انتقامی سیاست سے ملکی ترقی،اہداف مشکل 

انتقامی سیاست سے ملکی ترقی،اہداف مشکل 

  

سیاسی کارکردگی کے طرز عمل میں، پاکستان میں، کچھ تحمل، بردباری اور فراخ دلی پر مبنی ردعمل اختیار کرنے کی، اشد ضرورت ہے۔ اس امر میں، اگر خدا واسطے کی مخالفت اور مزاحمت پر تاکید کو ترجیح دینے سے،گریز کا راستہ اپنایا جائے۔ تو کئی امور اور منصوبے، جلد کم خرچ اور خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل کو پہنچا کر،عوام کو مستفید کیا جا سکتاہے۔ ایک روایتی مروجہ روش، سستی شہرت کا حصول ہے،  بعض لوگ بغیر کسی محنت اور تگ ودو کے، اپنے ناموں سے منسوب کرنے کے خبط میں مبتلا ہیں۔حالانکہ اصل مقصد تو عام لوگوں کی فلاح و بہبود کی کارکردگی کی پالیسیاں بنانااور ان پر، بلا کسی اضافی خرچ اور تاخیر، عمل درآمد یقینی بنانا ہوتا ہے، لیکن ایسے معاملات میں، مروجہ قوانین اور اصول و ضوابط کی پاسداری بھی بہت اہم تقاضا ہے۔ ان کو نظر انداز کرنے سے، مخالف راہنماؤں کے لیے  سخت تنقید کا راستہ دینے کے مترادف ہے۔ ایسی کارکردگی سے، ممکنہ حد تک احتیاط لازم ہے۔ معترض حضرات کو بھی اپنی تنقید، مثبت مقاصد کی بنیاد پر کرنی چاہیے۔ 

محض اس لیے کہ فلاحی کام کوئی دیگر سیاسی راہنما یا کاروباری حریف سر انجام دے رہا ہے۔ اس پر منفی رائے زنی کا شور مچاکر، ااس شخص کی عزت و شہرت کو نقصان سے دوچار کرنے کی کوشش کرنا بھی، پرلے درجے کی حماقت اور جہالت ہے۔ جبکہ گزشتہ چند دہائیوں کے مقابلے میں، آج کل ملک کے بیشتر علاقوں میں، شرح خواندگی، قدرے بہتر ہوگئی ہے لیکن آبادی میں تیزی سے ا ضا فہ سے یہ انداز اب جاری رکھنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ کیو نکہ تعلیم کا حصول گزشتہ دو یا تین دہائیوں سے اتنا گراں  ہو گیا ہے۔ کہ عام لوگوں کو اپنے بچوں کو ضروری ابتدائی تعلیم، پرائیویٹ اداروں میں دلانا، ان کے جائز مالی وسائل سے باہر ہوگیا ہے۔ کیونکہ سرکاری سکولوں اور کا لجوں کی تعداد انسانی آبادی کی نسبت خاصی کم ہے۔ جبکہ پرائیویٹ اداروں میں، ابتدائی کلاسوں کے بچوں کے داخلہ اور ماہانہ فیسوں کی شرح بھی، ہزاروں روپے  ہے۔

جو وطن عزیز کے بیشتر لوگ تو ادا کرنے کی  استطاعت نہیں رکھتے،اس طرح موجودہ مالی حالات میں ملک میں شرح خواندگی کے اضافہ کے بارے میں کسی مقتدر سیاست کا ریا اعلیٰ افسر کی جانب سے مبالغہ آمیز اعلانات یااقدامات کی تشہیر و ترویج،زمینی حقائق کے مطابق درست معلوم نہیں ہوتی۔لہذا ایسے بلند بانگ دعوؤں پر اس وقت تک اصرار نہ کیا جائے۔ جب تک ہم مطلوبہ مالی وسائل  فراہم نہ کر سکیں۔ لیکن ملک کی اکثریتی آبادی کیلئے ضروری تعلیم کے حصول کی کوششیں اور ترجیحات جاری رکھنے پر ہمہ وقت تگ و دو ہر حکومت اور محب وطن شخص کی بنیادی ذمہ داری ہے۔اس معاملہ پر کوئی تعصب تفریق اور تنگ ظرفی کسی صوبہ،علاقہ،رنگ نسل،مذہب،ذات،برادری،فرقہ پرستی،زبان اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ظاہر کرنے سے گریز و پرہیز کیا جائے۔ وطن عزیز کے جن علاقوں اور صوبوں میں تعلیم کا نظام اور معیار درست نہیں۔

ان کی کوتاہیاں اور خرابیاں جلد دور کرنے پر بھر پور توجہ دی جائے۔ امتحانات میں ناجائز ذرائع استعمال کرنے سے نقل کر کے پرچے حل کرنے کی عادات و حرکات کو سختی سے روکنے کے انتطامات کئے جائیں۔سندھ حکومت کو ایسے غلط رجحانات کا سدباب کرنے کا عزم صمیم کرنا ہوگا۔ وہاں کے راہنما حقائق پر مبنی مثبت تنقید،خندہ پیشانی سے قبول کر کے اصلاحی اقدامات اختیار کرنے میں کوئی سبکی محسوس نہ کریں۔ ایسا کرنے میں انہی کی بہتری  ہے۔ کیونکہ آج کے بچے کل کے حاکم اور حکمران ہوں گے۔ ان کی تعلیمی اہلیت اور قابلیت،قومی بلکہ بین الاقوامی  معیار کے مطابق یا قریب بنانا متعلقہ والدین حکومت،افسران اور اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہے۔ جب نوجوان کسی اہم ذمہ داری پر فائز ہوتے ہیں۔ تو ان کی  کارکردگی اچھی یا خراب محض،چند گھنٹوں یا دنوں میں ہی عیاں ہو جاتی ہے۔ تو پھر کسی کمی،کوتاہی یا کمزوری کی صورت میں متعلقہ اساتذہ اور حکومت کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ اس لیے ملک بھر میں بلا تخصیص  تدریس کا انداز و معیار حتی المقدور بہتر اور قابل ستائش بنانا اور جاری رکھنا اشد ضروری ہے۔ سیاسی کارکردگی میں دیگر جماعتوں کے حامی راہنماؤں اور کارکنوں پر تنقید کا اظہار انکی ملکی امور کے بارے میں سوچ و فکر رائے زنی اور محنت و دیانت کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔

لیکن گزشتہ چند سال سے ذرائع ابلاغ میں کسی شخص یا راہنما پر حریف لوگ محض اس لیے فوری طور پر سخت اور تلخ زبان پر مبنی تنقید ی لب و لہجہ اختیار کر لیتے ہیں۔ کہ وہ دیگر کسی سیاسی جماعت یا اتحاد سے وفاداری رکھتا ہے۔ حالانکہ تنقید کا بنیادی موضوع تو کسی ذریعہ ابلاغ میں ظاہر کیا گیا،نقطہء نظر ہوتا ہے۔ جو اکثر اوقات محض مخالفت برائے مخالفت کی بجائے،ٹھوس نظریات خیالات،تاثرات یا اقدامات کے اظہار یا تجاویز پر منظر عام پر لائے گئے مواد اور اداروں پر مبنی ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر رانا ثناء اللہ یا خواجہ سعد رفیق کا کوئی سیاسی بیان کسی ٹی وی چینل یا قومی اخبار میں شائع ہوا ہو تو کسی حریف جماعت کے جو بھی راہنما اس پر اپنا رد عمل دیتے ہیں اس میں اکثر اوقات اول الذکر راہنماؤں کی ذات و کارکردگی پر سراسر منفی حرکات و عادات اپنانے کی الزام تراشی عائد کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ رانا ثناء اللہ وغیرہ سابق دور میں بر سر اقتدار رہے ہیں۔

لیکن اس ماضی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ اس دور میں محض قومی دولت خورد برد اور وسائل کی لوٹ مار کرتے رہے ہیں۔ایسے الزامات سے کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر سراسر منفی اور انتقامی کارروائیوں کی عکاسی ظاہر کرتے ہیں۔ سابق تمام حکمرانوں کی جو بھی غیر قانونی کارکردگی ہے،اس کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کا موجودہ حکومت کے حامی لوگوں کو پورا اختیار حاصل ہے۔ فاضل ابتدائی یا اعلیٰ عدالتیں،اگر کسی غیر آئینی اور غیر قانونی حرکت پر سابق حکمرانوں یا وزراء کو گرفتار کر کے سزائیں دیتی ہیں۔ تو پھر ایسے فیصلوں کو بلا کسی عذر و اعتراض ملک کے سب لوگوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ لیکن محض ذرائع ابلاغ میں شب و روز کی مخا لفانہ بیان بازی سے کوئی حریف راہنما چور،ڈاکو، اور لٹیراقرار نہیں دیا جا سکتا۔ 

مزید :

رائے -کالم -