دختر پاکستان مریم نواز

دختر پاکستان مریم نواز
 دختر پاکستان مریم نواز

  

مریم نواز نے نیب کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دیا ہے، اگر اپوزیشن متوقع آل پارٹیز کانفرنس کے پتے احتیاط سے پھینٹ کر پھینک پائی تو پی ٹی آئی کی حکومت نیب کے بوجھ سمیت زمیں بوس ہوسکتی ہے کیونکہ عوام کے وہ طبقے جنھوں نے نواز شریف کی نفرت کی بجائے کرپشن کے خاتمے کی غرض سے پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالا تھا، وہ گزشتہ دو برسوں میں نیب کی کاروائیوں سے تنگ تو تھے ہی، مہنگائی اور کرونا وائرس کی وجہ سے پھیلنے والی بے روزگاری نے ان کا ذہن تبدیل کردیئے ہیں اور وہ اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنا پی ٹی آئی قیادت کے بس میں نہیں، بعض ایک تو اتنے اوتاولے ہیں کہ نومبر دسمبر میں ہی رزلٹ کی توقع لگائے بیٹھے ہیں!

ایسے میں وہ لوگ جو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی شراب کے پرمٹ میں نیب پیشی کا مقابلہ مریم نواز کی نیب پیشی سے کر رہے ہیں ان کی خدمت میں بس اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ کہاں راجہ بھوس اور کہاں گنگو تیلی!....ہمارے ان دوستوں کو پہلے اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ آیا ریاست مدینہ میں کسی کو شراب کا پرمٹ جاری ہو سکتا ہے؟

مریم نواز کی ایک عوامی جھلک نے اپوزیشن کو متحد کردیا ہے، وہ نواز شریف کا ایک نیا روپ بن کر ابھری ہیں، ان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کو بعض ایک پراپیگنڈ مشینیں اسی طرح ہوا میں اڑانے کی کوشش کر رہی ہیں جس طرح جج ارشد ملک کے اعترافی ویڈیو کو اڑایا گیا تھا مگر قابل غور بات یہ ہے کہ وہ مریم نواز جس کی ریلیوں کے ٹِکر تک ٹی وی سکرینوں پر نمودار نہیں ہونے دیئے جاتے تھے، ان کی نیب پیشی کو اس طرح فلمایا گیا ہے جس طرح نادیدہ کیمرے ماڈل ٹاؤن واقعے میں گلو بٹ کی فلمبندی کر رہے تھے، مریم درست کہتی ہیں کہ ان پر حملہ کرنے کے لئے انہیں نیب پیشی کے لئے بلایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان کی گاڑی پر لیزر گن سے فائرکیا گیا تھا تو کیا ہوگا؟ اگر عوام میں یہ تاثر راسخ ہوگیا کہ انہیں نقصا ن پہنچانے کے لئے نیب کے دفتر بلایا گیا تو کیا ہوگا؟؟

مریم کی ایک پیشی نے نون لیگ کو متحرک کردیا ہے، پنجاب کو متحرک کردیا ہے بلکہ پاکستان کو متحرک کردیا ہے، پی ٹی آئی کی مقبولیت پر ایک کاری ضرب لگی ہے، پنجاب کے عوام نواز شریف کے بعد مریم نواز کے پیچھے چل پڑے ہیں، وہ اگر چاہے تو مینار پاکستان پر این جی او مافیا کی بجائے حقیقی عوام کا جم غفیر جمع کرسکتی ہیں بلکہ یوں کہئے کہ مریم جہاں کھڑی ہوں گی وہیں ایک جلسہ ہو جائے گاکیونکہ عوام پی ٹی آئی کی صفوں کو چیرتی ہوئی مریم نواز کے پیچھے جا کھڑی ہوئی ہے، اب نواز شریف بھی خیریت دریافت کرنے کے لئے مریم نواز کو فون کرتے ہیں۔ یقین جانئے کہ اگر عوام نیب آفس کے سامنے جمع ہونے کے بجائے جاتی عمرہ سے مریم نواز کے ساتھ چلتے تو انہیں نیب آفس پہنچتے پہنچتے رات کا تیسرا پہر ہو جاتا!

دلچسپ بات یہ ہے کہ مریم نواز کے خلاف نیب کے الزامات کسی کو یاد نہیں رہے ہیں، مریم پر حملہ ہونے کی بات ہر ایک زبان پر ہے، حتیٰ کہ پی ٹی آئی کے پکے ووٹر سپورٹر بھی اسی کو ڈسکس کر رہے ہیں، کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ اس وجہ سے ملکی ترقی رک گئی ہے جس طرح کبھی عمران خان کے دھرنے کو ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر ڈسکس کیا جاتا تھا۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو جو کچھ زبانی کہہ رہے تھے مریم نواز نے وہ سب کچھ عملی طور پر کر دکھایا ہے، ٹی وی چینلوں نے کوریج کا اہتمام تو اس لئے کیا تھا کہ پتھراؤ پر نون لیگ کی خبر لیتے لیکن مریم کی گاڑی پر حملے نے سب کچھ الٹادیا، واللہ خیرالمٰکرین!

مریم نواز جاتی عمرہ سے چلیں تو نیب کی گڈی چڑھی ہوئی تھی، مریم نواز نیب کے دفتر پہنچیں تو نیب کی سٹی گم ہو چکی تھی، حکومت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے قائد عمران خان کی طرح وہ بھی پولیس وین روک کر تمام گرفتار کارکنوں کو رہا کروالیتیں تو کیا ہوتا؟ حکومت کس منہ سے اس عمل کی مذمت کرتی؟؟

مریم نواز نے ثابت کردیا ہے کہ وہ دختر پاکستان ہیں، وہ پاکستانیوں کی امید ہیں اور اس یبوست زدہ ماحول میں پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے والی پارٹی کی قیادت کی اصل حقدار ہیں، عوام نے ان کی قیادت میں نیب کی سیاسی انجنیئرنگ کی کوشش کا جنازہ نکال دیا ہے، نیب ننگی ہو گئی ہے، اب لباس ساتر بھی اس کا ننگ پن نہیں ڈھانپ سکتا!

مزید :

رائے -کالم -