”میری بہن بھی ایم کیو ایم میں تھی لیکن ۔۔۔“صدر مملکت عارف علوی نے ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد سے متعلق سوال پر حیران کن انکشاف کردیا

”میری بہن بھی ایم کیو ایم میں تھی لیکن ۔۔۔“صدر مملکت عارف علوی نے ایم کیو ...
”میری بہن بھی ایم کیو ایم میں تھی لیکن ۔۔۔“صدر مملکت عارف علوی نے ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد سے متعلق سوال پر حیران کن انکشاف کردیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر عارف علوی نے کہاہے کہ لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ ریاست مدینہ بنادی ، ریاست کی کوشش ہے کہ ریاست مدینہ بن جائے ، ابھی ریاست مدینہ بنی نہیں ہے ، ایک اچھی حکومت کو اس بات کا طعنہ نہ دیا جائے ، ایم کیوایم میں میرے بہت سے رشتے دار تھے اوراب چھوڑ بھی گئے ہیں ،خود میر ی بہن نے بھی ایم کیو ایم جائن کی تھی لیکن اب ایم کیو ایم ویسی نہیں رہی ہے ۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”آن دا فرنٹ“میں گفتگو کرتے ہوئے صدرعارف علوی نے کہا کہ پاکستا ن نے ملک میں رواداری کیلئے اقدامات کئے جبکہ بھارت عدم رواداری اور عدم برداشت میں گھس رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا چیئر مین سینیٹ کیخلاف کوئی اعتراضات تھے ؟ سینیٹ میں سیاست کھیلی گئی ، اگر کوئی چارج شیٹ ہوتی تو لیکر آتے ، اخلاقیات تو یہ تھی کہ جب کوئی چارج شیٹ نہیں تھی تو پور ی قوم کو اس طرف لیکر نہیں جانا چاہئے تھا ، میں سینیٹ الیکشن پر کوئی رائے نہیں دینا چاہتا کیونکہ میں مملکت کا سربراہ ہوں ، خود میرا ووٹ بھی سیکرٹ بیلٹ پر ہوا تھا ۔ عارف علوی کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے مجھ پر ہتھیار سپلائی کا الزام لگا کر مقدمہ بنایا تھا جبکہ میں نے صدر بننے کے باوجوداستثنیٰ نہیں لیااور صدر بننے سے قبل ضمانت از قبل گرفتاری لی، شاہد خاقان عباسی کو بھی ضمانت قبل از گرفتاری لینی چاہئے تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کے متعلق وزیر اعظم کے الفاظ سے متعلق صدر کا کہنا تھا کہ میں ان الفاظ کا دفاع نہیں کرسکتا ، اس وقت معیشت کا جو برا حال ہے ، اس کی وجہ پچھلی پچاس سال کی حکومتوں کے غلط فیصلے ہیں ، اس کی قیمت عام آدمی ادا کررہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف احتساب کا نعرہ لیکر اقتدار میں آئی ہے، اس وقت تحریک انصاف کیخلاف کارروائی اس لئے نہیں ہورہی کیونکہ تحریک انصاف کا اقتدار میں حصہ صرف پانچ فیصد نہیں ہے ، اس لئے حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ معاملہ ففٹی ففٹی نہیں ہوسکتا ۔

انہوں نے کہا کہ کے پی میں اگر احتساب کا ادارہ نہیں چل سکا تو وفاق میں تونیب کام کررہاہے ،عمران خان کا راستہ تو بدل سکتاہے لیکن نظریہ نہیں بدلے گا ، اس حکومت کو سب سے بڑا شاک یہ لگا کہ جب آئی ایم ایف سے معاملہ ہورہا تھا ، سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ پہلے دن عوام کوڈالر کے بارے میں بتا دینا چاہئے تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے سپریم کورٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ووٹ کاحق لیکردیا ، یہ چیز ستر سال تک نہیں ہوئی تھی جومیں ثاقب نثار کے سامنے بیٹھ کر بحث کی اور پھر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں اس حوالے سے رائے پائی جارہی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کوالیکشن لڑنے کابھی حق دیاجائے ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ستر سال سے ہر سال ایمنسٹی سکیم دی جاتی رہی ہے ، جونیجو کے دور حکومت میں یہ کہا گیا تھا کہ پیسے وطن لاﺅ تم سے نہیں پوچھا جائیگااور اب بھی جو ایمنسٹی سکیم دی گئی ہے تو لوگ پور ے آئے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملات کودیکھ کر فیصلے کو بدلنا اخلاقیات کی نشانی نہیں ہے ، ایمنسٹی سکیم کا عام آدمی سے کوئی تعلق نہیں ہے ، کچھ چیزوں پر تبدیلی کی گئی ہے لیکن چوروں کونہیں چھوڑیں گے ، شفافیت لیکر آئیں گے اورپاکستان کرپشن فری ہوگا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کوئی مشین نہیں ہیں بلکہ انسان ہیں جب معاملات سامنے آئیں گے تو فیصلے توبدلنا پڑیں گے ، تحریک انصاف کے فیصلے تبدیل نہیں ہوئے جب حالات بدلے توفیصلے تبدیل کرنا پڑے ۔

صدر عارف علوی کا کہناتھا کہ لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ ریاست مدینہ بنادی ، ریاست کی کوشش ہے کہ ریاست مدینہ بن جائے ، ابھی ریاست مدینہ بنی نہیں ہے ، ایک اچھی حکومت کو اس بات کا طعنہ نہ دیا جائے ۔ ایم کیوایم میں میرے بہت سے رشتے دار تھے اوراب چھوڑ بھی گئے ہیں ،خود میر ی بہن نے بھی ایم کیو ایم جائن کی تھی لیکن اب ایم کیو ایم ویسی نہیں رہی ہے ۔گورنر محمد سرور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی سے خوش ہیں اور وزیر اعظم بھی ان کے ساتھ پالیسی سازی میں حصہ لیتے ہیں، عثمان بزدار پر وزیر اعظم اعتماد کرتے ہیں، اگر وزیر اعظم محسوس کرتے ہیں کہ عثمان بزدار کی مدد کرنی چاہئے تو وہ کریں ، وزیر اعظم وفاق بھی سنبھال رہے ہیں اور پنجاب بھی سنبھال رہے ہیں ،پنجاب کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان مطمئن ہیں تو میں بھی مطمئن ہوں۔عارف علوی کا کہناتھا کہ تاجروں کو ٹیکس نہ دینے کی عادت ہوگئی ہے ، وزیر اعظم نے ٹیکس کے حوالے سے جو کچھ کیاہے ، اس پر عمل درآمد کرانے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -