مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی برادری کا ضمیر نہ جاگا تو لاکھوں جانیں ضائع ہو جائیں گی : شاہ محمود

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر عالمی برادری کا ضمیر نہ جاگا تو لاکھوں جانیں ضائع ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کشمیری قیادت کو جموں و کشمیر میں رائے کا اظہار کرنے دو، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا،دنیا کو خاموشی توڑنی ہوگی،ہمیں سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانا ہوگا،اگر ضمیر نہ جاگے تو لاکھوں جانیں ضائع ہوں گی، آج جمعرالت کو پاکستانی اور کشمیری دنیا بھر میں یوم سیاہ منائیں گے، کشمیر پر پاکستانی قوم متحد رہے گی۔ یکجہتی کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ہر سال چودہ اگست کو یوم آزادی کا جشن میایا جاتا ہے، یہ سال ماضی کے برسوں سے مختلف ہے۔انہوںنے کہاکہ آج ہم نے پاکستانی جھنڈوں کے ساتھ کشمیر کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم کشمیریوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں ہندوستان نے آپ کی شناخت چھیننے کی کوشش کی پاکستان آپ کے ساتھ ہے۔انہوںنے کہاکہ غاصبانہ اقدامات سے کشمیریوں کو کچلنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے خود کو حوصلہ دینے کے لئے پاکستان کا جھنڈا اٹھایا۔انہوںنے کہاکہ سب کشمیریوں کو قید کر لیا گیا ہے، ہندوستان نے دنیا کو سب اچھا ہے کا تاثر دینے کی کوشش کی ۔انہوںنے کہاکہ کیا خوشحالی گولیوں کے سائے میں آتی ہے، کیا خوشحالی کرفیو کے سائے میں آتی ہے۔انہوںنے کہاکہ جمعے کو چند لمحے کا وقفہ کیا گیا پھر گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی۔انہوںنے کہاکہ ہیومن رائٹس واچ، یورپ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو آواز بلند کرنی پڑے گی۔انہوںنے کہاکہ جس دن کرفیو اٹھا اس دن بڑا رد عمل سامنے آئے گا۔انہوںنے کہاکہ رد عمل کو کچلنے کے لئے خون کی ہولی کھیلی جائے گی۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ روز میں نے پاکستان کا مفصل مقدمہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو ارسال کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ میں نے صدر سکیورٹی کونسل کو فی الفور خط تمام پندرہ ممبران میں تقسیم کرنے کا کہا ۔انہوںنے کہاکہ میں نے سکیورٹی کونسل کو خط میں ہندوستان کے حوالے دئیے ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں نے حوالے دیے کہ جواہر لعل نہرو سمیت ہندو لیڈر کشمیریوں سے کیا وعدے کرتے رہے۔انہوںنے کہاکہ میں نے خط لکھنے سے پہلے عمران خان سے مشاورت کی ، عمران خان نے اس جدوجہد میں نیا جزو شامل کر دیا۔انہوںنے کہاکہ عمران خان نے کہا دنیا کو بتانا ضروری ہے کہ مودی کی ہٹلر جیسی نازی ذہنیت ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمیں سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ اگر ضمیر نہ جاگے تو لاکھوں جانیں ضائع ہوں گی۔انہوںنے کہاکہ دنیا کو خاموشی توڑنی ہوگی۔انہوںنے کہاکہ دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ اب خاموشی کی مہلت بھی نہیں رہی ۔انہوںنے کہاکہ کشمیری قیادت نے مودی کے اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ مودی اگر تم لوگوں کو آزمانا چاہتا ہے تو کرفیو اٹھاو¿۔انہوںنے کہاکہ کشمیری قیادت کو جموں و کشمیر میں رائے کا اظہار کرنے دو ،دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔انہوںنے کہاکہ ہندوستان کی سپریم کورٹ سے کہتا ہوں کشمیریوں کی پٹیشن آپ کو ارسال کی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ کیا ہندوستان کی سپریم کورٹ میں اس پٹیشن کو سننے کی ہمت ہے،کیا خود کو ہندوستان کی آزاد عدلیہ کہنے والی کشمیریوں کو انصاف دے گی۔انہوںنے کہاکہ (آج) جمعرالت کو پاکستانی اور کشمیری دنیا بھر میں یوم سیاہ منائیں گے۔انہوںنے کہاکہ کشمیر پر پاکستان کی ساری قوم متحد رہے گی۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی منزل کشمیر کی آزادی ہے۔وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مودی سن لو ہٹلر کا نام و نشان مٹ گیا ،مودی تمہارا نام و نشان بھی مٹ جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ آج بھارت کی دہشتگردی بے نقاب ہوگئی، بھارت اس خطے کا سب سے بڑا دشمن ہے۔انہوںنے کہاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، مودی مسلمانوں نے جنگیں اسلحے کے زور پر نہیں جذبے سے لڑے ہیں۔انہوںنے کہاکہ مودی اگر ہم نکلے تو اپنے آشیانے جلا کر نکلیں گے، کشمیر کو آزاد کر پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ تحریک انصاف کا جھنڈا بھی لہراو¿ں گا۔قبل ازیں روسی ہم منصب سرگئی لاروف کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت ،مقبوضہ کشمیر میں غیر آئینی اقدامات کے ذریعے آبادیاتی تناسب کو تبدیلی کرنے کی کوشش کررہا ہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت ، غیر آئینی اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی تناسث کو تبدیل کرنے کے درپے ہے ۔بھارت کے یکطرفہ اقدامات نہ صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی صریحاً منافی ہیں ۔ہندوستان کے حالیہ غیر آئینی اقدامات خطے میں امن و امان کیلئے شدید خطرات کا باعث ہو سکتے ہیں ۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے روسی ہم منصب کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل کرفیو کی وجہ سے ، کشمیری عوام کو درپیش مشکلات اور تکالیف سے آگاہ کیا اور کہا کہ بھارتی سیکورٹی فورسز کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی جارحیت اور جبر ،خطے کے امن و امان کو مزید خرابی کی طرف لے جا سکتے ہیں ۔انہوںنے روسی وزیر خارجہ کو، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے اپنے حالیہ خط کے بارے میں بھی بتایا جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال اور بھارت کے غیر آئینی اقدامات کے پیش نظر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ روس اس ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔روسی وزیر خارجہ نے ہندوستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور کو پر امن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اہمیت پر زور دیاہے ۔دونوں وزرائے خارجہ کا خطے میں امن و استحکام کیلئے باہمی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔دوسری جانب صدر اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میںوزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں اٹھائے گئے غیر آئینی اقدامات سے توجہ ہٹانے کےلیے پاکستان سے ساتھ کوئی نیا ڈرامہ رچا سکتا ہے،بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں فورسز کی مزید تعیناتی کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت سیز فائر معاہدے 2003 کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے،پاکستان کشیدگی میں اضافے کا حامی نہیں ، اگر ہندوستان نے کوئی جارحانہ قدم اٹھایا تو ہم اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور ہندوستان کو بھرپور جواب دیا جائے گا، بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کی تبدیلی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو زیر بحث لانے اور اس اس گھمبیر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے اور سیکورٹی کونسل کے رول 37 کی رو سے پاکستان کے نمائندہ کو اس اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے۔

وزیر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -