرح نگہداشت نہ کی جائے تو اکثر شراب کے نشے میں چور کسی نالے میں گرے ہوئے پائے جاتے ہیں یا کسی جوئے خانے میں ہزار بارہ سو روپے ہار کر خود کشی کرلیتے ہیں۔ یا پھر فرسٹ ایئر امتحان پاس کرنے سے پہلے دس بارہ شادیاں کر بیٹھتے ہیں۔

چنانچہ گھر والوں کو سوچنے کی عادت پڑگئی کہ لڑکے کو کالج میں داخل کیا جائے، لیکن ہاسٹل میں نہ رکھا جائے۔ کالج ضرور، لیکن ہاسٹل ہرگز نہیں، کالج مفید مگر ہاسٹل مضر، وہ بہت ٹھیک،مگر یہ ناممکن، جب انہوں نے اپنی زندگی کا نصب العین ہی یہ بنا لیا کہ کوئی ایسی ترکیب سوچی جائے، جس سے لڑکا ہاسٹل کی زد سے محفوظ رہے، تو کسی ترکیب کا سوجھ جانا کیا مشکل تھا۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ چنانچہ از حد غور وخوض کے بعد لاہور میں ہمارے ایک ماموں دریافت کئے گئے اور ان کو ہمارا سر پرست بنا دیا گیا۔ میرے دل میں ان کی عزت پیدا کرنے کے لئے بہت سے شجروں کی ورق گردانی سے مجھ پر یہ ثابت کیا گیا کہ واقعی میرے ماموں ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ جب میں ایک شیر خوار بچہ تھا تو وہ مجھ سے بے انتہا محبت کیا کرتے تھے چنانچہ فیصلہ یہ ہوا کہ ہم پڑھیں کالج میں، اور رہیں ماموں کے گھر۔ اس سے تحصیل علم کا جو ولولہ سا ہمارے دل میں اٹھ رہا تھا وہ کچھ بیٹھ سا گیا۔ ہم نے یہ سوچا ماموں صاحب اپنی سرپرستی کے زعم میں والدین سے بھی زیادہ احتیاط برتیں گے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے دماغی اور روحانی قویٰ کو پھلنے، پھولنے کا موقع نہ ملے گا اور تعلیم کا اصل مقصد فوت ہو جائے گا چنانچہ وہی ہوا، جس کا ہمیں خوف تھا۔ ہم روز بروز مرجھاتے چلے گئے۔ اور ہمارے دماغ پر پھپھوندی جمنے لگی۔ سنیما جانے کی کبھی کبھار اجازت مل جاتی تھی،لیکن اس شرط پر کہ بچوں کو بھی ساتھ لیتا جاؤں۔ اس صحبت میں بھلا سنیما سے کیا اخذ کر سکتا تھا۔

(جاری ہے)

مزید :

ایڈیشن 1 -