یوم شہدائے پولیس۔۔ اصل ہیروز کی بہادری کے اعتراف کا دن!

یوم شہدائے پولیس۔۔ اصل ہیروز کی بہادری کے اعتراف کا دن!
 یوم شہدائے پولیس۔۔ اصل ہیروز کی بہادری کے اعتراف کا دن!

  

4، اگست پاکستان بھر میں یوم شہدائے پولیس کے طور پر منایا گیا۔ یہ دن اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم اپنے شہدا کو کبھی نہیں بھول سکتے اور ان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے رہیں گے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے بھی یوم شہداء بھرپور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس سلسلے میں پنجاب کے ہر ضلع میں یوم شہدا ئے پولیس کی مناسبت سے تقاریب کا اہتمام کیا گیا جبکہ مرکزی تقریب لاہور الحمرا میں ہوئی جس میں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان اور سی سی پی او لاہور بی اے ناصر سمیت پولیس افسروں اور جوانوں نے بھرپور شرکت کی۔

اس موقع پر چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر،، کیبنٹ کمیٹی لاء اینڈ آرڈر کے ممبر کرنل ہاشم ڈوگر سمیت سینئر صحافی، ایڈیٹرز اور شہدا کے خاندان بھی موجود تھے جبکہ تقریب کے مہمان خصوصی گورنر پنجاب چودھری محمد سرور تھے۔ یوم شہدا کی مرکزی تقریب تو صبح 11:30 بجے الحمرا ہال میں شروع ہوئی لیکن یوم شہدا پولیس کا آغاز نماز فجر کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ اس سلسلہ میں قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز لاہور میں آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان سی سی پی او بی اے ناصر سمیت سینئر افسران نے فاتحہ خوانی کی جس کے بعد یادگار شہدا پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔

اسی طرح صوبہ بھر میں پولیس افسران نے شہدا کی قبروں پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔تمام اضلاع کی مرکزی تقریبات میں آر پی اوز، ڈی پی اوز نے شرکت کی اور شہدا کے خاندانوں کو خاص طور پر ان تقریبات میں مدعو کیا گیا۔لاہور میں ہونے والی مرکزی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ تقریب کے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے سی سی پی او لاہور نے بتایا کہ ڈاکوؤں سے مقابلہ ہو یا بم دھماکے،لاہور پولیس کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوم شہداء تجدید عہد کا دن ہے اور لاہور پولیس کے افسران و اہلکار اپنے شہریوں کے جان و مال اور عزت کے تحفظ کے لئے سربکف ہیں۔ ملک میں قیام امن اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جان نچھاور کرنے والوں کی یاد میں آج یوم شہدا پولیس منایا جا رہا ہے۔ پاکستان پولیس نے انسداد دہشتگردی آپریشنز میں کلیدی کردار ادا کیا، پولیس کے شہداء اور ان کے لواحقین کو سلام پیش کرتے ہیں۔یہ ہمارا اثاثہ اور قوم کا سر مایہ ہیں۔

قانون کی بالادستی ہو یا امن و امان کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ ہو یاسماج دشمن عناصر سے مقابلہ، ہر محاذ پر پولیس فورس کے بہادر جوان اپنی ذمہ داریوں سے احسن طور پر عہدہ براء ہوتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے آئے ہیں۔ شہدائے پولیس کی ان عظیم قربانیوں کی یاد میں ہر سال4 اگست کادن یوم شہدائے پولیس کے طور پر منایا جاتا ہے۔یوم شہدائے پولیس کے منانے کا مقصد قوم کے ان بہادر سپوتوں کی شجاعت کو سلام پیش کرنا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ان کی یاد میں بڑی تقاریب کا انعقادکرناہے جس میں شہداء کی ارواح کو ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے اور محکمہ پولیس کے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

یوم شہدائے پولیس پر اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ یہ صرف پولیس فورس کے نہیں بلکہ پوری قوم کے شہدا ء ہیں اور ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو بھولے نہیں اور نہ ہی کبھی بھولیں گے، ہمیں ان کی عظیم قربانیوں پر فخر ہے۔آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ عظیم قومیں اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں، جنہوں نے اپنا آج عوام کے مستقبل پر قربان کر دیا۔ پنجاب پولیس ایسے ہی پندرہ سو کے قریب بہادر شہدا کی امین ہے جن کی شہادت نے محکمے کی عزت اور وقار کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس شہدا کی قربانیوں کی بدولت ہی محکمہ کا مورال بلند ہوا ہے اور ملک کے اندر دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پولیس ہر اول دستہ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کی گفتگو کا محور شہداء پولیس کے خاندان تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہدا پولیس کی بہترین ویلفئر اور دیکھ بھال محکمے کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لئے سینٹرل پولیس آفس میں ڈی آئی جی سطح کا آفیسر تعینات ہے۔ شہدا کی فیملیز ہمارے خاندان کا حصہ ہیں اور اس خاندان کے سربراہ کے طور پرشہدا کے لواحقین کی مالی و معاشرتی ذمہ داریاں اپنے کندھے پر محسوس کرتا ہوں اور انہیں احسن انداز میں سر انجام دینے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہوں گا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ان کی درخواست پر پنجاب میں شہدا پیکجز کے تمام زیر التوا کیسز کی نہ صرف منظوری دے دی ہے بلکہ ان کے چیکس بھی شہدا کے ورثا کے سپرد کئے جا چکے ہیں۔ اسی طرح پولیس کے منجمند الائنس بھی ڈی فریز کر دیئے گئے ہیں جس سے پولیس اہلکاروں کی معاشی حالت میں بہتری آئے گی۔ تقریب میں صوبے کے مختلف اضلاع سے آئے شہدا ئے پولیس کے عزیز و اقارب، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، کیبنٹ کمیٹی لاء اینڈ آرڈر کے ممبر کرنل ہاشم ڈوگر، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد،،سینئر صحافی،پولیس افسران، علمائے اکرام، وکلا برادری، اساتذہ اور سول سوسائٹی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

یوم شہدا پولیس کی تقریبات میں سب سے اہم شہداء کے خاندانوں کی شرکت تھی۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تقریبات دراصل انہی کو یہ احساس دلانے کے لئے تھیں کہ محکمہ پولیس اور پاکستان کے شہری ہر لمحہ ان کے ساتھ ہیں اور ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

اسی لئے صوبہ بھر میں شہدا کے خاندانوں کو ان تقریبات میں مدعو کیا گیا تھااور انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ لاہور الحمرا کی مرکزی تقریب سے بھی شہدا کی فیملیز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہاں شہداکے بچوں اور بھائی سمیت دیگرگھر والوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان سبھی نے شہدا کے خاندانوں کی ویلفئرکے لئے پنجاب پولیس کے اقدامات کو سراہا اور سماج دشمن عناصر کے خلاف پنجاب پولیس کی کارکردگی کی تعریف کی۔ شہدا کے خاندانوں نے اپنے پیاروں کی بہادری اور جرات مندانہ گفتگو کا ذکر کیا اور ان سے وابستہ یادیں تازہ کیں تو شرکائے محفل ایک نئے جوش و جذبہ سے سرشار نظر آنے لگے۔

تقریب کے اختتام پر آئی جی پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان اور سی سی پی او لا ہوربی اے ناصر پولیس شہدا کے خاندانوں میں گھل مل گئے اور تا دیر ان سے گفتگو میں مصروف رہے اورکسی بھی قسم کی پریشانی کی صورت میں براہ راست رابطہ کر کے اپنے مسائل سے آگاہ کرنے کا بھی کہا۔ آئی جی پولیس پنجاب اور سی سی پی او نے اس موقع پرشہدا کے بچوں میں خصوصی گفٹس بھی تقسیم کئے۔یوم شہدائے پولیس سرکاری سطح پر عقیدت اور جوش و جذبہ سے منایا گیا لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ عوامی سطح پر اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ پولیس فورس کے شہدا ہی ہمارے اصل ہیرو ہیں جو ہماری حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں۔

اس کے لئے لازم ہے کہ ہر سال 4، اگست کو اپنے بہادر شہدا کی یاد میں یہ دن قومی سطح پر منانے کی اس روایت کو زندہ رکھا جائے۔ہمارے ادیبوں کا فرض ہے کہ ان شہدا کی بہادری کی داستانیں رقم کریں اور شعرا ء ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے گیت لکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر کی اہم شاہراہوں اور علاقوں کو ان بہادر شہداء سے منسوب کیا جائے۔ ہمیں اس بات کا بھی اعتراف کرنا ہو گا کہ پنجاب پولیس کے یہ شہدا صرف پولیس فورس کے شہدا نہیں بلکہ پوری قوم کے شہدا ہیں جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل پر قربان کیا اور ہمیں سماج دشمن عناصر سے محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

لاہور سمیت پنجاب بھر میں پولیس شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے سول سوسائٹی کی جانب سے بھی ان کی یاد میں شمع روشن کی گئیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کے باوجود عوامی سطح پر ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے جو اقدامات کئے گئے وہ ان کی بہادری اور قربانیوں کے مقابلے میں بہت کم تھے۔ اگر ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ شہید کی موت قوم کی حیات ہے تو پھر ہمیں سوشل میڈیا سمیت ہر پلیٹ فارم پر یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ شہدا ہی ہمارا فخر ہیں اور یہی ہمارے اصل ہیرو ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -