61سالہ نابینا خاتون دنیا کی سب سے بڑی چوٹی سر کرنے کیلئے پرُعزم

  61سالہ نابینا خاتون دنیا کی سب سے بڑی چوٹی سر کرنے کیلئے پرُعزم

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) رنگوں بھری دنیا میں اگر کوئی شخص بینائی سے محروم ہوجائے تو اس کیلئے زندگی مشکل بن جاتی ہے لیکن دنیا میں کچھ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو تاریکی میں بھی روشنی کے چراغ ڈھونڈ لیتے ہیں اور ان میں کچھ کرنے کی لگن ہوتی ہے۔سنگاپور سے تعلق رکھنے والی 61 سالہ رینا راجسواری نامی خاتون مکمل طور پر بینائی سے محروم ہیں لیکن ان کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ وہ دنیا کی سب سے اونچی پہاڑی ”ماؤنٹ ایورسٹ“ سر کرنے کیلئے خود کو تیار کر رہی ہیں۔رینا ماضی میں بطور ٹیچر اپنی خدمات انجام دے رہی تھیں کہ اچانک 28 برس میں وہ آنکھوں کی بینائی کھو بیٹھیں۔ڈاکٹر کے مطابق رینا سائلنٹ اکیوٹ گلوکوما بیماری کا شکار ہوگئی تھیں جس کے نتیجے میں آنکھوں کا پانی ختم ہوجاتا ہے اور آپٹک نرو متاثر ہوجاتی ہے۔رینا کو جب پتا چلا کہ وہ اب کبھی بھی دنیا کو دیکھ نہیں پائیں گی اس وقت وہ بے حد مایوس ہوئیں لیکن پھر انہوں نے ہمت پکڑی زندگی سے مقابلہ کرنا شروع کیا۔رینا نے بینائی سے محروم ہونے کے باوجود کمپیوٹر ٹائپنگ سیکھی اور دیگر کورسز کیے تاکہ وہ کسی کی محتاج نہ ہوسکیں۔حیرانی کی بات یہ ہے رینا کو سیر و تفریح کا شوق ہے اور بینائی سے محروم ہونے کے بعد اب تک وہ فلپائن، کوریا، جاپان، تائیوان اور آسٹریلیا کا دورہ کرچکی ہیں۔رینا کہتی ہیں ان سے لوگ اکثر پوچھتے رہتے ہیں آپ دیکھ نہیں سکتی پھر آپ کیوں سیر کرتی ہیں؟ میں کہتی ہوں جی ہاں میں دیکھ نہیں سکتی لیکن میں ماحول اور سب کچھ انجوائے کرسکتی ہوں کیونکہ میں سن اور محسوس کرسکتی ہوں۔یہی وجہ ہے رینا کا اب مقصد دنیا کی سب سے بڑی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنا ہے جس کیلئے وہ آج کل سوئمنگ اور جیمنگ کر رہی ہیں تاکہ وہ چوٹی عبور کرنے کیلئے مکمل تیار ہوجائیں۔رینا کا ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنا کے پختہ ارادہ آئندہ برس نہیں بلکہ رواں برس ہی ہے۔

نابینا خاتون

مزید :

صفحہ آخر -