ڈاکٹر نذیر گیلانی کی حکومت پاکستان سے جموں و کشمیرمیں اقوام متحدہ کی فورسز تعیناتی کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل

ڈاکٹر نذیر گیلانی کی حکومت پاکستان سے جموں و کشمیرمیں اقوام متحدہ کی فورسز ...
ڈاکٹر نذیر گیلانی کی حکومت پاکستان سے جموں و کشمیرمیں اقوام متحدہ کی فورسز تعیناتی کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل

  


لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن) لندن میں قائم جموں و کشمیرکونسل برائے انسانی حقوق کے صدر ڈاکٹر نذیر گیلانی نے حکومت پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان سے جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی فورسزکی تعیناتی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیکل کی منسوخی اور جنگی صورتحال اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرار دادوں اورتمام دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سید نذیر گیلانی نے لندن سے جاری ایک بیان میں حکومت پاکستان کو بھارت کی طرف سے اپنے آئین کی دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے حالیہ غیر قانونی اقدامات کے تناظر میں فوری طور پرمقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی فورسز کی تعیناتی کی اپنی تجویز جو پاکستان نے جنوری1957ء کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 761ویں اجلاس میں دی تھی کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل پراس سلسلے میں زور دینا چاہیے۔ انہوں نے جنوری1957ء میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے 761ویں اجلاس میں پاکستان کی طرف سے جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ فورسز کی تعیناتی کی تجویز پر فلپائن کے مندوب کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلپائن کے مندوب نے کہا تھا کہ جموں وکشمیر کو محفوظ اور داخلی امن کو یقینی بنانے کے عمل کو اقوام متحدہ کی فورسز کو فوری طورپر سونپ دینا چاہیے۔ڈاکٹر نذید گیلانی نے کہا کہ رواں سال 5اگست کو بھارتی حکومت کی طرف سے لداخ اور جموں و کشمیر کو بھارتی یونین کے دو الگ علاقے قرار دینا نہ صرف اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی 30جنوری 1951کی قرار داد بلکہ ڈوگرہ مہاراجہ اور بھارت کے گورنر جنرل کے درمیان 27اکتوبر1947ء کے معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازا ں بھارت اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کیلئے 15جنوری1948ء کو اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں اپنے اس عارضی الحاق سے بھی دستبرداروہ گیا تھا جس کے بعد سے بھارت کے جموں و کشمیر سے عارضی الحاق کی نوعیت یکسر بدل چکی ہے جیسا کہ 20فروری 1957ء کو سیکورٹی کونسل کے 773ویں اجلاس کی کارروائی کے پیرا46 میں وضاحت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر نذیر گیلانی نے حکومت پاکستان پرزودیا کہ وہ کشمیر ی عوام کی مدد کیلئے فوری طور پر آگے بڑھے۔ جموں و کشمیرکونسل برائے انسانی حقوق کے صدر نے کہاکہ بھارت کے یکطرفہ اقدام کا مقصد جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر کے 92سال پرانے ریاست میں شہریت کے قانون کو ختم کرکے وہاں آباد ی کے تناسب کو بگاڑنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دفعات کی منسوخی اور جنگی صورتحال اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرار دادوں اورتمام دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ اپنے چارٹر کے آرٹیکل 103کو ان تمام معاہدوں پر ترجیح دی جائے۔انہوں نے مقبوضہ علاقے میں مسلسل نافذ کرفیو اور دیگر پابندیوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بھارتی اقدامات کے تناظر میں سات رکنی کمیٹی تشکیل دینے کو خوش قرار دیا۔

مزید : برطانیہ


loading...