کراچی کے بارے میں بڑا فیصلہ، نوشتہ ئ دیوار

کراچی کے بارے میں بڑا فیصلہ، نوشتہ ئ دیوار
کراچی کے بارے میں بڑا فیصلہ، نوشتہ ئ دیوار

  

اُدھر اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ کراچی کی تباہی پاکستان کی تباہی اور اِدھر بلاول بھٹو زرداری نے دھمکی آمیز  انداز میں جواب دیا کہ کراچی پر قبضے کی کوشش کی گئی تو پورے ملک کو نقصان ہو گا۔ ساتھ ہی عدالت عظمیٰ کو بھی بلواسطہ طور پر یہ پیغام دیا ہے کہ ایسی کسی کوشش کو عدالتی تحفظ دینے کی کوشش کی گئی، تو اس کے خلاف مزاحمت کریں گے اسے پنجاب میں کہتے ہیں کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے۔ ایک طرف سندھ حکومت کراچی کے لئے کوئی کام کرنے کو تیار نہیں اور دوسری طرف اگرکوئی دوسرا کام کرے تو اس کی مخالفت میں خم ٹھونک کر سامنے آ جاتی ہے۔ اس بار تو سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی نااہلی اور کرپشن پر شدید تنقید کی ہے،جس کے باعث ملک کا سب سے بڑا شہر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ اُدھر این ڈی ایم اے نے نالوں کی صفائی شروع کی ہے تو سندھ حکومت کی نیندیں اڑ گئی  ہیں، کیوں اڑ گئی ہیں اس کے بارے میں بھی چیف جسٹس گلزار احمد نے صاف کہہ دیا ہے کہ ورلڈ بنک کے فنڈز بند ہونے کا خدشہ ہے، اِس لئے سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ30 اگست تک سندھ حکومت کو نالے صاف کرنے کی مہلت دی جائے اور این ڈی ایم اے کو کام سے روک دیا جائے، لیکن سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کی یہ استدعا مسترد کر دی اور کہا کہ سندھ حکومت کو اب خیال آیا ہے جب این ڈی ایم اے کام شروع کر چکی ہے، پہلے اس پر توجہ کیوں نہیں دی گئی۔

آخر کیا وجہ ہے کہ پچھلے پانچ برسوں میں خاص طور پر کراچی تباہی کے کنارے پر پہنچ گیا ہے، وہاں زندگی مفلوج ہو گئی ہے اور کوئی ادارہ بھی کام کرنے کو تیار نہیں، ہر کوئی اپنا عذر پیش کر دیتا ہے۔ عذر پیش کرنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے، میئر کراچی وسیم اختر کو تو سپریم کورٹ سے جتنی جھاڑ پڑی ہے اُن میں تھوڑی سی بھی انا ہوتی تو اُسی وقت مستعفی ہو جاتے، یاد رہے کہ چیف جسٹس نے انہیں سنے بغیر کہہ دیا تھا کہ اگر اختیارات نہیں تو جان چھوڑو اور گھر جاؤ۔ یہ عجیب ماجرا ہے کہ کراچی میں سب عہدوں سے چمٹے ہوئے ہیں،مراعات بھی لے رہے ہیں، کروڑوں روپے کے فنڈز بھی خرچ کرتے ہیں،لیکن کام کا پوچھا جائے تو بے اختیاری کا رونا روتے ہیں۔ کراچی کارپوریشن کو14 ارب روپے کے فنڈز ملے، وہ کہاں گئے، کراچی میں تو ایک انچ کچرا صاف نہیں ہوا۔ کیا سندھ حکومت اس الزام سے بچ سکتی ہے کہ اُس نے کراچی کی تباہی میں اہم کردار ادا کیا۔ پیپلزپارٹی خاص طور پر اس بات کو کیسے جھٹلا سکتی کہ بارہ برسوں سے سندھ پر اُسی کی حکومت ہے،لیکن کراچی اُس کے دور میں زوا ل پذیر ہوتا چلا گیا۔سپریم کورٹ کی یہ آبزرویشن بالکل درست ہے کہ کراچی کو بُری طرح لوٹا گیا ہے۔ ہر کوئی یہاں جیبیں بھرنے آیا اور لوٹ کر چلتا بنا۔ شہر کے انفراسٹرکچر کا حلیہ بگاڑ دیا گیا۔ ہر محکمے نے کرپشن کی گنگا بہائی اور کراچی کے ماسٹر پلان کی دھجیاں اڑا دیں۔ کراچی کا کوئی ایک شہری بتا دیں جو اِس بات کی دہائی نہ دے رہا ہو کہ پانی، نکاسی ئ آب، بجلی اور گندگی کی وجہ سے اُس کی زندگی اجیرن نہیں ہو گئی کہ دو کروڑ آبادی کو آپ کب تک محبوس بنا کر رکھ سکتے ہیں۔ کیا حکومتوں کی یہی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی بے بسی کا اظہار کرتی رہیں۔ سپریم کورٹ نے کتنی مرتبہ یہ حکم جاری کیا کہ کراچی سے کچرا صاف کیا جائے،کیا سندھ حکومت یا کراچی کارپوریشن نے کچھ کیا، کیا اِس بار بارشوں کی وجہ سے نالے بند ہونے کے باعث پورے شہر میں پانی نے جو تباہی مچائی وہ کسی سے ڈھکی چھپی ہے، ایسے میں وفاق نے ایک اچھا فیصلہ کیا کہ این ڈی ایم اے کو نالوں کی صفائی کے لئے کراچی جانے کی ہدایت کی۔ اب یہ کام ہو رہا ہے تو سندھ حکومت کو صفائی کے دورے پڑنے لگے ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کو سیاسی مصلحتوں کے تحت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلاول بھٹو زرداری اسی بات پر  واویلا مچانے کی بجائے کہ کراچی میں وفاق اپنا کوئی کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔اس بات پر توجہ دیں کہ اس سے پہلے سندھ حکومت کراچی کو اس کا حقیقی مقام دے، اس کے مسائل حل کرے۔ اگر کراچی اچھے انداز سے چل رہا ہوتا تو وفاق کی جرأت ہی نہ ہوتی کہ وہ اس میں کوئی مداخلت کرتا۔ یہ جواز تو خود سندھ حکومت نے فراہم کیا ہے اور آئین میں اس کی گنجائش بھی موجود ہے کہ اگر کوئی صوبہ کسی شعبے میں ٹھیک کام نہیں کر رہا تو وفاق اس میں مداخلت کر سکتا ہے۔ یہ تو ملک کے سب سے بڑے شہر کا معاملہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو شاید اِس بات کا علم نہیں، خود کراچی کے عوام یہ دہائیاں دے رہے ہیں کہ کراچی میں فوج بھیجی جائے،  مسائل سے نجات دلائی جائے۔ انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ کراچی شہر  کی نبض اب پیپلزپارٹی کے خلاف دھڑک رہی ہے۔ وہ کراچی کے کسی حصے میں جائیں تو انہیں علم ہو کہ عوام کتنے بھرے بیٹھے ہیں ایسے میں وہ اگر عدلیہ اور حکومت کے خلاف بیان دیں اور یہ تک کہیں گے کہ عدلیہ جمہوریت کا ساتھ دے، غیر آئینی قوتوں کی حمایت نہ کرے تو اُن کے اس بیانیے کی حمایت کون کرے گا۔ عدالت عظمیٰ اگر کراچی کی حالت پر سخت نوٹس لے رہی ہے تو یہ جمہوریت اور آئین کے عین مطابق ہے، اگر کروڑوں عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہ ہو اور جمہوری نمائندے اور جمہوری حکومت اُن کے مسائل حل کرنے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ  کر رہے ہوں تو عدالت کی طرف سے مداخلت درحقیقت جمہور کے حق میں اپنا وزن ڈالنے کے مترادف ہو گی، کیونکہ عوام کو دیوار سے لگانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ خانہ جنگی کو ہوا دے رہے ہیں۔

سپریم کورٹ ے چیف جسٹس گلزار احمد خان نے جب اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کراچی کی بُری حالت کے بارے میں وفاق کوئی کردار ادا کرنا ہے چاہتا، تو اناڑی جنرل نے جواب کہ کراچی کے بارے میں مختلف آئینی آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، لیکن وہ ابھی عدالت کو بتا نہیں سکتے، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پُرعزم ہیں کہ کراچی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اسی لئے کچھ دن انتظار کیا جائے۔ شاید اٹارنی جنرل کی اس بات پر بلاول بھٹو زرداری کو ایک ایسا بیان دینا پڑا، جو بے وقت کی راگنی نظر آتا ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ سر سے پانی گزرنے کے مصداق ہو چکا ہے، اس کراچی کو گرداب سے نکالنے کے لئے ایک بڑے فیصلے کی ضرورت ہے، اور ضرورت نوشتہ ئ دیوار بن چکی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -