نسل در نسل 

نسل در نسل 

  

بہو نسل کی بنیاد ہوتی ہے۔ نئی نسل کو ایک بہو جنم، تربیت اور عقل دیتی ہے۔ بنیا د جتنی پختہ اور عمدہ ہوگی نسل اتنی ہی مضبوط اور خوشحال ہو گی۔ عمارت کی بنیاد اگر مضبوط اور کنکریٹ دار ہو گی تو بارشیں، آندھیاں اور زلزلے اس عمارت کو گرا نہیں سکتے۔ اور عمارت پوری طرح اپنی بنیاد پر کھڑی رہے گی۔ لیکن کچی بنیادوں پر کھڑی عمارتیں ہلکی بارشوں اور ہلکے زلزلوں سے ہی دھڑام سے گر پڑتی ہیں۔ ایک بہو کا کردار بھی  ایک نسل کے لئے ایسا ہی ہے۔ آج کی بہو۔ کل کی ماں اور پرسوں کی دادی ہے۔ بہو ایک خاندان کو جنم دیتی ہے۔ بہو دانا اور سگھڑ ہوگی تو نسل مثالی ہوگی۔معاشرتی اور خاندانی بارشیں اور زلزلے اس نسل کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ بہو نسل کی بنیا د جبکہ بیٹی نسل کا پیغام ہوتی ہے۔ بیٹی جس گھر میں بھی جائے گی اپنی نسل کی تہذیب و تمدن کا پتہ دے گی۔ ہم بہو تلاش کرنے میں معاشرتی اور خاندانی غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں پہلے ہم تلاش کے معیار پر بات کرتے ہیں۔ 

معا شرتی طور پر پاکستانی آبادی کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ شہری،  نیم شہری اور دیہاتی۔ شہری آبادی کا معیار تعلیمی اور مالی لحاظ سے کافی مضبوط ہوتا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم بھی لڑکوں کے برابر ہوتی ہے۔ رشتوں کا معیار مالی اور تعلیمی حالت کو سامنے رکھ کر دیکھا جاتا ہے۔ لڑکی کا گھر کی ذمہ داریوں پر عبو ربا لکل بھی مد نظر نہیں رکھا جاتا۔ لڑکی کی تعلیم کتنی ہے، لڑکی کو جہیز میں کیا ملے گا پر توجہ ہوتی ہے۔ 

نیم شہری تعلیمی اور مالی طور پر زیادہ مضبوط نہیں ہوتے۔ نیم شہری لوگ زیادہ تر دیہاتوں سے نقل مکانی کر کے شہری ہوتے ہیں جن کے اندر دیہاتی روایات کسی قدر موجو د رہتی ہیں۔ ان میں مناسب تعلیم جبکہ معقول جہیز کی خواہش پائی جاتی ہے۔ بعض نیم شہری شہر کا زیادہ اثر لیتے ہیں۔وہ اپنی لڑکیوں کو زیادہ تعلیم دلواتے ہیں اور شادی کیلیے بہو کی صورت میں اچھی تعلیم اور جہیز وغیرہ کو معیار بناتے ہیں۔ جبکہ دیہاتی لوگ ان دونوں سے بالکل مختلف ہیں۔ دیہاتی زندگی میں لڑکیوں کی تعلیم زیادہ اہم نہیں ہوتی۔ آج بھی لڑکیوں کی ایک معقول تعداد یا تو تعلیم سے دور رہ گئی ہے یا پرائمری اور مڈل تک محدود ہے۔ بہت کم تعداد میٹرک تک پہنچ پائی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کی لڑکیاں کسی بھی دیہات میں ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں۔ اس لیے دیہاتی زندگی میں تعلیم کم جبکہ خانگی امور کی تربیت کو زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ گھر کے کام کاج، کھانا پکانا اور سینا پرونا کو بڑی اہمیت حامل ہے۔ لڑکی کے کردار اور مزاج کو بڑی باریک بینی سے پرکھا اور دیکھا جاتا ہے۔ زیادہ تر رشتے خاندانی مجبوریوں کی نذر ہوجاتے ہیں۔ ماموں، خالہ، چاچو، پھو پھی اور دیگر قریبی رشتے داریوں میں لڑکیاں بغیر کسی معیار کے بیاہی جاتی ہیں۔ اکثر پڑھے لکھے لڑکوں کی شادیاں قریبی رشتہ داریوں کی مجبوریوں یا محبتوں کی وجہ سے ان پڑھ یا نیم خواندہ لڑکیوں سے طے ہوجاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں لڑکی اور لڑکے کے ذہنی لیول کو  نظر اندار کر دیا جاتا ہے۔ یہاں ایک دلچسپ امر کا ذکر ضروری ہے کہ زیادہ علم کے رشتے نا پائیدار جبکہ کم علم کے رشتے زیادہ پائیدار پائے گئے ہیں۔ اب ہم نسل کی بنیاد کی تلاش اور اصل معیار پر آتے ہیں۔ 

بہو کی تلاش میں زیادہ عقل اور فہم کی ضرورت ہے۔ ہم لڑکیوں کی تعلیم اور ڈگریاں دیکھتے ہیں۔ ہم لڑکیوں میں ڈاکٹر، انجینیئر، ٹیچر،  بیوروکریٹ اور آفیسر کو تلاش کرتے ہیں۔ ہم لڑکیوں کے حسن، قد اور جسم کی بناوٹ کو تلاش کرتے ہیں۔ جبکہ ایک بہو کیلیے شرم و حیا ء، کردار، اخلاق، تہذیب اور کھانا پکانا  نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایک لڑکی بہو بن کر دیورانی، نند، بھابھی، چاچی اور مامی بن کر ایک خاندان میں زندگی شروع کرتی ہے۔ ہم ایک لڑکی میں اچھی بھا بھی، دیورانی، چاچی، مامی اور بہو نہیں دیکھتے۔ اس کے جہیز اور حسن کو دیکھتے ہیں۔ ہم لڑکی کے اندر شعور، برداشت، تحمل اورخانگی مہارت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ہم ان چیزوں کو اہمیت ہی نہیں دیتے یا بعض اوقات وقت پر چھوڑ دیتے ہیں کہ ” گھریلو ذمہ داریوں میں پڑ کر خودبخود ٹھیک ہو جائے گی“۔ حسن، جہیز اور نوکری کو معیار بنا کر مستقبل کے شب و روز کا حساب نہیں رکھتے۔ جنم لینے والی نسل کی تربیت اور تہذیب کی فکر نہیں کرتے۔ ہم وقتی ضرورتوں اور مجبوریوں کے گھوڑے پر سوار ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ گھوڑا ہمیں سواری کے مزے نہیں دیتا بلکہ بہت جلد ہمیں ہماری اوقات کی زمین پر گرا دیتا ہے۔ جب ہم اٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے ہیں کہ کسی نے ہمیں دیکھا تو نہیں تو اس وقت پورا زمانہ ہم پر ہنس رہا ہوتا ہے۔ اور وقتی مجبوریوں نے جس لڑکی کو ہماری بہو بنا دیا تھا وہ بہو ہم پر سواری کر رہی ہوتی ہے۔ سواری سے گرا دیں تو خاندان رونے لگتا ہے۔ سواری رہنے دیں تو زمانہ ہنستا ہے۔ چونکہ ایک بہو ایک نسل کی بنیاد ہے ایک بہو کا اچھا ہونا ایک نسل کا اچھا ہونا ہے۔ اور ایک بہو کا ناقص العقل، بدکردار اور بد اخلاق ہونا ایک نسل کا ناقص العقل، بد کردار اور بد اخلاق ہونا ہے۔ خاندان اور نسلیں اچھی تہذیب پر نشونما پاتی ہیں۔  

بد قسمتی سے ہمارے ملک میں لڑکیوں کیلیے خانگی اور عائیلی تعلیم کا کوئی رواج ہی نہیں ہے۔ لڑکیوں کیلیے کالجوں اور یو نیورسٹیوں میں ہر قسم کی تعلیم دی جاتی ہے ماسوائے خانگی اور عائیلی تعلیم کے۔ ایک لڑکی کو بہر صورت بہو بننا ہے مگر اس کے باوجود ہمارے ملک میں ایک اچھی بہو بنانے کا کوئی نصاب نہیں ہے۔ ایک لڑکی کو اچھی بہو ماں بنا سکتی ہے یا پھر ساس۔ مگر بد قسمتی سے دونوں اس ذمہ داری سے گریزاں ہیں۔ ماں اپنی بیٹی کو اچھی نند یا بھا بھی بنا نے کی بجائے ایک خود دار یا خود سر بیوی بنا کر بھیجتی ہے۔ جبکہ ایک ساس اپنی بہو میں خود ساس بن کر بیٹی کا پیار تلاش کرتی ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایک لڑکی اچھی بہو نہیں بن سکتی۔ اس طرح ایک بہو سے اچھی نسل آگے نہیں بڑھ سکتی۔ زیادہ تر تعلیم یافتہ لڑکیاں برداشت اور تحمل سے عاری پائی گئی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو ” serious“  لے جاتی ہیں اور اپنا گھر برباد کر کے بیٹھ جاتی ہیں۔ اور مطلقہ ہونے کے بعد دوبارہ بہو یا بیوی بننے کے انتظار میں اپنی زندگی گزار  دیتی ہیں۔ اور جنم لینے والی نسل کے مستقبل سے کھیل جاتی ہیں۔ ایسی لڑکیوں کی طلاق کی شرح دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ اور بچے دو خاندانوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں۔ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں مگر کم تعلیم یافتہ لڑکیاں طلاق کے لفظ سے بہت گھبراتی ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایسی لڑکیاں اپنے بچوں کی خاطر بہت کچھ  برداشت کر جاتی ہیں۔ اگرچہ ایسے خاندانوں میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے۔ مگر رشتوں کا تقدس اور بچوں کا مستقبل بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم اپنی نسل کی بقاء اور تسلسل کیلیے لڑکی تلاش کرتے ہیں۔ بہو تلاش کرنی چاہیے۔ بہو کی صورت تلاش کرتے ہیں سیرت تلاش کرنی چاہیے۔ تعلیم تلاش کرتے ہیں تہذیب تلاش کرنی چاہیے۔ مہارت تلاش کرتے ہیں کردار تلاش کرنا چاہیے۔ یہ ہماری نسل کے انتقال کے ذریعہ ہے اس کے انتخاب میں مادی نہیں روحانی فہم کی ضرورت ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -