شاہ محمود قریشی کی مایوسی

شاہ محمود قریشی کی مایوسی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دنیا کے بھارت میں مفادات ہیں، امت کے محافظوں نے بھارت میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور وہاں ان کے مفادات ہیں کوئی خوش فہمی میں نہ رہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کوئی ہمارے لئے ہار لے کر نہیں کھڑا، سلامتی کونسل میں جانے کے لئے پہلا قدم وہاں داخل ہونے کا تھا پاکستان سیکیورٹی کونسل کا رکن نہیں لہٰذا وہاں مقدمہ لڑنے کے لئے ایک اچھا وکیل کرنا ضروری تھا اور چین سے بہتر وہ وکالت کوئی نہیں کر سکتا اسی لئے میں بیجنگ گیا پاکستان کی طرف سے جو قرار داد سیکیورٹی کونسل کے صدر کو پیش کی جا رہی ہے اس پر چین پہرہ دے گا اور پاکستان کے موقف کو اجاگر کرنے میں چین ہمارا ساتھی اور معاون ثابت ہو گا، سیکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان میں سے کوئی بھی قرار داد کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کر سکتا ہے، لہٰذا احمقوں کی جنت میں رہنے کی بجائے پاکستانی عوام کو باخبر رہنا چاہئے۔ آپ کا کیس کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو اگر دنیا کشمیریوں کو بھارتی اقدام پر احتجاج کرتا نہیں دیکھے گی تو سیکیورٹی کونسل میں دہائیوں سے پڑا یہ کیس وہیں دفن رہے گا وہ مظفر آباد میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ان خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔

جناب وزیر خارجہ کے ان الفاظ سے صاف گوئی جھلکتی ہے، مایوسی کا واشگاف اظہار ہوتا ہے یا وہ آنے والے دور کی دھندلی (یا صاف) تصویر دکھانا چاہتے ہیں یہ تو جلد ہی پتہ چل جائیگا البتہ قوم کو ان کا ممنون احسان ہونا چاہئے کہ انہوں نے اسے زیادہ دن تک خوش فہمیوں کے گرداب میں مبتلا نہیں رہنے دیا اور صاف گوئی سے یہ بتانا ضروری سمجھا کہ سلامتی کونسل میں کوئی پاکستان کے لئے ہارلے کر نہیں کھڑا ہوا۔ ویسے وہ اگر تکلفاً تھوڑا بہت پردہ بھی رکھ لیتے تو ہزار پردوں کے باوجود بعض حقیقتیں اپنا چہرہ دکھانے کے لئے سامنے آ جاتی ہیں ہم نے تو پوری کوشش کی تھی کہ ثالثی کے اعلان پر اتنی لڈیاں ڈالی جائیں کہ حقیقت ان میں چھپ جائے لیکن دنیا میں کسی نے ثالثی کے سراب میں گم ہونا پسند نہ کیا اب بھارت نے تیسری مرتبہ کہہ دیا ہے کہ ثالثی کا تو کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ایسے میں لڈیاں ڈالنے والوں سے پوچھا جانا چاہئے کہ وہ ثالثی کے دعویداروں کو تلاش کر کے یہ تو معلوم کریں کہ اس لولی پاپ کا مقصد آخر کیا تھا؟

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امت کے محافظوں کے بھارت میں مفاد ہیں بہت درست فرمایا، اگر ”امت کے محافظوں“ نے بھارت میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات تو نہیں آخر چین نے بھی تو بھارت میں 25ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور اگر یہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے برابر نہیں تو نصف تو ضرور ہے اگر چین اپنی سرمایہ کاری کے مفادات کو وقتی طور پر نظر انداز کر کے پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے اور چین کی قیادت نے بھارتی وزیر خارجہ کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر وہ اپنا موقف نہیں بدل سکتا، تو کیا سعودی عرب سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ بھی اپنی سرمایہ کاری کے علی الرغم کشمیر پر جائز اور مبنی برحق موقف اختیار کرتا، اس نے اگر ایسا نہیں کیا یا اس سلسلے میں شاہ محمود کو سعودی عرب سے کسی کردار کی امید نہیں، تو کوئی وجہ تو ہو گی، عین ممکن ہے ہماری خارجہ پالیسی ہی میں کوئی نہ کوئی جھول ایسا ہو کہ ہم سعودی عرب کو اس طرح کا موقف اختیار کرنے پر راغب نہ کر سکے جس قسم کا موقف چین نے اختیار کیا ہے حالانکہ دونوں ملکوں کے مفادات بھارت میں یکساں ہیں چین کا تو سرحدی تنازعہ بھی چل رہا ہے

لداخ پر چین نے اپنا دعویٰ دہرایا ہے اور اسے بھارت کا حصہ بنانے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اس کے باوجود چین نہ تو خطے میں کشیدگی بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا اقدام کرنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے کشیدگی بڑھ کر باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کر لے حالانکہ بھارت اس کے لئے ڈرامہ بازیوں کی ایک سیریز بھی تیار کر چکا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں جعلی چوکی بنا کر اس پر پاکستانی پرچم لہرا دیا ہے اس ڈرامے کی آڑ میں کنٹرول لائن کے باہر کارروائی کا ڈرامہ رچانے کا منصوبہ ہے لیکن اس کے باوجود چین ضبط و تحمل کا مشورہ ہی دیتا ہے، روس نے بھی پاکستان اور بھارت کو اپنے تنازعات شملہ معاہدے اور اعلانِ لاہور کے تحت حل کرنے پر زور دیا ہے کچھ عرصے سے روس عالمی فورموں پر بھارتی طرز عمل کا ناقدبن کے سامنے آتا رہا ہے اور خصوصاً دہشتگردی کے حوالے سے اس نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا ہدف ہے اور بھارت کا یہ الزام کسی صورت درست نہیں مانا جا سکتا کہ پاکستان دہشتگردی کا سپانسر ہے اس کے باوجود کشمیر کے معاملے پر روس نے بھارت کے موقف کی حمایت کی ہے تو اس کا ضرور کوئی پس منظر بھی ہوگا۔

شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں سے کوئی نہ کوئی پاکستانی قرار داد کے راستے میں مشکلات کھڑی کر سکتا ہے اس کا خدشہ فرانس کی طرف کافی زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے کیونکہ بھارت فرانس سے اربوں ڈالر کے جدید ترین لڑاکا طیارے ”رافیل“ خرید رہا ہے۔ یہ سودا کئی سال سے چل رہا ہے اور کچھ عرصہ پہلے ہی فائنل ہوا ہے، بھارت ان طیاروں پر بہت زیادہ انحصار بھی کر رہا ہے فروری کے مہینے میں جب بھارتی طیاروں نے بالا کوٹ کے علاقے پر حملہ کیا اور پاکستان نے ایک طیارہ گرانے کے بعد پائلٹ کو حراست میں لے لیا تو مودی نے بڑی حسرت سے کہا تھا کہ کاش ہمارے پاس رافیل طیارے ہوتے اگرچہ مودی کو یہ بھی علم ہونا چاہئے کہ آج تک کوئی ایسا جنگی طیارہ نہیں بنا جو گرنے سے محفوظ و مامون ہو اور نہ ہی رافیل میں کوئی ایسی جادوئی صلاحیت ہے کہ اسے نشانہ نہیں بنایا جاسکتا، البتہ جدید ترین طیاروں کا یہ سودا بھارت اور فرانس کو اتنا قریب لے آیا ہے کہ سلامتی کونسل میں پاکستانی قرار داد آئی تو اسے فرانس کی جانب سے ویٹو کا خدشہ ہو سکتا ہے اور یہ کوئی پہلی مرتبہ تو نہیں ہو گا سلامتی کونسل میں قرار دادیں آتی اور ویٹو ہوتی رہتی ہیں۔

پاکستان کی بھی سیکیورٹی کونسل میں قرار دادیں ویٹو ہوتی رہیں اور روس اس میں پیش پیش رہا لیکن لگتا ہے ہمارے وزیر خارجہ کے ہاتھ پاؤں قرار داد پیش کرنے سے پہلے ہی پھولے ہوئے ہیں اور انہوں نے اسلام آباد سے مظفر آباد پہنچ کر صدر آزاد کشمیر مسعود خان کے ہمراہ بیٹھ کر قوم کو یہ بتانا ضروری سمجھا کہ وہ احمقوں کی جنت میں نہ رہے۔ حالانکہ یہ بھاشن دینے کے لئے ان کا مظفر آباد جانا بھی کوئی ضروری نہ تھا، ایسے ارشادات اسلام آباد میں بھی فرمائے جاسکتے تھے۔ بہرحال ان کی اس صاف گوئی پر قوم ان کی ممنون ہے کیونکہ اسے اسی وقت کچھ نہ کچھ اندازہ ہو گیا تھا جب ثالثی کی خبر پر جشن منائے جا رہے تھے اور اسے ورلڈ کپ جیتنے کے مماثل قرار دیا جارہا تھا ہم یہاں ثالثی میں مدہوش رہے اور عیار مودی نے اس سموک سکرین میں کشمیر پر کلی قبضے کا چن چڑھا دیا۔ اچھا ہوا شاہ محمود نے قرار داد پیش ہونے سے پہلے ہی تمام غلط فہمیاں دور کر دیں۔ اب قرارداد پیش ہو بھی جائے تو اس سے کیا توقعات وابستہ کی جائیں؟

مزید : رائے /اداریہ


loading...