کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طورپر منایا ،وادی میں بدستور کرفیو نافذ،انٹرنیٹ، براڈ بینڈ، ٹیلی فون اور ٹی وی چینل مسلسل بند

کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طورپر منایا ،وادی میں بدستور ...
کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طورپر منایا ،وادی میں بدستور کرفیو نافذ،انٹرنیٹ، براڈ بینڈ، ٹیلی فون اور ٹی وی چینل مسلسل بند

  

سرینگر(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیا بھر میں کشمیریوں نے آج بھارت کا یوم آزادی ’’یوم سیاہ‘‘ کے طور پر منایا جس کا مقصد عالمی برادری کو یہ پیغام دینا تھا کہ وہ اپنے مادر وطن پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کو تسلیم نہیں کرتے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطا بق یوم سیاہ منانے کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارت کے یکطرفہ اقدام کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا بھی تھا۔ ادھر قابض انتظامیہ نے مسلسل گیارہویں دن بھی لوگوں کو بھارت مخالف مظاہروں سے روکنے کیلئے پوری وادی کشمیرمیں سخت کرفیو اوردیگر پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ان تمام دنوں میں لاکھوں کشمیری اپنی بنیادی آزادیوں اور حقوق سے محروم رہے۔ انکے کے تمام حقو ق سلب کر لئے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ، براڈ بینڈ، ٹیلی فون اور ٹی وی چینل مسلسل بند ہیں اور مقبوضہ علاقے کا بیرونی دنیا سے رابطہ مسلسل معطل ہے۔ لوگوں کو بچوں کی خوراک اور زندگی بچانے والی ادویات جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی اجازت نہیں ہے اور جموں وکشمیر ایک انسانی بحران کا منظر پیش کر رہا ہے۔ سینکڑوں کشمیری سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو جیلوں میں یا نامعلوم مقامات پر منتقل کردیاگیا ہے جبکہ متعددکو مقبوضہ علاقے سے باہر آگرہ، بریلی یا لکھنؤمیں بھارتی جیلوں میں قید کردیاگیا ہے اور انکے اہلخانہ کے پاس انکے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ مقبوضہ علاقے کے گرمائی دارلحکومت سرینگر میں بڑی تعداد میں خار دار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں اور ڈرونز اور ہیلی کاپٹر فضا میں گشت کر رہے ہیں۔

مقبوضہ علاقے کا دورہ کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے بھارت کی طرف سے دفعہ 370کی منسوخی کے فیصلے کے بعد سے پلوامہ اور شوپیاں کے اضلاع سے درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ انہوں نے عید الاضحی کے موقع پر پابندیوں میں نرمی کے بارے میں بھارتی حکومت کے دعوے کو مستردکردیا۔ ان کاکہنا تھا کہ عید کے پہلے دن تما م بڑی مساجد کو بند رکھا گیا اور لوگوں کو نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ 9سے13اگست تک وادی کشمیر کا پانچ روزہ دورہ کرنے والے بھارتی سول سوسائٹی کے چار معروف کارکنوں نے نئی دلی واپسی پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی قابض انتظامیہ نے پوری وادی کشمیر کو فوج کے زیرکنٹرول ایک جیل خانے میں تبدیل کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی پر امن صورتحال کے بارے میں بھارتی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ انتہائی گمراہ کن ہے۔

سول سوسائٹی کے کارکنوں میں معاشی ماہر جین ڈریزی(Jean Dreze)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسٹ) کی کویتا کرشنن، آل انڈیا ڈیموکریکٹ وویمنز ایسوسی ایشن کی Maimoona Moolah اور نیشنل الائنس آف پیپلز موومنٹ کے ویمل بھائی شامل تھے۔ انہیں دورے کے دوران ریکارڈ کی گئی ویڈوز دکھانے کی اجازت نہیں دی گئی جنہیں بعد ازاں سوشل میڈیاپر جاری کیاگیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انتظامیہ کاکہنا ہے کہ جموں وکشمیرمیں سب اچھا ہے تاہم ایسا ہرگز نہیں بلکہ کشمیر جہنم بن چکا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ نے بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طورپر منانے کیلئے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہر ہ کیا۔اس موقع پر کشمیری حریت رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیرمیں بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم، غیر قانونی گرفتاریوں اور مسلسل کرفیو کے نفاذ پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ وہ طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانہیں سکتا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -