آزادی اظہار اور آزادیئ صحافت مگر!

آزادی اظہار اور آزادیئ صحافت مگر!
آزادی اظہار اور آزادیئ صحافت مگر!

  

پاکستان کے آئین میں آزادیئ اظہار کی مکمل ضمانت دی گئی اور اس کے ساتھ ہی اس آئین میں قومی سلامتی کے خلاف ہرزہ سرائی کی ممانعت بھی کی گئی ہے،جس کا مقصد ہے کہ آزادیئ اظہار کی اجازت کا قومی مقاصد کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا، اس اظہار کی تشریح بھی کی گئی جو مختلف الخیال لوگوں کے خیال اور انداز میں الگ الگ بھی ہے، تاہم اس کے لئے عدالت عظمیٰ نے بعض مقدمات میں رہنمائی بھی کی ہے، لہٰذا ان حدود کو مدنظر رکھیں تو کوئی تنازعہ نہیں۔جہاں تک آزادیئ صحافت کا تعلق ہے تو اس کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس کی ضمانت بھی اظہارِ رائے کے آرٹیکل ہی سے موسوم ہے، ہم مکمل طور پر اس حق میں ہیں کہ جو دیکھا جائے وہی لکھا اور کہا بھی جائے۔ ایک دور تھا، جب الیکٹرونک میڈیا نہیں تھا اور پرنٹ میڈیا ہی کا راج تھا، تب بھی کئی نامناسب قدغنیں تھیں جو آج تک چلی آ رہی ہیں،ہم نے اپنی یونین اور فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے اس کے لئے بہت جدوجہد کی۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں تو بے روزگاری بھی جھیلی،جبکہ اپنے پیشہ ئ صحافت میں بھی کافی پیچھے رہنا پڑا۔ہم کارکنوں کی جدوجہد اور قربانیوں سے آزادی حاصل تو ہوئی،تاہم جہاں تک اور جتنی بھی ملی وہ ہم کارکنوں کے لئے نہیں آجروں کے لئے تھی اور آج تک بھی یہی صورتِ حال ہے۔

بات کو آگے بڑھانے سے قبل گزارش کر دیں کہ زیادہ شور اور ہنگامہ الیکٹرونک میڈیا کی آمد سے ہوا اور اعتراضات کے باعث ایک مرتبہ پھر سے آزادیئ صحافت پر بھی بات شروع ہو گئی، جس طرح ہمارے ملک میں جمہوریت ہر دم خطرے میں ہے، ایسے ہی آزادیئ صحافت بھی زنجیروں میں ہے،ہم مکمل تر آزادیئ صحافت کے حق میں یقینا ہیں،لیکن اس کے ساتھ ہی ذمہ داری کی بھی بات کرتے ہیں۔ہماری یہ بات ہمارے بھائیوں کو شاید بری بھی لگے تاہم ہمارا یقین ہے کہ صحافت بھی معاشرتی اقدار، ملکی آئین اور اخلاق کی حدود میں ہی رہنا چاہئے اور یہ سب ہم کارکنوں کو خود اپنے اوپر لاگو کر لینا چاہئے کہ مادرپدر آزاد صحافت تو ممکن نہیں، تاہم ہم حکومت کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ بے جا قدغن لگائے اور حکمران اپنے ریاستی کی بجائے جماعتی مفادات کے تابع اقدامات کرے اور بے جا پابندیاں لگائے۔

اب اگر اسی نقطہ نظر سے یہ بات کر لی جائے کہ ہم کہاں حدود کو نظر انداز کرتے ہیں تو اس کی ایک مثال کافی ہے، ہمارے سیاست دان حضرات کا جو وطیرہ ہے تو بتدریج وہاں بھی بہت زوال ہے، اور طرزِ گفتگو بدزبانی اور بے جا الزامات تک چلا گیا ہے اور اکثر ناگفتنی کہہ دی جاتی ہے۔یہاں ہمارا فرض ہے کہ ہم خود اپنے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے دیکھیں اور پرکھیں کہ مقرر جو کہہ رہا ہے وہ رپورٹ ہونے کے قابل ہے یا نہیں،جہاں تک پرنٹ میڈیا کا تعلق ہے تو یہاں ”چیک اینڈ بیلنس“ کی گنجائش موجود ہی نہیں،بلکہ عمل بھی ہوتا ہے کہ اخبار24 گھنٹے میں شائع ہونا ہوتا ہے۔ رپورٹر کی فائل کردہ خبر،اورایڈیٹوریل یا ایڈیشنوں کے مضامین ایڈیٹنگ کے عمل سے گذرتے اور درست کئے جاتے ہیں،اس کے باوجود اشاعت کے بعد ایڈیٹر ہر لفظ کے لئے جواب دہ ہوتے ہیں،جہاں تک الیکٹرونک میڈیا کا تعلق ہے تو یہاں بھی احتیاط تو لازماً ہوتی ہو گی، لیکن یہ جو براہِ راست کوریج ہے یہ بدمزگی کا باعث ہے،کیونکہ جب آپ جلسہ عام کی کوریج لائیو کرتے ہیں تو آپ کے پاس (پروڈیوسرز روم میں) محض چند سیکنڈ ہوتے ہیں کہ آپ کسی غلط لفظ یا الفاظ کو نشر ہونے سے روک سکیں،اگرچہ یہ اِس لئے ممکن نہیں ہوتا کہ مقرر تو بات کرتے ہوئے کہے چلا جاتا ہے اور یہاں سٹوڈیو میں اسے ایڈٹ کرنے کے لئے وقت ہی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یوں یہ براہِ راست کوریج بسا اوقات ایسے الفاظ نشر کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے،جو غیر مناسب ہوتے ہیں اِس لئے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے علاوہ کارکنوں کی نمائندہ تنظیموں کی مشاورت ہی سے ضابطہ اخلاق مرتب ہونا چاہئے،جس پر عمل ہو،یہ نہیں کہ ماضی کی طرح ادارے، کمیشن یا کمیٹیاں اور کونسلیں بنا لیں،لیکن یہ سب بھی آزادیئ صحافت کا تحفظ نہ کر سکیں۔

آج کل تو سوشل میڈیا نے پریشانی پیدا کر رکھی ہے اور ایک مفید مواصلاتی ذریعہ بہت سے غیر اخلاقی کاروباروں کے لئے بھی استعمال ہو رہا ہے، جبکہ یہ سوشل میڈیا ملک دشمنی،نفرت انگیزی، شدت پسندی اور افواہ سازی کے لئے بھی بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے،اس کے ذریعے اخلاقی بے راہ روی بھی پیدا ہو رہی ہے اور ہماری نئی نسل متاثر ہے۔اِس سلسلے میں ریاست دشمنی بھی جاری ہے، حکومت اور ریاستی اداروں کے لئے مشکل بہت ہے۔اگرچہ پیمرا اور دوسرے قومی ادارے کوشش کرتے ہیں،مگر مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو پا رہے۔

ان حالات ہی میں وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اپنے طور پر ایک پروجیکٹ شروع کیا، جس کی ذمہ داری ایک سینئر اور تجربہ کار شخصیت شبیر انور کے سپرد کر دی گئی۔انہوں نے گزشتہ ہفتے ہمارے ساتھیوں سمیت سب کو اس منصوبے سے آگاہ کیا،جس کا مقصد نفرت انگیز اور شدت پسندی کی برائیوں کو اُجاگر کرنے اور شہریوں کو بیدار کرنا ہے،اسی طرح فرقہ واریت، لسانیت اور عصبیت کے خراب پہلوؤں کو عکاسی کے حوالے سے الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے شعور بیدار کرنا ہے، اس سلسلے میں جو کچھ دکھایا گیا وہ بہت ہی متاثر کن ہے اور یقینا یہ منصوبہ جو2012ء سے شروع ہوا 2014ء سے اس کے روشن پہلو سامنے لائے گئے، بہت مفید ہے اور معاشرتی طور پر مفید ثابت ہو گا۔ شبیر انور مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس دور میں ہم آزادیئ صحافت کے ”علمبردار“ حضرات کو بھی متاثر کیا۔

مزید :

رائے -کالم -