اسلحہ کی سمگلنگ، ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کا عراقی گزرگاہ پر قبضہ

اسلحہ کی سمگلنگ، ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کا عراقی گزرگاہ پر قبضہ

  

بغداد (این این آئی)عراقی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی سرحد سے متصل دیالی صوبے کی ایک گذرگاہ پر ایران نوازملیشیا کا قبضہ ہے۔ اس سرحدی گذرگاہ کواسلحہ اور دیگر اشیاء کی دو طرفہ اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔عراق کی گذرگاہوں کی ذمہ دار اتھارٹی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے مشرقی دیالی سے متصل ایران کی سرحد پرقائم مندلی گذرگاہ بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے یہ حکم اس لیے دیا گیا کیونکہ اس سرحدی گذرگاہ پر ایران نواز ایک ملیشیا کا قبضہ ہے جو ایران سے کینسر کا باعث بننے والا مواد، منشیات، اسلحہ اور خوراک کا سامان اسمگل کررہی ہے۔عراقی حکومت کے ایک ذریعے نے  عرب ٹی وی کو بتایا کہ وزیراعظم عادل عبد المہدی نے 8 اگست 2019ء کو مندلی گذرگاہ کو دو طرفہ آمد و رفت کے لیے بند کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعظم کی طرف سے کہا گیا کہ سرحد کی دوسری طرف عراقی تاجروں کے سامان کو منتقل کرنے کے بعد اس گذرگاہ کو بند کر دیا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گذرگاہ کی بندش کا ایک سبب ایران سے بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد و رفت بھی ہے۔ عراق کے صوبہ دیالی اور ایران کے درمیان دوطرفہ اسلحہ اسمگلنگ کے لیے یہ گذرگاہ اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے۔ 

اسے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائیں تہران کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ ایرانی اسلحہ اور دیگر سامان بھی عراق لے کرآتی ہیں۔حکومتی عہدیدارکا مزید کہنا ہے کہ مندلی گذرگاہ پر سامان اور منشیات کی چیکننگ کا کوئی مربوط انتظام نہیں۔ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائیں اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے یہاں پر اپنی مرضی کے لوگوں کو تعینات کرتی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی ملیشیائیں کسی صورت میں اس گذرگاہ کو بند کرانے کی حامی نہیں کیونکہ یہ گذرگاہ ایران اور اس کی حمایت یافتہ عراقی شیعہ ملیشیاؤں کی 'کمائی' کا ذریعہ ہے۔دیالی کی صوبائی کونسل کے رکن احمد رزوقی نے عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مندلی گذرگاہ نہ صرف دیالی بلکہ عراق کے دوسرے صوبوں کے لیے بھی اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گذرگاہ سے ایران اور عراق کے درمیان آزادنہ تجارت ہوتی رہی ہے۔

مزید :

عالمی منظر -