سفارتی محاذ پر مایوسی کا اظہار کیوں؟

سفارتی محاذ پر مایوسی کا اظہار کیوں؟
سفارتی محاذ پر مایوسی کا اظہار کیوں؟

  

ابھی کل ہی کی بات ہے ملتانی مخدوم شاہ محمود قریشی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ دورہئ امریکہ سے کامیابیاں سمیٹتے واپس اپنے آبائی شہر ملتان پہنچے تو شہر میں جگہ جگہ ان کے لئے جو استقبالیہ بینرز لگائے گئے ان پر انہیں پاکستانی تاریخ کا کامیاب ترین وزیر خارجہ لکھا گیا تھا۔ خاص طور پر کشمیر کے مسئلے کو زندہ کرنے کا سہرا بھی ان کے سر باندھا گیا، آج وہی کامیاب وزیر خارجہ یہ کہتے ہیں کہ شق 370 کے ایشو پر بھارت کے خلاف دنیا کی حمایت حاصل کرنا مشکل ہے، تو حیرت ہوتی ہے کسی ملک کا وزیر خارجہ کبھی اپنی ناکامی یا شکست تسلیم نہیں کرتا۔ یہ بات تو سفارتی اصولوں کے خلاف ہے۔ وہ اپنی بات جاری رکھتا ہے اور دنیا مانے یا نہ مانے اس پر ڈٹا رہتا ہے۔ کیا بھارت نے 72 برسوں میں کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ نہیں کہا حالانکہ اس عرصے میں کئی بار ایسے مواقع بھی آئے کہ دنیا بھارت کا ساتھ دینے سے کنی کترانے لگی، مگر اس کے باوجود کبھی بھارت کے وزیر خارجہ نے یہ گردان نہیں چھوڑی کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔

پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ آغاز ہی میں ہمت ہار گئے ہیں۔ ان کی یہ بات درست ہے کہ بھارت سے دنیا کے اہم ممالک کا مضبوط معاشی تعلق ہے۔ بہت بڑی مارکیٹ کا حامل ملک ہونے کے ناطے بھارت سرمایہ دار ممالک کی آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ خلیجی ممالک جن میں سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات جیسے امیر کبیر ممالک شامل ہیں وہ بھی بھارت کو آنکھیں نہیں دکھا سکتے۔ اس بار تو یہ بھی ہوا کہ مذمت کا بھی بیان تک جاری نہیں کیا گیا۔ کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی کا فوری اجلاس بھی شاید اسی وجہ سے نہیں ہو سکا کہ امت مسلمہ بٹی ہوئی ہے۔ یہ سب حقیقتیں اپنی جگہ، مگر ہمارے وزیر خارجہ کو اپنی شکست کا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا چاہئے تھا۔ پھر سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر بھارت کے خلاف 370 کی شق پر عالمی حمایت نہیں مل رہی تو سلامتی کونسل میں یہ معاملہ کیوں لے جایا گیاہے، کیا وہاں ہم نے موثر لابی کی ہے۔ کیا وہاں بھارت کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں کوئی قرارداد پاس ہو سکے گی، اگر ملک کے وزیر خارجہ پہلے ہی حوصلہ ہار چکے ہیں تو سلامتی کونسل میں کیسے اپنا موقف ثابت کر سکیں گے جہاں بیٹھتے ہی دنیا کے بڑے ممالک ہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو اگر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں، وزیر خارجہ نے وہ بات کہہ دی ہے، جو سچ بھی ہو تو نہیں کی جاتی۔ اگر انہیں اپنی ابتدائی کوششوں کے بعد یہ احساس ہو ہی گیا تھا کہ دنیا اس مسئلے پر بھارت کے خلاف بات سننے کو تیار نہیں تو انہیں اس کا اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس سے ایک طرف بھارت کو ہلہ شیری ملی اور دوسری طرف کشمیریوں کے حوصلے پست ہوئے اور تیسرا یہ کہ پاکستانی عوام بھی مایوسی کا شکار ہو گئے۔ یہ کامیاب سفارت کاری تو ہرگز نہیں کہی جا سکتی۔ بلاول بھٹو زرداری تو پہلے ہی لٹھ لے کر حکومت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، انہوں نے وزیر خارجہ کے اس بیان کو بد ترین ذہنی شکست قرار دیا۔ حکومتی وزراء یہ تاویلیں دے رہے ہیں کہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے یہ نہیں کہا، ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ خود شاہ محمود قریشی نے اپنے اس بیان کی وضاحت نہیں کی۔ غور کیا جائے تو خارجہ محاذ پر زیادہ مشکلات بھارت کے لئے ہیں، پاکستان کے لئے نہیں۔

کیونکہ پاکستان کشمیریوں کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ بھارت کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے، وہ کتنا ہی اپنے مظالم کو چھپا لے، دنیا کے میڈیا کو مقبوضہ کشمیر نہ آنے دے، سوشل میڈیا بند کر دے، کرفیو لگا کر سب اچھا ہونے کی ڈرامہ بازی کرے، حقیقت یہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں ایک ظالم ریاست کے طور پر بدنام ہو چکا ہے، اس کا سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویٰ پانی کا بلبلہ بن چکا ہے۔ عالمی نشریاتی ادارے اور اخبارات مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کے بدترین حالات کی نشاندہی کر رہے ہیں، گویا پاکستان جو کہہ رہا ہے، دنیا کا میڈیا اس کی تصدیق کر چکا ہے۔ پھر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت میں موجود بڑے ممالک کے سفارت خانے صورت حال سے اپنے حکمرانوں کو آگاہ کر رہے ہیں، جو یقیناً ایک آتش فشاں بن چکی ہے، جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی مؤثر سفارت کاری اور محکمہ خارجہ کا مضبوط مؤقف دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ سکتا ہے۔

بھارت کے پاس صرف ایک ہی دلیل ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، پاکستان سمیت کسی دوسرے ملک کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں لیکن یہ مؤقف تو دنیا کے ہر اس حکمران نے اختیار کیا جو جابرانہ قبضہ جمائے بیٹھا تھا، لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے ایسے شورش زدہ علاقوں میں یو این او کی امن فوج بھیجی۔ کیا وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی امن فوج ابھی تک نہیں بھیجی گئی، حالانکہ دس دن ہونے کو آئے ہیں، وادی میں کرفیو لگا ہوا ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی وجہ سے بڑے ممالک اس معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔ تو یہ بھی کوئی مضبوط مؤقف نہیں۔ یاد رہے کہ دنیا کا ایک اجتماعی شعور اور اجتماعی کردار بھی ہے۔ یہ نہیں کہ ہر ملک کا حکمران ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ وہ جیسے چاہے حکمرانی کرے۔ دنیا کے ہر بڑے ملک میں ایک مضبوط اور متحرک سول سوسائٹی موجود ہوتی ہے۔ جو اپنی خاص آنکھ سے واقعات و معاملات کو دیکھتی ہے۔ وہاں جانوروں پر ظلم کے خلاف لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں، یہاں تو ایک کروڑ بیس لاکھ انسانوں پر ظلم ہو رہا ہے، اس ظلم کی خبریں جب عالمی میڈیا اور سوشل نیٹ ورک کے ذریعے ان ممالک کے عوام تک پہنچیں گی تو ان کے مظاہرے وہاں کے حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں گے۔ کشمیری اور پاکستانی پہلے ہی بھارتی مظالم کی دہائی دے رہے ہیں، ایسے میں دنیا کے لئے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ وہ کشمیر کے معاملے میں صرف اس وجہ سے غیر جانبدار رہے کہ بھارت کے ساتھ اقتصادی روابط پر آنچ نہ آئے۔

پاکستان میں کشمیریوں کے لئے مکمل سپورٹ موجود ہے۔ اس کا اظہار 14 اگست کو یوم آزادی پر بھی ہوا ہے، آج یوم سیاہ پر بھی ہو جائے گا۔ اس طرح آج دنیا بھر میں کشمیری اور پاکستانی، بھارتی مظالم اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف یوم سیاہ منا رہے ہیں کیا اہل یورپ و امریکہ اس صورت حال سے بے خبر ہیں، کیا انہیں اندازہ نہیں کہ جنوبی ایشیاء کا ایک بڑا علاقہ جنگ کے خطرات کی لپیٹ میں آ گیا ہے کیا وہ اس موقع پر آنکھیں بند کر سکتے ہیں؟…… ہرگز نہیں، بھارت نے تو اب کام مزید آسان کر دیا ہے۔ پہلے اس کا پروپیگنڈہ مظلومانہ تھا کہ پاکستان کی طرف سے کشمیر میں در اندازی ہوتی ہے۔ اب اس نے خود پچھلے آٹھ دس دن میں ثابت کر دیا ہے کہ اس کا مقبوضہ کشمیر میں سرے سے کوئی کنٹرول ہی نہیں، بلکہ وہ نہتے عوام کو فوج کی سنگینوں اور گولیوں کے سائے میں محبوس کئے ہوئے ہے۔ اب ایک بدلی ہوئی سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ پہلے تو دنیا کو یہ باور کرانا پڑتا تھا کہ مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جسے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے ذریعے حل ہونا چاہئے جبکہ بھارت سب اچھا کا راگ الاپ کر دنیا کو یہ تاثر دیتا تھا کہ کشمیریوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان سے آنے والے دہشت گردوں کی وجہ سے صورت حال خراب ہے

اب وہ خود ہی ایک بڑے جال میں پھنس چکا ہے۔ اس نے خود دنیا کو بتایا ہے کہ کشمیریوں کے لئے خصوصی شقیں ختم کر دی ہیں اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا ہے۔ اس کے بعد کشمیری عوام کے رد عمل کو دبانے کے لئے اس نے مقبوضہ وادی کو جہنم بنا دیا۔ یہ باتیں ہوا میں نہیں بلکہ خود بھارت کی اپوزیشن، عالمی میڈیا اور کشمیری رہنما کہہ رہے ہیں میرے نزدیک تو یہ بہت ساز گار حالات ہیں، جن میں بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔ شاہ محمود قریشی کو چاہئے کہ وہ نہ تو خود مایوس ہوں نہ اپنی وزارت خارجہ کے حکام کو مایوس کریں۔ کامیاب سفارت کاری کا یہی موقع ہے جب بھارت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے اور اس کے پاس دنیا کو قائل کرنے کے لئے ایک بھی مضبوط دلیل نہیں۔ بعض ممالک کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں، مگر کوئی ملک بھی یہ نہیں چاہتا کہ اس کے ماتھے پر کسی ظالم کا ساتھی ہونے کی تصدیقی مہر لگ جائے۔ کشمیریوں کو دنیا کی حمایت ملے گی۔ آج نہیں تو کل بھارت اس معاملے میں تنہا رہ جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -