15اگست، کشمیریوں کا یوم سیاہ

15اگست، کشمیریوں کا یوم سیاہ
 15اگست، کشمیریوں کا یوم سیاہ

  

15اگست بھارت کا یوم آزادی ہے،جو کنٹرول لائن کے دونوں طرف اور دُنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم سیاہ کے طورپر منایا جاتا ہے۔ یوم سیاہ منانے کامقصد عالمی برادری کو پیغام دینا ہے کہ بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیریوں کا ناقابل ِ تنسیخ حق خودارادیت سلب کر رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام نے سیکیورٹی کے نام پر وسطیٰ، شمالی اور جنوبی کشمیر کے تمام علاقوں میں سخت پابندیاں عائد کررکھی تھیں تاکہ کشمیری عوام بھارت کے خلاف مظاہرے نہ کرسکیں۔

اس مرتبہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیریوں کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے، کشمیریوں کے ساتھ پاکستان اور تمام عالم اسلام و دیگر ممالک نے اسے رد کر دیا ہے۔ کشمیریوں پر مظالم کا یہ حال ہے کہ حریت قیادت نظر بند ہے۔ کشمیریوں کو عید کی نماز اور قربانی کی اجازت نہیں ملی۔ پورے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا ہوا ہے۔ اس کے باوجود بہادر کشمیری نوجوان بھرپور طریقے سے بھارتی فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہر روز اوسطاً چار پانچ کشمیری آزادی کی جدوجہد میں شہید ہو رہے ہیں، مگر بھارتی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

ہماری حکومت نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد 15 اگست بھارت کے یوم آزادی کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ 14 اگست کو پاکستان کا یومِ آزادی یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منایاگیا۔بھارت کے یومِ آزادی کے روز ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا، جس کا وزارت داخلہ کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ بھارت کے اقدام کو پاکستان نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے، جس کے نتیجے میں بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو معطل کرکے بھارتی ہائی کمشنر کو بھی بے دخل کردیا گیاہے۔اس کے علاوہ وزیر ریلوے نے پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس اور کھوکھرا پار سے موناباؤ تک چلنے والی تھر ایکسپریس کو بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نریندرا مودی کی کشمیریوں کو گلے لگانے کی پالیسی زمینی حقائق کے برخلاف ہے اور قابض فوج کے ہاتھوں صرف گزشتہ ایک ماہ میں 21 کشمیریوں کی شہادت اس کی درندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تازہ رپورٹ نے بھی کشمیروں پر بھارتی مظالم کی تصدیق کرتے ہوئے اسے آئینہ دکھایا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے عوام 72 سال سے پاکستان کے یوم آزادی کو جوش و خروش سے منا کر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ رکھے ہوئے ہیں۔ ہر سال 14 اگست کو مقبوضہ وادی میں پاکستانی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔ پوری وادی میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار ہوتی ہے۔ بھارت مقبوضہ وادی میں آٹھ لاکھ فوج رکھ کر بھی کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کر سکا۔ کشمیری عوام نے بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منا کر اقوام عالم پر واضح کر دیا ہے کہ وہ بھارت سے نفرت کرتے ہیں۔ کشمیری عوام نے بھارتی جبری قبضے کے خلاف احتجاج کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی طرح بھی بھارتی تسلط کو قبول نہیں کریں گے۔

نریندر مودی مقبوضہ وادی میں ترقیاتی کام کروائیں یا ایک ایک کشمیری فرد کو سونے میں تولیں کشمیری عوام بھارت کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ علی گیلانی نے اس امر کا اعادہ کیا کہ کشمیری جدوجہد آزادی کو جاری رکھیں گے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال، بھارتی مظالم اقتصادی ناکہ بندی،اور حریت رہنما شیخ عبدالعزیز اور دیگر چالیس کشمیریوں کی شہادتوں پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مداخلت کی بھی اپیل کی گئی۔

14اگست کو کشمیریوں کا جوش و جذبہ ہم پاکستانیوں سے بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اس روز سبز ہلالی پرچموں کی بہار عجب سماں باندھ دیتی ہے۔ مساجد میں نماز فجر، نماز ظہر، عصر اور مغرب کے بعد پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ بچے سبز ٹوپیاں پہنتے ہیں اور یوں گمان ہوتا ہے جیسے کشمیری پاکستان کا نہیں اپنا یوم آزادی منا رہے ہیں،لیکن اس مرتبہ یہ جذبہ سرد کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور پوری وادی کرفیو کے جال میں جکڑ ڈالی کہ کشمیریوں کو عید تک نہیں منانے دی۔

کشمیریوں کی پاکستان سے محبت اٹوٹ ہے۔ پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان سے پیار کرنے والے ان لوگوں نے وفا کے ایسے دیپ جلائے ہیں، جنہیں وقت کی بڑی سے بڑی آندھی بھی نہ بجھا سکی۔اس محبت کی کشمیریوں نے جو قیمت چکائی اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے وادی کشمیر میں پولیس کی بلا اشتعال فائرنگ سے نہتے مظاہرین کی ہلاکتوں اورکرفیو میں عام لوگوں کو دیکھتے ہی گولیاں مارنے کے احکامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے اس بارے میں سنجیدہ اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے، مگر بھارتی حکومت نے ہمیشہ کی طرح ان احکامات کو بھی ہوا میں اڑا دیا۔

تحریک آزادی کشمیر کے بزرگ رہنما اور حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کو کرنا ہے۔ بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے محروم کرناچاہتا ہے اور اسلامی مما لک کی تنظیم مکمل یکجہتی سے کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی کی حمایت کرے تو نہ صرف پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوگی، بلکہ دُنیا بھر میں مسلمان جہاں جہاں بھی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں انہیں تقویت حاصل ہوگی اور بھارت کشمیری مجاہدین آزادی کو دہشت گرد قرار نہیں دے سکے گا۔

مزید :

رائے -کالم -