پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر کے شہری حقوق حاصل:جسٹس اطہر من اللہ

  پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر کے شہری حقوق حاصل:جسٹس اطہر ...

  

 اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاہے کہ ہم ہر سال پرچم کشائی کرتے اور تقریب منعقد کرتے ہیں اس کے بعد ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم 14اگست کیوں مناتے ہیں ہمیں فخر ہونا چاہئے کہ قائداعظم کی قائدانہ صلاحیت اور اصولوں کی وجہ سے یہ آزادی ملی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلام آبادہائیکورٹ میں پرچم کشائی کی تقریب سے اپنے خطاب کے دوران کیااس موقع پر جسٹس عامر فاروق،جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس غلام اعظم قمبرانی، جسٹس فیاض انجم جندران، جسٹس لبنی پرویزکے علاوہ سیشن ججز اسلام آباد،بار ایسوسی ایشنز کے صدر شریک ہوئے اور اسلام آباد پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔چیف جسٹس نے کہاکہ آج کا دن محض ایک تقریب کا نہیں ہے سبز اور سفید پرچم کا ایک خاص مقصد ہے سبز رنگ مسلمانوں اور سفید اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ آئین بھی سب کے لیے برابر ہے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے بطور شہری حقوق برابر ہیں۔ قائداعظم نے ایمان، اتحاد اور تنظیم کا درس دیا ہم نے دیکھنا ہے کہ کیا ہم قائداعظم کے اقوال پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔وزیراعظم نے پلانٹ فار پاکستان کی کمپین جو شروع کی وہ صرف ایک کمپین نہیں ہے ہم نے گزشتہ برسوں میں ماحولیات کے ساتھ جو کچھ کیا اگر ہم آج نہیں جاگے تو آنے والی نسلیں متاثر ہوں گی ہم نے بھی آج شجرکاری مہم میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ بیوروکریٹس، ججز، وکلا اور میڈیا قائداعظم کے اقوال پر عمل کرنا شروع کر دیں تو یہ واقعی قائداعظم کا پاکستان بن سکتا ہے۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار کے وکلاء کی جانب سے شجر کاری مہم کاآغازکیاگیااور وکلا نے چیف جسٹس کی زیر نگرانی پودے لگائے۔

جسٹس اطہر من اللہ

مزید :

صفحہ آخر -