وزیر اعظم تعلیمی نصاب کو یکساں کرائیں 

وزیر اعظم تعلیمی نصاب کو یکساں کرائیں 
وزیر اعظم تعلیمی نصاب کو یکساں کرائیں 

  

حکومت کی جانب سے تعلیمی سیکٹر کو محکمہ تعلیم کے دائرہ کار میں لاتے ہوئے ان کے من مانے اور والدین اور طالب علموں پر مسلط کردہ فیصلوں کا محاسبہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن حکومتی لوگوں کی مجبوریاں ہیں کہ ابھی تک ان پر پوری طرح عمل نہیں کیا جا سکا تقریباٰ 6 ماہ سے زیادہ عرصہ سے کورونا وائرس کی وجہ سے سکولز کالجز بند ہیں تعلیمی نظام ٹھپ ہو گیا ہے لیکن سرکاری اداروں کے سکولز کالجز اور پرائیویٹ سیکٹر میں  بچوں سے فیسیں وصول کی جا رہی ہیں اور والدین کو مجبور کر کے فیس وصول کر تے  ہیں ورنہ بچوں کو سکولوں سے نکالنے کی دھمکیاں، حالانکہ وزیر اعظم کی طرف سے احکامات جاری کئے گئے تھے جن کی وجہ سے عوام الناس نے سکھ کا سانس لیا تھا لیکن ان پر عمل کب ہوگا ؟یہ بات طے کی گئی تھی کہ نجی تعلیمی سیکٹر کے من گھڑت اقدامات اور احکامات سے عوام کی جان ہمیشہ کے لئے چھڑائی جائے گی اس تناظر میں جہاں من مانی سے مسلط کردہ زیادہ فیسوں کے ٹیرف کو ختم کیا گیا ہے وہاں تمام تعلیمی اداروں کو پابند بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ محکمہ تعلیم سے اپنی رجسٹریشن اور الحاق کو یقینی بنائیں مگر بات یہاں پر ختم نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی ہوتی ہے بلکہ یہ وقت ایسا ہے کہ نجی تعلیمی سیکٹر کے تحت چلنے والے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ فیسوں کی مد میں لوٹ مار کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کو پابند بنانے کا وقت آ گیا ہے  پنجاب میں بہت اچھے اچھے تعلیمی ادارے نجی سیکٹر میں چل رہے ہیں جن کا معیار تعلیم ہر طرح پاکستانی معاشرے کے مطابق ہے لیکن کچھ اداروں نے انگلش اور ماڈرن تعلیم کے نام پر معاشرے کو تباہ کر دیا ہے وہ کسی بھی حکومتی احکامات کی پابندی نہیں کرتے بلکہ ان میں افسوس ناک واقعات رونما ہوئے ہیں اسی لئے حکومت وقت کو دوسرے منصوبوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام کی طرف توجہ دینے اور ملک میں یکساں نظام رائج کرنے کا بھی فیصلہ کرنا وقت کیا ہم ضرورت ہے اگر اسلامی مدرسوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ صرف حافظ قرآن اور بچوں کو امام مسجد نہ بنائیں بلکہ مدرسوں میں سائنس اور  دوسرے معاشرتی شعبوں کی تعلیم دیں تاکہ بچے بڑے ہو کر اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ انجینئر ڈاکٹر اور دوسرے شعبوں میں داخل ہوں اسی طرح ماڈرن تعلیم کے نام پر ملک اور صوبے میں تعلیمی اداروں کو بھی پاکستانی معاشرے کی ضرورت کے مطابق تعلیم دینے کا پابند کیا جائے ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ  قومی تعلیمی نظام پر عمل کریں گے ہمارے ہاں یہ بھی المیہ ہے کہ تعلیمی نظام کے نام پر مختلف نوعیت کے تعلیمی پیٹرن رائج کر کے نجی تعلیمی سیکٹر عوام کو دونوں ہاتھوں سے فیسوں اور دیگر فنڈز کی لوازمات کی مد میں لوٹ رہا ہے اور اس کا جواز اور جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ جو تعلیم ہمارے نجی تعلیمی ادارے میں فراہم کی جاتی ہے وہ کسی اور میں نہیں ہوتی وہ کہتے بھی ٹھیک ہیں جو تعلیم وہ نجی سیکٹر کے تحت فراہم کر رہے ہیں اخلاقی طور پر وہ ہمارے معاشرے کی ضرورت ہی نہیں اور قومی سطح پر نوجوان نسل کے تعلیمی خوابوں کے برعکس ہے جس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ آج ہزاروں نجی تعلیمی ادارے سوئمنگ کی تعلیم دے رہے ہیں جس میں جنسی تمیز کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ وہاں ہوتا ہے اس کی مثال دینا مناسب نہیں آخر وہاں ہمارے بچے بچیاں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور شرم و حیاء کی خاطر ان کی پردہ پوشی کرنی پڑتی ہے یہ کس طرح کہاں سے چال ڈھال سے پاکستان اور پاکستانی معاشرے اور مذہب کی عکاسی کرتے ہیں افسوس ہے کہ کچھ لوگ اس تعلیم کو ترقی کی منزل کہتے ہیں بہر حال یہ بات بھی ہے کہ معاشرے میں چند بلکہ ملک میں قائم کچھ نجی ادارے تعلیم کے نام پر ڈرامے بازی کر رہے ہیں ان کو کس طرح حکومت اور عوام برداشت کر سکتے ہیں افسوس ہے کہ ملک میں چند نجی تعلیمی اداروں نے ہر قسم کی سندیں برائے فروخت کا کاروبار شروع کر رکھا ہے تعلیمی معیار کا سٹینڈرڈ اسی لئے تباہ ہوا ہے کہ خود غرض اور مفاد پرست افراد نے تعلیم کی فیکٹریاں لگا رکھی ہیں اور نظام تعلیم اور اچھے اداروں کی ساکھ کو بھی بدنام کر دیا ہے پتہ نہیں کون سی حکومت آئے گی جو چند خود غرض لوگوں سے بلیک میل نہیں ہو گی ا ور  ملک میں تعلیم کو صحیح سمت چلانے کی کوشش کرے گی تاہم یہ انتہائی اہمیت کی حامل بات ہے کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں یکساں تعلیمی نصاب اور یکساں تعلیمی نظام رائج کیا جائے ہاں اگر کسی کو غیر ملکی زبانوں اور کرداروں کو ادا کرنے کا شوق ہے اس کے لئے پہلے سے ہی مختلف قونصلرز میں امتحانات ہوتے رہتے ہیں وہاں ان کا یہ شوق پورا ہو سکتا ہے تاہم سمجھنے کی یہ بات ہے کہ ہم 90  فیصد طالب علموں اور والدین کی علمی خواہشات کو 10 فیصد ان افراد پر قربان کر رہے ہیں جو اپنی شناخت چھوڑ کر غیروں کا کردار اپنانا چاہتے ہیں۔ شاید ہمارے ملک میں مختلف نوعیت کے بحرانوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے نئی نسل کے با صلاحیت نوجوانوں میں کردار سازی کا عنصر پیدا ہی نہیں ہونے دیا جا رہا اور یہ کام صرف ا ور صرف نجی تعلیمی ادارے کر رہے ہیں جن کا نصاب بھی غیروں نے دیا ہوا ہے اور نظام بھی۔ اس صورت حال میں یہ کہا جائے کہ ہمارا آج کا نوجوان ذمہ دار نہیں ہے تو اس میں قصور ہمارا یعنی حکومت کا بھی ہے جو ملک میں یکساں نصاب ہی رائج نہیں کر سکی یہ حکومت کے لئے بڑا کام نہیں لیکن چونکہ پاکستان میں زیادہ نظام تعلیم پرائیویٹ شعبہ کے پاس ہے اس لئے حکومت کو ان کی باتیں ماننی پڑتی ہیں اور تعلیم کا نظام تقریباً بگڑ چکا ہے بلکہ آج کے نوجوان کو آج کی تعلیم نے بگاڑ دیا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ساتھ حکومت گفت و شنید کر کے اور معاشرے کے نوجوان کو مزید تباہی کی طرف جانے سے روکے اور حکومت فوری طور پر ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کا اعلان کرے افسوس کی بات ہے کہ چند صوبوں نے تعلیمی کتابوں سے وطن کی خاطر شہید ہونے والوں کے نام بھی غائب کر دیئے ہیں آخر ان لوگوں میں کس طرح جرأت ہوئی کہ شہدا  وطن کے ناموں کو تعلیم کی کتابوں سے نکالیں تو پھر آنے والی نسل کو کس طرح پتہ چل سکتا ہے کہ  ملک کی خاطر کس طرح اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وطن کی سلامتی پر قربان ہوئے اس طرح وفاقی حکو مت  صوبوں کو پابند کرے کہ وہ ایک ہی نصاب کے تحت تعلیم دیں۔

مزید :

رائے -کالم -