مشرقِ وسطیٰ کا نیا سٹرٹیجک ایجنڈا

مشرقِ وسطیٰ کا نیا سٹرٹیجک ایجنڈا

  

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ایک سمجھوتے کا اعلان کیا ہے،جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات قائم ہو جائیں گے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ کی کوششوں سے جو سمجھوتہ طے پایا ہے اور جس پر آئندہ ہفتوں میں وائٹ ہاؤس میں دستخط ہوں گے، اسرائیل، فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے کو ضم کرنے کے اپنے منصوبے کو معطل کرنے کے لئے تیار ہو گیا ہے۔ تینوں ممالک…… امریکہ، اسرائیل، متحدہ عرب امارات…… نے ایک مشترکہ علامیہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور یو اے ای کے ولی عہد شیخ محمد بن زائد اِس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ یو اے ای اور اسرائیل میں مکمل سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں۔ ایک علیحدہ بیان میں شیخ محمد نے سمجھوتے کی تصدیق کی اور کہا کہ اسرائیل مزید فلسطینی علاقے اپنی ریاست میں ضم کرنے کا سلسلہ روک دے گا، تاہم اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ زمین کے حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ دونوں ممالک نے باہم تعلقات قائم کرنے کے روڈ میپ پر بھی اتفاق کیا ہے۔ مشترکہ علامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے لئے سٹرٹیجک ایجنڈا لایا جائے گا، اسرئیل سے امن معاہدہ کرنے والے ممالک کے مسلمان مسجد ِ اقصیٰ میں نماز ادا کر سکیں گے۔اماراتی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ہمیشہ فلسطینیوں کے مضبوط حمایتی رہیں گے۔فلسطین کے صدر محمود عباس نے اسرائیل، عرب امارات معاہدہ مسترد کر دیا ہے اور یو اے ای سے اپنا سفیر واپس بُلا لیا ہے۔ انہوں نے عرب لیگ کا اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں اسرائیل اور دیگر عرب ممالک کے درمیان مزید سفارتی کامیابیاں متوقع ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔”یہ ہمارے دو عظیم دوستوں کے مابین تاریخی امن معاہدہ ہے“…… امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسے تاریخی دن اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لئے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے آج اسرائیل اور عرب دُنیا کے تعلقات کا نیا دور شروع ہوا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ معاہدے میں اسرائیل نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کے منصوبوں میں تاخیر کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ”صدی کے معاہدے“  کے تحت جن اقدامات کا آغاز کیا تھا ان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ مشرقِ وسطیٰ کے اہم عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہو جائیں اور ان ممالک میں باہمی تعلقات اس طرح استوار ہوں کہ ایک دوسرے کے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہو، تاہم یہ مذاکرات غیر معمولی طور پر طویل ہو گئے،اس دوران بعض عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے حوالے سے خبریں، وضاحتیں اور تردیدیں بیک وقت شائع ہوتی رہیں۔ عرب دُنیا کے کئی موثر رہنماؤں نے ایسے بیانات بھی دیئے،جن میں اسرائیل کے لئے نرم گوشے کا تاثر اُبھرتا تھا۔ صدر ٹرمپ سب سے پہلے جس عرب مُلک کو اسرائیل کے قریب لانے اور معاہدے پر رضا مند کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں وہ متحدہ عرب امارات ہے۔ کیمپ ڈیوڈ(امریکہ) میں مصر اسرائیل سمجھوتوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی ملک اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ مصر کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات اور عرب امارات کے ساتھ معاہدے میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ موخرالذکر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں کبھی اسرائیل کا براہِ راست حریف نہیں رہا،نہ دونوں میں کوئی جنگ ہوئی، نہ کسی نے ایک دوسرے کے علاقے پر قبضہ کیا، اس کے برخلاف دوست بننے سے پہلے مصر اور اسرائیل کئی جنگیں لڑ چکے تھے، آخری جنگ میں صحرائے سینا کے علاقے پر اسرائیل کا قبضہ ہو گیا تھا، تعلقات قائم کر کے مصر نے یہ فائدہ حاصل کیا کہ اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے واگذار کرا لئے اور بعض دوسرے اقتصادی ثمرات بھی سمیٹے۔مصر کی جانب سے مطمئن ہونے کے بعد اسرائیل نے بھی اپنی توسیع پسندی کی پالیسی کے تحت شام، اردن اور فلسطین کے ہتھیائے ہوئے علاقے اسرائیل کا باقاعدہ حصہ بنا لئے۔ فلسطینی علاقے بھی وقتاً فوقتاً اسرائیل میں شامل کئے جاتے رہے، اب مغربی کنارے کو بھی ضم کرنے کا منصوبہ تھا، جو وقتی طور پر معطل کیا گیا ہے، غالباً ”دیکھو اور انتظار کرو“ کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔اندرون ملک بھی اسرائیلی وزیراعظم کو اِس ضمن میں مخالفت کا سامنا تھا۔ایک اسرائیلی سرکاری افسر نے عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ مغربی کنارے پر اسرائیلی حاکمیت قائم کرنا ابھی تک ہمارے ایجنڈے پر ہے، بہت سے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بنا کر وہاں سے فلسطینیوں کو بے دخل کر دیا گیا ہے، اسرائیل کا منصوبہ  یہ ہے کہ فلسطین کی باقاعدہ آزاد  و خود مختار ریاست قائم ہونے سے پہلے زیادہ سے زیادہ فلسطینی علاقے اسرائیل میں شامل کر لئے جائیں۔ یو اے ای نے فلسطینی کاز کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی ہے، اس کا خیال ہے کہ اس طرح فلسطین کی آزاد ریاست کا قیام ممکن ہے۔

عرب اسرائیل تعلقات کا یہ تازہ اور تاریخی دور ابھی شروع ہوا ہے، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا آنے والے دِنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں مزید کامیابیاں حاصل ہوں گی، کئی دوسرے عرب ممالک بھی یو اے ای کے ”جرأت مندانہ“ فیصلے کی تائید اور اس کے نقوش قدم کی پیروی کر سکتے ہیں۔ اسرائیل اور یو اے ای کے تعلقات معمول پر آنے کے بعد وہ ملک بھی آگے بڑھیں گے جو فی الحال  باہر بیٹھ کر ہی پانی کی گہرائی کا اندازہ لگانے میں مصروف ہیں اور کبھی کبھارکوئی بیان جاری کر کے ردعمل جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسرائیل، امریکہ کی سرپرستی میں اپنی ساری توجہ ایران پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ اس کا خیال ہے کہ خطے میں یہی ایک ایسا ملک ہے جو اس کے وجود کے لئے نہ صرف خطرہ بن سکتا ہے، بلکہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں بھی مزاحم ہے۔ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ جس ایران میں پہلوی دور میں اسرائیلی ایجنٹ دندناتے پھرتے تھے، اس ایران میں شہنشاہیت کے خاتمے اور جمہوری دور کے آغاز پر اسرائیل ایک ایسا ناپسندیدہ ملک ٹھہرا کہ اس کی خالی کی ہوئی سفارت خانے کی عمارت میں فلسطینی سفارت خانہ بن گیا۔ صدر ٹرمپ ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں تنہا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں اور ہر وہ قدم اٹھانے کے لئے تیار ہیں، جس سے اُن کے خیال میں اسرائیل مضبوط ہوتا ہو۔ عربوں اور اسرائیل کے تعلقات کے پس منظر میں بھی یہی منصوبہ کار فرما ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیل ایرانی خطرے کے مقابلے کے لئے یک سو  ہو جائے اور عرب ممالک کو بھی باور کرا دیا جائے کہ ان کے لئے خطرہ ایران کی جانب سے ہے، اسرائیل سے نہیں۔اب دیکھنا ہو گا کون کون سے ملک متحدہ عرب امارات کی پیروی کے لئے آگے بڑھتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -