آئندہ دو چار ماہ پاکستان کے لئے اہم ہوں گے!

آئندہ دو چار ماہ پاکستان کے لئے اہم ہوں گے!
آئندہ دو چار ماہ پاکستان کے لئے اہم ہوں گے!

  

یہ محض کوئی شاعرانہ کذب بیانی نہیں کہ کواکب اصل میں کچھ اور ہوتے ہیں اور جیسے نظر آتے ہیں ویسے نہیں ہوتے۔ …… اب آپ یہی دیکھئے کہ22 جولائی کو صدر ٹرمپ نے عمران خان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انڈین پرائم منسٹر نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ کشمیر کے سوال پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کروائیں۔بظاہر یہ ایک دھماکہ خیز خبر تھی۔ لیکن ہمارے کسی دانشور نے یہ نہ سوچا کہ انڈیا تو امریکہ کا سٹرٹیجک پارٹنر ہے اور انڈیا،1947-48ء کی کشمیر وار سے لے کر اب تک کے72 برسوں میں کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا آیا ہے اور اس پر اصرار کرتا رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ شملہ معاہدے کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک دوطرفہ مسئلہ ہے،کوئی تیسرا ملک اس دوطرفہ ڈائیلاگ میں شرکت نہیں کر سکتا۔

سوچنے والی بات یہ تھی کہ اب اچانک امریکہ کو کیا پرابلم آن پڑی تھی کہ وہ ثالثی کا ڈول ڈالتا۔…… کیا انڈیا، پاکستان کے مقابلے میں کسی نئی محدودیت سے دوچار ہو گیا تھا؟……کیا مقبوضہ کشمیر میں کوئی ایسا نیا حادثہ رونما ہو گیا تھا کہ مودی کو ٹرمپ سے ثالثی کی درخواست کرنی پڑی؟…… آخر کیا وجہ تھی کہ صدر ٹرمپ نے دو بار ثالثی والی پیشکش کا ذکر کیا۔

میرے نزدیک یہ چال امریکہ کی طرف سے ایک سٹرٹیجک فریب (Deception) تھا جس کے ڈانڈے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا سے جڑے ہوئے تھے۔انڈیا کو یہ فائدہ پہچانا مقصود تھاکہ وہ آرٹیکل370 اور 35-A کو اپنے آئین سے قلمزد کر دے، وادی میں اپنے ہزاروں نئے ٹروپس صف بند کر دے،سارے کشمیر میں کرفیو نافذ کر دے، انٹرنیٹ سروسز معطل کر دے، سکول اور کالج غیر معینہ مدت تک بند کر دے، حریت رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دے یا گرفتار کر لے اور لائن آف کنٹرول پر ٹروپس کی تعداد میں اضافہ کر دے۔

ہم دیکھ رہے ہیں گزشتہ دس بارہ دِنوں سے پورا پاکستان اسی جھمیلے میں گرفتار ہے اور میڈیا پر دن رات کشمیر کی اس کشیدہ صورتِ حال کی رٹ لگائی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھا گیا کہ انڈیا، مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ظلم و ستم کی نئی انتہا کر رہا ہے، ہمارے وزیر خارجہ بیجنگ جا پہنچے،اور اب ان کی وزارتِ خارجہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی تیاریاں کر رہی ہے۔ معاملہ یہاں تک چلا گیا ہے کہ خود وزیراعظم سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔…… حیرت ہے کہ کسی پاکستانی دانشور نے ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش اور کشمیر میں بھارت کے جارحانہ اقدامات کی ٹائمنگ پر بھی کوئی غور نہیں کیا۔ یہ اچانک نئی گریٹ گیم افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے لئے ایک سٹرٹیجک حربے کے طور پر بھی کھیلی جا سکتی ہے اور اس طرح کے حربوں سے نہ صرف امریکن ملٹری ہسٹری بلکہ ورلڈ ملٹری ہسٹری بھری پڑی ہے۔

مَیں نے کل کے کالم میں بھی اس طرف اشارہ کیا تھا کہ باوجود اس کے کہ اس بار بارشوں نے کراچی اور دوسرے ساحلی شہروں (ٹھٹھہ،بدین بلکہ حیدر آباد تک بھی) میں تباہی مچا دی ہے، لیکن فوج اور رینجرز کی وہ ”امدادی گہما گہمی“ جو پہلے اس قسم کی صورت حال کے دوران دیکھنے میں آیا کرتی تھی، نظر نہیں آتی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے نہ صرف لائن آف کنٹرول بلکہ سارے مشرقی بارڈر پر فوج کی زیادہ سے زیادہ ڈیپلائے منٹ کر رکھی ہے تاکہ انڈیا اگر زیادہ تنگ کرے تو اس کا خاطر خواہ جواب دیا جائے۔ ……(سٹرٹیجک ریزروز کی بات دوسری ہے)…… دوسری طرف فوج نے اگرچہ آنے والی کسی جنگ کے امکان کو رد نہیں کیا، لیکن طرفین نے اپنے بھاری اسلحہ جات شائد ابھی تک ان پوزیشنوں پر نہیں پہنچائے جن پر ان کی ضرورت ہو گی۔کشمیر سارے کا سارا لاک اَپ ہے اور مودی حکومت کسی بھی حوالے سے پیچھے ہٹتی نظر نہیں آتی……

مشرقی سرحد پر اس صورتِ حال کے بعد ہمیں اب ذرا اپنی مغربی سرحد کے پار جھانکنا چاہیے اور اندازہ لگانا چاہئے کہ آنے والے ایک دو ماہ میں وہاں کیا ہونے والا ہے اور اس تناظر میں ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کیوں کی تھی۔

امریکہ، افغانستان سے نکلنا چاہ رہا ہے۔ اس 18سالہ جنگ میں اس نے اپنے 2400 افسروں اور جوانوں کو ہلاک کروا لیا ہے اور جو زخمی ہوئے ہیں،ان کی تعداد ابھی تک خفیہ رکھی جا رہی ہے۔شاید آج سے 25سال بعد یہ معلوم ہو کہ کتنے سینکڑوں ہزاروں امریکی اور دوسرے ناٹو ٹروپس اپاہج ہوئے، کتنے زندگی بھر کے لئے جسمانی اور جنسی اعتبار سے معذور ہو گئے اور کتنے خود کشی کر چکے ہیں۔ یہ تعداد کبھی کبھار میڈیا پر آتی رہتی ہے، لیکن کوئی قطعی اعداد و شمار نہیں بتائے جاتے۔ بظاہر 2400 سولجرز کا مارا جانا کچھ اتنا بڑا جانی نقصان نہیں۔ 18برسوں کو سامنے رکھ کر حساب لگایا جائے تو 133 ٹروپس فی سال کی اموات کچھ زیادہ حوصلہ شکن شمار نہیں ہوتیں۔ جس شدت کی یہ 18سالہ جنگ تھی اس میں یہ جانی نقصانات امریکہ کی کسی بھی گزشتہ جنگ کے مقابلے میں کمترین ہیں۔رہی بات سازو سامانِ جنگ کی ضائعات کی اور ان اخراجات کی جو امریکہ کو اس جنگ کو Sustainکرنے کے لئے اٹھانے پڑے تو ان کی پرواہ امریکہ کو کبھی بھی نہیں ہوئی۔اس کا دفاعی بجٹ دیکھیں تو یہ مالی نقصانات پرِکاہ معلوم ہوتے ہیں۔

تاہم اس افغان وار نے امریکہ کا جنگی عزم (Will to fight) توڑ کر رکھ دیا ہے۔ آج ساری دُنیا میں اس کی شہرت داؤ پر لگ رہی ہے۔لوگ دیکھ رہے ہیں کہ وہ سپریم ملٹری پاور جس نے سلاحِ جنگ سے لیس اور مالدار ممالک یعنی عراق، لیبیا اور شام کو نگل لیا تھا، ننگ دھڑنگ افغان طالبان کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ تھی کہ ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ اب افغانستان سے نکل جانا ہی بہتر ہے۔ لیکن امریکیوں نے اب تک کابل میں جو کٹھ پتلی حکومت قائم کر رکھی ہے، جو افغان سیکیورٹی فورسز وہاں تشکیل دے رکھی ہیں اور اپنے انڈین اتحادی کو جس طرح یہاں مقیم کر رکھا ہے، وہ انتظام و انصرام اب پنپتا دکھائی نہیں دے رہا بلکہ ہر آتی ساعت میں یہ انتظامات (Arrangements) ریت کی دیوار ثابت ہو رہے ہیں۔

افغانستان سے کوچ کر جانے کے سلسلے میں طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ (قطر) میں جو مذاکرات ہو رہے ہیں،وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ زلمے خلیل زاد کے کل کے بیان کا ذکر کیا جائے تو ان کا کہنا تھا کہ: ”بقر عید (جو افغانستان میں 11اگست کو منائی گئی) آخری بقر عید ہو گی جو افغانستان میں جنگی صورتِ حال کے درمیان منائی گئی۔“ دوسرے لفظوں میں وہ کہہ رہے تھے کہ جنگ اب یقینا ختم ہونے جا رہی ہے اور امریکہ یہاں سے رخت ِ سفر باندھ رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ جنگ اگر کل ختم ہو جائے گی تو پرسوں کابل پر کس کی حکومت ہو گی؟…… کیا موجودہ افغان حکومتی ڈھانچہ برقرار رہ سکے گا؟……کیا اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کابل کے ایوانوں اور شاہی محلات میں قیام کر سکیں گے؟…… موجودہ کابل کابینہ کا کیا بنے گا؟…… 28ستمبر 2019ء کو جو صدارتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں، کیا وہ ہو سکیں گے؟…… کیا ان کے نتائج طالبان کے لئے قابل ِ قبول ہوں گے؟……

دوحہ سے جو آخری خبریں آ رہی ہیں ان کے مطابق مذاکرات کا یہ آٹھواں اور آخری دور ہو سکتا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس دور کو ”طویل لیکن مفید“ قرار دیا ہے۔طالبان کا ایک گروہ اس بات کی ضمانت دینے پر رضا مند ہو گیا ہے کہ مستقبل میں افغانستان کی سرزمین کسی انتہا پسند گروپ (مثلاًISIS یا القاعدہ وغیرہ) کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس مجوزہ معاہدے میں فوری جنگ بندی بھی شامل ہو گی جس کے بعد کوئی بھی طالبان گروپ کسی بھی طرح کے حملے میں ملوث نہیں ہو گا۔ لیکن ایک شرط جس پر فریقین (امریکی اور یہ گروہِ طالبان) ہنوز رضا مند نہیں ہو سکے وہ”انٹرا افغان ڈائیلاگ“ ہے،یعنی طالبان کا دوسرا گروہ اشرف غنی حکومت سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لئے تیار نہیں۔

دوسری طرف اشرف غنی صاحب بھی یہ ضد لگائے بیٹھے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ، افغانستان میں بیٹھ کر ہی حل کیا جا سکتا ہے، اور باہر کے کسی ملک (قطر، پاکستان، روس وغیرہ) میں مذاکرات کی میز کرسیاں نہیں سجائی جا سکتیں۔ اگر زلمے خلیل زاد اور طالبان میں کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے، تو اس کا مطلب امریکہ اور افغانستان کے درمیان معاہدہ لیکن امریکہ اور اشرف غنی کے درمیان ٹاکرا ہو گا۔کیا اشرف غنی امریکہ کے ”خلاف“ اس ٹاکرے کی جرأت کر سکتے ہیں،اس پر زیادہ سر کھجانے کی ضرورت نہیں۔لیکن ضرورت اس سوال پر غور کرنے کی ہے کہ پاکستان کو اب کیا کرنا چاہیے۔ ایک طرف مسئلہ کشمیر کو سامنے رکھئیاور دوسری طرف افغانستاان سے امریکی ٹروپس کے انخلا پر امریکی مجبوری کا ادراک کیجئے اور فیصلہ کیجئے کہ ہم نے آئندہ کیا کیا اقدامات اٹھانے ہیں۔ میرے خیال میں حکومت جو اقدامات اٹھا رہی ہے وہ بالکل درست ہیں اور بالکل صحیح سمت میں اٹھائے جا رہے ہیں۔بطورِ خلاصہ حکومتی مقاصد یہ ہونے چاہئیں:

(1) دُنیا اس طرف متوجہ ہو نہ ہو، ہمیں کشمیر کی صورتِ حال کو زیادہ کھل کر بلو اَپ کرنا چاہئے۔ انڈیا ایک کروڑ کشمیریوں کو زیادہ دیر تک زیرِ کرفیو نہیں رکھ سکتا۔ کشمیریوں کو کرفیو توڑنا اور انڈین فورسز کو ایک حد پر جا کر رُک جانا پڑے گا۔ اگر کشمیری مہاجرین کے قافلوں کو پاکستان کی طرف دھکیلا گیا تو عمران خان کا نیو کلیئر بلیک میل والا وہ خطاب دُنیا کو یاد کرنا پڑے گا،جو انہوں نے حال ہی میں اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں دیا تھا۔

(2) سلامتی کونسل کے آئندہ اجلاس میں چین کا موقف بھی دیکھنا پڑے گا۔اگر چین صرف لداخ کی بات کرتا ہے تو پاکستان کو اپنی ہمالیہ سے بلند،شہد سے میٹھی اور سمندروں سے گہری ”پاک چین دوستی“ کا ازسر نو جائزہ لینا پڑے گا اور اگر چین لداخ کے ساتھ وادیئ کشمیر کا ذکر بھی کرتا ہے تو دیکھنا ہو گا کہ آیا روس بھی چین کا ساتھ دیتا ہے یا انڈیا کی طرف جاتا ہے۔

(3) افغانستان میں امریکی ٹروپس کو اس وقت تک روک کے رکھنا پڑے گا جب تک سلامتی کونسل کا کوئی نتیجہ خیز اجلاس نہیں ہو جاتا۔اس میں امریکی ووٹ کس طرف جائے گا اور کیا صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سلامی کونسل میں بھی کوئی کردار ادا کریں گے یا ان کی پیشکش محض ایک سٹرٹیجک ڈسپشن پلان تھا، اس کا جواب کچھ زیادہ دور نہیں، مجھے شک ہے کہ چین، روس اور امریکہ اپنے لانگ ٹرم سیاسی مفادات(اور شارٹ ٹرم تجارتی مفادات) کو تیاگ کر اس بات کو ترجیح دیں گے کہ مسئلہ کشمیر، پاکستان کے دیرینہ موقف کے مطابق حل کیا جائے اور انڈیا کو نظر انداز کر دیا جائے…… میرے خیال میں ایسا نہیں ہو گا……ہمارے وزیر خارجہ کے دورہئ بیجنگ کے فوراً بعد انڈین وزیر خارجہ کے بیجنگ پہنچنے کے مقاصد کی سُن گن بھی معلوم کی جائے۔اس موضوع پر چین میں ہمارے سفارت خانے کی Input آ چکی ہو گی جو وزیراعظم کے سلامتی کونسل میں مجوزہ خطاب کے خدوخال کا تعین کر دے گی۔ اسے میڈیا پر بھی آنا چاہئے۔

الغرض آنے والے دو چار ماہ پاکستان کے لئے نہایت اہم ہوں گے اور حکومت کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کی آزمائش بھی ہوں گے۔

مزید :

رائے -کالم -