امریکہ، مودی اور ہندوستان کے انتخابات(2)

امریکہ، مودی اور ہندوستان کے انتخابات(2)
امریکہ، مودی اور ہندوستان کے انتخابات(2)

  

انتخابات میں بی جے پی کی غیر معمولی کامیابی کو اگر جغرافیائی زاویئے سے دیکھا جائے تو ہندوستان کے مرکز میں بننے والا ہنددتوا کا دائرہ چاروں طرف سے اپنے مخالف علاقائی قوتوں میں گھرا ہوا نظر آتا ہے جس میں سے شمال میں واقع کشمیر کے بارے میں تو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ مغرب میں پنجاب ہے جس کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں۔ جنوب کی چار ریاستوں میں بھی علاقائی رجحانات غالب ہیں۔ مشرق میں مغربی بنگال میں جہاں اگرچہ بی جے پی نے پیش قدمی کی ہے اور 9 کے بجائے 18 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ اکثریت ترنول کانگریس کو ہی حاصل رہی۔ بی جے پی کے مخالف علاقائی رجحانات پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی ہندی سروس کے ایک مبصر نے تو یہ خدشہ تک ظاہر کردیا کہ وہاں بنگالی قومیت کی اس نوعیت کے تحریک نہ شروع ہو جائے جیسی پاکستان میں ہوئی تھی اور بنگلہ دیش وجود میں آیا تھا۔ اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال کے جس علاقے میں کامیابی حاصل کی ہے اس کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے۔ ہندوستان کے انتخابات میں قوم پرستی کے رجحان کو پیش نظر رکھتے ہوئے فاضل مبصرین نے اس کا سہرا جیش محمد کے سرباندھا تھا جس نے پلواما میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ہندوستان کو جوابی کارروائی کا موقع فراہم کر دیا تھا جس کے دوران اگرچہ ہندوستان کا طیارہ مار گرایا گیا تھا اور اس کا پائلٹ جنگی قیدی کے طور پر واپس ہوا، لیکن پھر سرجیکل اسٹرائیک کا یہ جادو انتخابی مہم میں سر چڑھ کر بولا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک کے نام سے بنائی گئی ایک مقبول فلم ہندوستان کے سینما ہالوں میں پہلے ہی چل رہی تھی جو طیارہ گرائے جانے سے پہلے کسی ایسی سرجیکل اسٹرائیک پر بنائی گئی تھی۔ جس کا سوائے خود ہندوستان کے کسی اور کو علم نہیں۔ پاکستان سے جنگ کے معاملے میں ہندوستان کے قوم پرست عوام کی اکثریت تصورات کی جس دنیا میں رہتی ہے اس کا اندازہ وزیراعظم مودی کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق لڑاکا طیارہ بادلوں میں چھپ کر راڈار سے بچتا ہوا پاکستان جاسکتا ہے۔ انتخابی ڈھونگ کے طور پر سرجیکل اسٹرائیکل کا معاملہ اپنی جگہ، لیکن مذہبی بنیادوں پر قوم پرستی کے بارے میں ہندستان کے عوام کی ذہنی کیفیت کی اصل غماز، کینسر کے مرض کی بنیاد پر ضمانت پر رہا دہشت گردی کے مقدمے میں مطلوب خاتون پر گیا ٹھاکر ہے جو بی جے پی کے ٹکٹ پر اپنے مدمقابل مدھیا پردیش کے سابق وزیراعلیٰ وجے سنگھ کو بھاری اکثریت سے ہرا کر کامیاب ہوئی پر گیا ٹھاکر زمانہ طالب علمی سے ہی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں سے منسلک رہی۔ اس پر 2008ء میں مسلمانوں کے اکثریتی علاقے میں بم دھماکہ کرنے کا الزام ہے۔ جس میں 6افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

مقامی طور پر تیار کردہ یہ بم ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ انہیں ہندوستان کے ٹیررازم اسکواڈ نے قتل دہشت گردی اور اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ پرگیا ٹھاکر نے جو سادھوی پرگیا کے نام سے جانی جاتی ہیں انتخابی مہم کے دوران مہاتما گاندھی کے قاتل وکیل ناتھورام گوڈسے کو بہت بڑا محب وطن قرار دیا تھا جس پر پورے ملک میں زبردست ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ حتی کہ خود نریندر مودی نے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ گاندھی کی بے عزتی پر سادھوی کو کبھی معاف نہیں کرینگے، لیکن اس کے باوجود سادھوی پرگیا بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سادھوی پرگیا ہندتوا کے معاملے میں نریندر مودی سے ایک قدم آگے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے اس مقابلے میں نریندر مودی مہاتما گاندھی سے یا بی جے پی کانگریس سے ایک قدم آگے ہیں۔ پاکستان سے ہزار سال کی شکست کا بدلہ لینے کا بیان کانگریس کی ہی عظیم رہنما اندرا گاندھی نے اس وقت دیا تھا جب وہ ہمسائے کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے خلاف سازش میں مصروف تھیں اور روس کی مدد سے پاکستان کے دوٹکڑے کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔ یہ تب کی بات ہے جب بی جے پی وجود میں بھی نہیں آئی تھی۔

اندرا گاندھی کو اس کامیابی کے نتیجے میں اس سے کہیں زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی تھی جو آج بی جے پی کو حاصل ہے۔ اندرا گاندھی کی جانب سے پاکستان کے خلاف کی جانے والی کارروائی یا ان کا یہ بیان جس سوچ کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ ان کے والد پنڈت نہرو اور کانگریس کی قیادت سے کچھ مختلف نہ تھی جس نے یہ سوچ کر پاکستان کا مطالبہ تسلیم کیا تھا کہ وسائل سے محروم نیا ملک چند ہفتوں میں ہی ان کے قدموں میں آگرے گا۔ اس کے علاوہ تقسیم کے وقت کئے گئے سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جس طرح حیدر آباد، جوناگڑھ اور دیگر ریاستوں کو ہڑپ کیا گیا اور کشمیرکو اپنے قبضے میں کرنے کے لئے بدنیتی پر مبنی جو کارروائی کی گئی یہ تمام واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر بی جے پی کے حامی کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ جس طرح اس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے حیدر آباد پر فوج کشی کی تھی اسی طرح کشمیر کو بھی فتح کر لیا جاتا تو اچھا ہوتا۔ یہ بات سن کر ایسا لگتا ہے کہ سردار پٹیل کانگریس کے نہیں بلکہ بی جے پی کے لیڈر تھے۔ ایسا کیوں نہ لگے ہندو مذہب کو کانگریس میں پٹیل اور نہرو کے گرو مہاتما گاندھی نے ہی جنوبی افریقہ سے واپسی پر اس وقت متعارف کروایا تھا جب وہ کانگریس میں شامل ہوئے تھے۔

اس سے قبل کانگریس ایک سیکولر جماعت تھی اور دور جدید میں جمہوری نظام کے ان تقاضوں سے مکمل مطابقت رکھتی تھی۔ جس میں مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے اور ر یاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ مہاتما گاندھی نے جو خود کو اخلاقی اور روحانی طور پر اعلیٰ و ارفع سمجھتے تھے کانگریس کو ہندو مذہب میں پوری طرح رنگ دیا اور ان خوبیوں کی بنا پر معاشرے کو بہتر بنانے کی کوشش کی جو ان کے خیال میں ہندو مذہب میں پائی جاتی تھیں۔ مہاتما گاندھی عدم تشدد کے بھی زبردست پرچارک تھے لیکن بین الاقوامی شہرت کے حامل معروف تاریخ دان امریکی پروفیسر پیری اینڈرسن کی حالیہ کتاب انڈین آٹیڈیولوجی کے مطابق مہاتما گاندھی کی شخصیت جنہوں نے کئی موقعوں پر تشدد کی حمایت بھی کی، تضادات کا مجموعہ تھی۔ پیری اینڈرسن کی بات میں وزن اس لئے بھی محسوس ہوتا ہے کہ مہاتما گاندھی نے اس بناپر ہٹلر کی بھی حمایت کی تھی۔

اس نے بھی شادی نہیں کی تھی اور ان کی طرح پاک صاف اور نیک انسان تھا۔ مہاتما گاندھی ہندو مذہب کو جس میں پیشے وراثت میں ملتے ہیں اور جس میں مسلمانوں کی کوئی گنجائش نہیں، پوری دنیا کے لئے ایک مثالی نظام سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اسی نظام نے ہندو مذہب کو ٹوٹ پھوٹ سے بچایا ہے۔ وہ چھوت کے قائل نہیں تھے لیکن مل جل کر کھانے پینے اور آپس میں شادیاں کرنے کو جمہوریت کی روح کے لئے ضروری سمجھتے تھے۔ ہندو مذہب کے بارے میں کانگریس کے ایک اور بہت بڑے لیڈر امبیدکر جنہوں نے ہندوستان کا آئین تحریر کیا۔کہا کہ ہندو ازم شخصی آزادی، اخوت اور برابری کے لحاظ سے ایک لعنت ہے۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -