فصلوں کی کاشت کیلئے 65ارب کا پیکیج دے رہے ہیں: محکمہ زراعت پنجاب 

فصلوں کی کاشت کیلئے 65ارب کا پیکیج دے رہے ہیں: محکمہ زراعت پنجاب 

  

لاہور(نیوز رپورٹر) ڈائیریکٹر جنرل توسیع محکمہ زراعت پنجاب ڈاکٹر محمد انجم علی نے کہا ہے کہ وفاق اور پنجاب حکومت کے مثالی تعاون سے پنجاب کے کاشتکاروں کو مختلف فصلوں کی کاشت کے لیے وہ تمام ریلیف دیں گے جس سے پیداوار میں اضافے اور لاگت میں کمی ہو اور انہیں ان کی محنت کا صلہ ملے محکمہ زراعت کے آفیسر اور عملہ پنجاب کے تمام اضلاع میں کاشتکار کی مدد کے لیے ہمہ تن موجود ہیں اور ان کی مشکلات کے ازالے کے لیے انہیں وہ تمام سہولتیں فراہم کر رہے ہیں جن کی انہیں ضرورت ہے ڈاکٹر انجم علی ایگری کلچرجرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر زاہد بیگ کی صدارت میں آجا کے ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔  ڈاکٹر انجم علی نے کہا کہ پنجاب حکومت کی خواہش ہے کہ عام کاشتکار کو صحت مند فوڈز دی جائے اور اس کی اکنامک حالت بھی ٹھیک کی جائے گندم کی کاشت کے لیے سیڈ درآمد نہیں کرتے اور گندم ہماری اہم فصل ہے دنیا میں سیڈ انڈسٹریز بن چکی ہے جس سیڈ کی ضرورت ہو وہ منگوا لیتے ہیں جب معیاری سیڈ مل جائے تو اسے بنانے کی ضرورت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ محنت کر کے آئل میں بھی بہتر ہو جائیں گے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اہم فصلوں کی کاشت کے لیے کاشتکاروں کو اربوں روپے کا پیکج دے رہے ہیں اور وہ پیکج 65ارب روپے پر مشتمل ہے جو مختلف زرائع سے کاشتکار کو فراہم کیے جائیں گے انہوں نے کہ جن منصوبوں پر کام ہو رہا ہے ان میں گندم چاول آئل گنا اور دیگر فصلیں شامل ہیں انہوں نے کہا کہ گنے کی اضافی پیداوار کے ذریعے منافع بخش قومی پروگرام جس کی کل لاگت2048.90M ملین ہے اس فصل کے مقاصد/اہداف  گنے کی کاشت کے ذریعے گنے کو منافع بخش بنانا 200 من اور رقبے کی نشاندہی کرنا اورتیل دار اجناس اور زیادہ قیمتی فصلات کے لئے اہداف2291 چیزل ہل کی تقسیم 1142 ارلی ہل اپ کی تقسیم 1142 پودے لگانے والے کھاد والے اوزار کی تقسیم7 بلٹ پلانٹر کی تقسیم1142 دانے دار کھاد کی تقسیم2961 مقاصد پر نمائشی پلاٹس کی کاشت270 بڑے کاشتکاروں کا اجتماع986 یوم کاشت کاران منانا،اچھے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے ہر ضلع میں 210 کاشتکاروں کو منتخب کرنا،چھوٹے اجزاء کی لاگت میں 50% تک 297010 ایکڑ تک لاگت میں حصہ دار بنانا،ستمبر کاشت میں 13,000 ایکڑ تک سبسڈی دینا،IPM تکنیک کے ذریعے بائیو لیب کا قیام ہے، چاول کی فصل کو پیداواری اور منافع بخش بنانے کے لئیکل لاگت: 6327.760 ملین روپے جس کیمقاصد،ونجی کی فصل کو منافع بخش بنانے کے لئے پیداواری صلاحیت بڑھانے، 10 من فی ایکڑ باسمتی چاول اور 20 من فی ایکڑ دیسی اقسام کی پیداوار اور زیادہ قیمتی فصلوں کے لئے کاشت کرنا۔اس کے اہداف، چھوٹے اجزاء 50 فی صد حصہ دار کی بنیاد پر ترقی دینا450/ رائیڈنگ پودوں کی منتقلی، 250 پیدل چلنے کے بعد پودوں کی منتقلی، 450 پودوں کی ابتدائی بڑھوتری کے بعد کھیت تک منتقلی کرنا، 900 ڈی ایس آر ڈرِل، 750 چاول کو ایم بی ہل/ڈِسک، ہل سے باریک کرنا، 800 گھومنے والی/ پانی سے بندھی ہوئی، گھومنے والی مشین اور 2450 ہاور سپرے کا چھڑکاؤ، 50 فیصد تک شراکت داری کی بنیاد پر (1242723 من) بیچ کی منتقلی کرنا، وفاقی اور صوبائی سطح پر بڑے زمینداروں کا اکٹھ کرنا اور نمائشی پلاٹ کے ذریعے اُن کو کھادوں کے متعلق، مشینری کے متعلق، جڑی بوٹیوں کے متعلق کوریجج دینا اور پودوں کی تعداد کے متعلق معلومات باہم پہنچانا،30 فیصد تک شراکت داری کی بنیاد پر سالانہ 87,000 ایکڑ تک جڑی بوٹیوں کی کوریج دینا،گندم کی اضافی پیداوارکے ذریعے منافع بخش قومی پروگرام جس کی لاگت: 12535.00 ملین ہے اور اس کیمقاصد: پیداواری اضافہ میں 7 ایکڑ تک پیداواری لاگت میں کمی کے لئے منافع بخش اور پیداوار میں اضافہ کے لئے اقدام کرنا ہے۔

۔ فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے اور اضافی رقبہ کو دوبارہ تیل دار اجناس میں تبدیل کرنے کے لئے اور خوردنی تیل کا کم از کم درآمدی بل،اس کیاہداف:50/- سبسڈی پر 259832 ٹن جپسم کسانوں کو مہیا کرنا۔ 86610 ایکڑ رقبہ کو دوبارہ بحال کرنا، 0.625 ملین مٹی کے اجزاء کا کا نمونہ جات کا تجزیہ کرنے کے لئے اور جپسم کی ضروریات کے مطابق اقدام کرنا، 99900 ہیکٹر رقبہ/ جنتر کو چاول اور گندم کے ساتھ جلا کر کاشت کرناو?،4007 ٹیلج آپریشن، 6680 خشک بیج بھونے والے ڈرل مہیا کرناو2374 وتر ڈرل مہیا کرنا،1187 گندم کے پلانٹر مہیا کرنا، 1407 سلپشرز مہیا کرنا،بیج کی منتقلی کے لئے 216457 ٹن تصدیق صدہ گندم کے بیج مہیا کرنا،جڑی بوٹیوں کی انتظام کے لئے 4793400 ایکڑ ہے،روغنی تیل دار اجناس میں اضافہ کیلئے قومی پروگرام کی لاگت: 5115 ملین روپے ہے،جس کیمقاصدتیل دار اجناس کا نقد آور فصلوں سے موازنہ کرنا۔ کم پیداوار کے متعلق لوگو ں کو آگاہ کرنا۔ تیل دار اجناس کے بعد از کٹائی، نقصانات کو کم از کم کرنے کے لئے اور اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے مکینیکل طریقہ کار ترقی دینا۔ ہر سال وفاقی حکومت کے تعاون سے اعلیٰ اقسام کے بیج صوبوں کو اربوں روپے کا زرمبادلہ بچانے کے لئے مہیا کرنا ہے جس کیاہداف:5000 فی ایکڑ کاشت کاروں کو تیل دار اجناس پر سبسڈی دینا،تِل کی کاشت،360,000 ایکڑ تک کرنا،سورج مکھی:278,000 ایکڑ،کینولا (میٹی سرسوں)211,000 ایکڑتیل دار اجناس کے لئے اوزار مہیا کرنا،تیل دار اجناس کے اوزار پر 2.5 ملین پریونٹ سبسڈیح دیناتمام اوزارات پر سبسڈی: 150 یونٹ: گہنے والی مشین کی تبدیل + ڈرل+ مشترکہ خشک کرنے والا ہیٹر،ہر کاشتکار تک بذریعہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کسانونں کو معلومات فراہم کرنا، کھیت کا توسیع پروگرام بذریعہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا،48 بہترین زمینداروں کی حوصلہ افزائی ہر سال ضلع کی سطح پر بہترین کارکردگی کی بنیاد پر کرنا،50 فیصد تک شراکت داری کی بنیاد پر چھوٹے اجزاء کی فراہمی کرنا،کمپنیوں کی باسمتی اور غیر باسمتی چاولوں کے لئے حوصلہ افزائی کرنا، اور اُن کے درآمدی مدد کے لئے رعایتی پیکیج فراہم کرنا اور کمیٹی کے دوسرے حصہ داران کے ساتھ اہداف کا تعین کرنا، تبدیل شدہ سیڈ ایکٹ کے ذریعے باسمی اور دیسی اقسام کی رجسٹریشن کا اہتمام کرناِآئندہ 40 سالوں میں مونجی کی فصل کو برداشت کرنے کے لئے کمبائنڈ ہارویسٹر 453518 ایکڑ کو استعمال کیا جانا۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اربن زراعت پھیل رہی ہے اور 70فیصد لوگوں کا تعلق زراعت سے ہے انہوں نے کہ جن کے پاس دو کنال کے گھر ہیں تو وہ اپنی سبزیاں کیوں کاشت نہیں کرتے دو کنال سے زیادہ کے گھروں والے اپنے اپنے گھروں زراعت کے مختلف ایشوز پر کام کریں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موسم میں تبدیلی کی وجہ سے 9لاکھ اور چالیس ہزار ٹن گندم خراب ہوئی تھی اور اس ضمن میں 30ارب روپے کا نقصان ہو لیکن اس تبدیلی میں چنے کی کاشت میں اضافہ اور پیداوار بڑھی تھی انہوں نے کہا کہ پانچ ایکڑ رکھنے والے کسان کو کسان کارڈ دے رہے ہیں جس سے وہ براہراست سبسڈی سے مستفید ہو گا کپاس کی پیداوار میں کمی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کپاس کی کاشت کے لیے ہم نے بھر پور آواز اٹھائی لیکن کسان کو جس فصل میں زیادہ فائدہ ہو وہ اس میں جاتا ہے تاہم اب کپاس کی قیمت بڑھ رہی ہے اور اس بار کسان کپاس کی طرف جائیں گے

مزید :

کامرس -