مسئلہ کشمیر کا مستقبل- ماضی و حال کے آئینے میں

مسئلہ کشمیر کا مستقبل- ماضی و حال کے آئینے میں
مسئلہ کشمیر کا مستقبل- ماضی و حال کے آئینے میں

  

5 اگست کے مودی سرکار کے کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی کارروائی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتیرس نے بڑے واضح انداز میں کہا ہے کہ کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہوگا۔ یہ بیان حوصلہ افزا ہے کیونکہ یہ انتہائی معتبر عالمی ادارے کے ذمہ دار ترین فرد کی جانب سے دیا گیا ہے اس لئے ہمارے پاس اس بیان بارے شک و شبے کی بظاہر گنجائش نظر نہیں آتی۔ فی الحقیقت عالمی امن کے نگران و نگہبان ادارے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل نے طاقتور اقوام کے افکار و نظریات کے مطابق امن و سلامتی اور انسانی حقوق کی بحالی کے لئے جنگوں کو شروع کرنے، انہیں جاری رکھنے، ممالک پر اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کے لئے ”تاریخی قراردادیں“ پاس کیں کیونکہ ان قراردادوں کے پیچھے طاقتور اقوام تھیں اس لئے ان پر من و عن عمل در آمد بھی ہوتا رہا ہے۔ لاکھوں انسانوں کو قتل و اپاہج کرنے کا کام بخوبی سر انجام پاتا رہا۔

9/11 کے فوراً بعد امریکی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اقوام متحدہ و سلامتی کونسل کی سرپرستی حاصل تھی۔ کیا کسی نے امریکہ سے پوچھا کہ 9/11 کے وقوعہ کے حوالے سے اس کے پاس القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی ہیں کہ نہیں۔ کسی نے اس واقع سے متعلق تحقیقات کر کے حقائق دنیا کے سامنے رکھے۔ برطانیہ اور امریکہ نے مل کر صدام حسین پر الزام لگایا کہ وہ ”وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار“ بنا رہا ہے جو غیر قانونی ہے انہوں نے اس الزام کے تحت اقوام متحدہ سے عراق پر حملہ کرنے اور صدام حکومت ختم کرنے کی قرارداد پاس کرائی اور اس پر فوری طور پر عمل درآمد کے لئے امریکہ و برطانیہ اس پر پل پڑے۔ عراق کو بیخ و بُن سے اکھاڑ پھینکا۔ ہزاروں نہیں لاکھوں انسان ہلاک و مجروح ہوئے سینکڑوں، ہزاروں نہیں لاکھوں عراقی خواتین دربدر ہو گئیں، ریاستی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا گیا بعد میں پتہ چلا کہ صدام حسین پر ایسے ہتھیار بنانے کا الزام من گھڑت تھا صرف عراق پر حملہ کرنے کے لئے بہانہ تراشا گیا اور اقوام متحدہ کو مکاری کے ذریعے قرار داد پاس کرنے کی طرف لایا گیا۔

اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل کی ایسی لا تعداد قراردادیں پڑی ہیں جن پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے ان میں سر فہرست وہ قراردادیں ہیں جن کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ شملہ معاہدے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہوگا۔ اگر ان تمام قراردادوں کو مختصراً بیان کیا جائے تو ان کے مطابق کشمیریوں کو کسی بھی ریاست (پاکستان یا ہندوستان) کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار دیا جائے گا اور اس کے لئے استصواب رائے کرایا جائے گا۔ یعنی کشمیری 72 سالوں سے اپنے حق رائے دہی کے لئے اقوام عالم کے وعدوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں لیکن ان کی کوئی نہیں سنتا ہے۔اب تو بھارت نے بین الاقوامی قراردادوں اور معاہدوں پر خطِ تنسیخ پھیرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ سٹیٹس کو یکسر ختم کر کے اسے اپنی یونین میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا ہے وہاں 7 لاکھ فوج پہلے ہی تعینات تھی اس میں 1 لاکھ 80 ہزار کا مزید اضافہ بھی کر دیا ہے۔ 5 اگست سے وہاں کرفیو نافذ ہے کمیونیکیشن کے تمام ذرائع انٹرنیٹ، ٹیلی فونی، سیلولر ٹیلیفونی اور ابلاغ کے دیگر ذرائع کا مکمل طور پر گلا گھونٹ دیا گیا ہے دنیا کو کچھ نہیں پتہ کہ وہاں کشمیریوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن ایک بات بڑی واضح ہے کہ وہاں جو کچھ بھی ہور ہا ہے خوفناک ہے، خطرناک ہے، بھارتی عیاری و مکاری ہے ایک سازش ہے سوچی سمجھی۔

عالمی برادری، اقوام عالم اور اس کی سیکیورٹی کونسل کی درجنوں قراردادیں فلسطینیوں کے علیحدہ وطن کے حق میں پاس شدہ موجود ہیں لیکن اسرائیل انہیں تسلیم نہیں کرتا۔ جنرل اسمبلی میں قرارداد پیش کر کے منظور کر کے اسرائیل کے یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنانے کے اقدام کی نفی کی گئی۔ دنیا بھر نے اس کی مخالفت کی، لیکن اسرائیل یروشلم کو ایسے ہی اسرائیل میں ضم بھی کر چکا ہے۔ (جیسے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کیا ہے) اور اسے ریاست اسرائیل کا دارالحکومت بھی قراردے دیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے اس اقدام کو تسلیم بھی کر لیا ہے اور اپنا سفارتخانہ بھی تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا نہ صرف اعلان کیا ہے بلکہ اسے جاری بھی کر دیا ہے۔

پھر اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف سیکیورٹی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی گئی جسے اس کے تمام 14اراکین نے سوائے امریکہ کے، منظور کیا لیکن امریکہ نے اس کی مخالفت کی اور اس طرح اسرائیل کا یروشلم پر غاصبانہ قبضہ برقرار رہا۔ اسرائیل اور اس کی نا انصافیوں کے خلاف اخوان المسلمون ایک طاقتور آواز تھی ایک دستِ آہن تھا صہیونیوں، عیسائیوں اور یہودیوں نے عرب و عجم کے مسلمان حکمرانوں کے ساتھ مل کر اسے شل کر دیا ہے اخوان عربوں کی قوت تھی عربوں کا بازوئے شمشیرزن تھا نظریاتی و عسکری قوت، گزری صدی میں سرزمین عرب پر شاید ہی کوئی فکری تحریک ایسی ہو گی جس کے ڈانڈے اخوان سے نہ ملتے ہوں عربوں کی ہر مزاحمتی تحریک کی جڑیں کہیں نہ کہیں اخوان سے ضرور ملتی ہیں اسلام و مسلمان دشمنوں نے اخوان کا خاتمہ کرنے کی مربوط اور مضبوط کاوشیں کیں یہ الگ بات ہے کہ انہیں فکری میدان میں شکست ہوئی لیکن انہوں نے اخوان کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کے لئے کوئی مؤثر اقدام اٹھا سکیں۔ اخوان کو اسرائیل نے شکست نہیں دی بلکہ یہ کام خود عرب حکمرانوں نے سر انجام دیا ہے ایسا ہی کچھ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔

کشمیر کی موجودہ مزاحمتی تحریک کا آغاز 1989ء سے ہوا جب افغانستان میں اشتراکی فوجوں کو شکست ہوئی۔ جنرل ضیاء الحق، افغانستان میں اشتراکیوں کی شکست کے بعد جہاد کشمیر شروع کرنے کے حوالے سے مکمل طور پر تیار اور یکسو تھے لیکن وہ 1988ء میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔ اس کے بعد کشمیریوں کی تحریک آزادی کو پاکستان سے وہ سپورٹ نہ مل سکی جو اس کا حق تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سفارتی سطح پر بھی مسئلہ کشمیر کو اجاگر نہیں کر سکے۔ 9/11 کے بعد کشمیریوں کی تحریک آزادی کو اور ہی رنگ میں رنگ دیا گیا۔ جہادی تنظیموں پر بھی دہشت گردی کے الزامات لگنے لگے دہشت گردی کی امریکی عالمی جنگ میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور ہماری جہادی تنظیمیں بھی نشانہ بننے لگیں اس دوران ہندوستانی قیادت نے امریکہ کے ساتھ اپنے جاری تعلقات کو اور بھی موثر بنایا اور پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کے الزامات کو سچ ثابت کرنے کی سیاسی و سفارتی حکمتِ عملی اختیار کی۔

کشمیر اور آزادی کشمیر کے لئے ہمارے پاس جو بازوؤے شمشیر زن تھے ان پر پابندیاں عائد کی جانے لگیں آج صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط ہیں تو دوسری طرف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا شکنجہ۔دونوں ایک ہی طرف جا رہے ہیں ایک ہمیں معاشی طور پر نڈھال کرنے کے در پے ہے تو دوسرا جہادی تنظیموں کا جڑ سے خاتمہ کرنے پر تلا ہوا ہے اور یہ دونوں کام ہم اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں ہم آئی ایم ایف کی شرائط پر من و عن عمل پیرا ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان شرائط پر عمل درآمد سے ہماری قومی، معاشی و معاشرتی زندگیوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ہم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی باتیں، ہدایات بلکہ احکامات پر بھی من و عن عمل کر رہے ہیں یہ دیکھے و سمجھے بغیر کہ اس کے ہماری قومی وحدت و سلامتی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ذرا ہوش کی آنکھ کھول کر دیکھیں آج ہمارے پاس کشمیریوں کی مدد کرنے کے کون کون سے آپشن موجود ہیں۔ عالمی سیاست کو ہی لیں۔ ہندوستان کی مودی سرکار اپنی مسلم دشمن پالیسیوں کے باعث صہیونی و عیسائی حکمرانوں کی آنکھ کا تارا بنی ہوئی ہے اسرائیل کا فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھانے کا تجربہ اس کے ہم رکاب ہے۔

چین کو گھیرنے کی امریکی پالیسی کے باعث ہندوستان، امریکہ کا سٹریٹیجک پارٹنر بن چکا ہے ہندوستان اس خطے میں چودھری کا رول ادا کر رہا ہے۔ اب اس نے کشمیر پر بھرپور وار کر دیا ہے۔ سیاست اور سفارت کے بعد اس نے اپنا عسکری بازو بھی استعمال کر کے مسئلہ کشمیر کو یکطرفہ طور پر حل کر دیا ہے ہم منہ ہی دیکھتے رہ گئے ہیں۔اب ہم اپنی صورت حال دیکھیں تو قومی و سیاسی طور پر افتراق و تفریق کا شکار ہیں نظری و فکری طور پر جس اتحاد و یگانگت کی ضرورت ہے وہ ہم میں بالکل مفقود نظر آ رہی ہے ابھی تک وہ صفحہ ہی سامنے نہیں آ سکا ہے جس پر سب اکٹھے کئے جا سکیں۔ ہماری سیاست، سفارت کمزور نظر آ رہی ہے۔مسلم امریکن آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس بھی ”او آئی سی“ کا نظارہ پیش کر رہی ہے مسلم ممالک عرب و عجم میں تقسیم ہیں ان کی نہ تو کوئی اجتماعی آواز ہے اور نہ ہی کوئی مشترکہ موقف، عرب ممالک تو فلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی کے حوالے سے بھی ناکامی کا سامنا کر چکے ہیں۔

سرائیل نے اپنے تئیں مسئلہ فلسطین ایسے ہی حل کر دیا ہے جس طرح مودی سرکار نے مسئلہ کشمیر حل کر کے رکھ دیا ہے۔پھر کیا کرنا چاہئے؟ ہندوستان کو کشمیریوں پر ظلم و ستم کرنے سے باز رکھنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کو مرنے نہ دیا جائے کشمیری گزری 3/4 دہائیوں سے بھارتی سنگینوں کا مقابلہ کرتے کرتے صیقل ہو چکے ہیں۔ بھارت کا فوجی اب انہیں ڈرا نہیں سکتا ہے مار ضرور سکتا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت پر فوجی دباؤ ڈالا جائے۔ کشمیر میں پہلے سے موجود مزاحمتی تحریک کو ریاستی پالیسی کے تحت سپورٹ کیا جائے۔ جذبات سے نہیں ہوش سے، حکمت عملی سے، ذہانت سے، ہماری مسلح افواج یہ سب کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو ان کے پیچھے ہی نہیں دائیں بائیں بھی کھڑا کر دیا جائے تاکہ وہ ہندوستان کو آہنی ہاتھوں سے روک دیں۔

مزید :

رائے -کالم -