”سوہنی دھرتی“ اللہ رکھے، قدم قدم آباد، تجھے“

”سوہنی دھرتی“ اللہ رکھے، قدم قدم آباد، تجھے“
”سوہنی دھرتی“ اللہ رکھے، قدم قدم آباد، تجھے“

  

”سوہنی دھرتی، اللہ رکھے، قدم قدم آباد، تجھے، قدم قدم آباد“ …… ”تیرا ہر اک ذرہ ہم کو اپنی جان سے پیارا، جب تک ہے یہ دنیا باقی، ہم دیکھیں آزاد تجھے، ہم دیکھیں آزاد“……گزشتہ روز ملکی فضا اسی جذبے سے مصور نظر آئی۔ اللہ اس خطے کو نظر بد سے بچائے۔ دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور خطرناک ارادوں سے محفوظ رکھے اور ہم سب کو عقلِ سلیم عطا فرمائے کہ ہم اپنے پاکستان کی حفاظت، تحفظ اور ترقی کے لئے دیانت دار ہو جائیں۔

گزشتہ روز جب یوم آزادی میں صرف ایک ہی دن باقی تھا، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور میں پریس کانفرنسوں اور تقریب نے اس ماحول کو اجاگر کیا جو ہمارے سامنے ہے اور ساتھ ہی ساتھ خدشات اور عزم صمیم کی بھی بات ہوئی، تاہم بہتر ہوتا کہ کراچی اور اسلام آباد میں بات کرنے والے دو روز کی تاخیر کر لیتے اور پشاور کی تقریب والے قومی درد محسوس کرکے حالات کے مطابق بات کرتے۔ بہرحال جو بھی ہے،قوم کے سامنے ہے اور یہ قوم بہت باشعور ہے، اسے بھٹکی بھولی یا بیوقوف سمجھنا غلطی ہو گی اور ایسی کوتاہی خطرے کا باعث بنتی ہے، یہ قوم سب جانتی اور سمجھتی بھی ہے اسے لالی پاپ سے بہلایا نہیں جا سکتا، تاہم خطرناک بات یہ ہے کہ وطن میں لاتعلقی کا ماحول بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ”سانوں کیہ“ کی صدا اب سنی جانے لگی ہے، یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ عوام کا مسائل کا سامنا کرتے ہوئے بھی خود کو الگ کر لینا کوئی بہتر نشانی نہیں، بلکہ غور طلب بھی ہے کہ اتنی بے حسی کیوں؟ اس کا سبب کیا ہے ہمارے نزدیک یہ ایک دو دن کا قصہ نہیں۔ سالوں کی بات ہے کہ کوئی بھی حادثہ یکدم نہیں ہوتا۔ اس کے اسباب پیدا ہوتے رہتے ہیں، اسی لئے ہم نے ہمیشہ قومی مفاہمت اور اتفاق رائے کی بات کی ہے اور یوم آزادی بہترین موقع تھا کہ ہم اس کے لئے پیش قدمی کر گزرتے، کاش ایسا ہوتا؟

یوم آزادی سے قبل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل بابر افتخار نے ایک بریفنگ کے دوران بہت حوصلہ افزا باتیں کیں انہوں نے بھارتی ارادوں،تعصب، مظالم اور دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اسلحہ کے انبار لگانے کا بھی ذکر کیا اور حوصلے کا اظہار کرتے ہوئے کہا بھارت نے فرانس سے پانچ رافیل طیارے منگوائے ہیں، اگر وہ پانچ سو ایسے طیارے بھی حاصل کر لے، پھر بھی ہمارے حوصلے پست نہیں ہو سکتے، ہم تیار ہیں اور دشمن کو منہ توڑ جواب ملے گا، جیسا لائن آف کنٹرول پر ملتا ہے، میجر جنرل بابر افتخار نے بہت تفصیل سے بات کی اور سوالات کے جواب دیئے۔ انہوں نے جوابات بھی دیئے،  اس سے ایک بار پھر یہ تاثر ابھرا کہ حکومت اور فوج ایک صفحہ پر ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے 16اگست کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورۂ سعودی عرب کے حوالے سے بھی وضاحت کی اور بتایا کہ یہ پہلے سے طے شدہ ہے اور وہ پروگرام کے مطابق دفاعی نوعیت کے مسائل پر بات کرنے جا رہے ہیں، بہرحال ان کی وضاحت کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ دورہ وزیرخارجہ کے اسلامی کانفرنس کے بارے میں بیان اور سعودی عرب کے طرز عمل میں محسوس ہوتی تبدیلی اور جنرل راحیل شریف کے متحدہ کمان سے مستعفی ہونے کی افواہوں کے پس منظر میں اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ ابھی دو روز قبل پاکستان میں سعودی سفیر نے بھی جنرل قمر جاوید باجوہ  سے ملاقات میں تبادلہ خیال کیا تھا۔ بہتر ہوتا کہ اس پریس کانفرنس میں میجر جنرل بابر سے جنرل راحیل شریف کے استعفے والی افواہوں کی وضاحت بھی کرالی ہوتی کہ یہ بھی ضروری ہے۔ گزشتہ دنوں جنرل راحیل شریف لاہور میں تھے۔ اس بریفنگ والی پریس کانفرنس کے حوالے سے بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، لیکن بات یہیں تک رکھتے ہیں کہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

پشاور میں وزیراعظم عمران خان نے میٹروبس ”بی آر ٹی“ کا افتتاح کیا اور روائت کے مطابق تفصیلی تقریر بھی کی۔ اس منصوبے کی تکمیل پر انہوں نے خود شکر ادا کیا تو ان سے پہلے عوام بھی ”تشکر کے آنسو“ لئے ہوئے تھے کہ بالآخر یہ مکمل تو ہوا۔ اگرچہ کہا جا رہا ہے کہ ابھی تک اس کی مکمل تکمیل نہیں ہوئی۔ حزب اختلاف کا اعتراض اپنی جگہ، بہرحال بسیں چل پڑیں تو باقی منسلک مسائل حل بھی ہو جائیں گے۔ ہمیں توقع تھی کہ وزیراعظم ”آزادی“ کے اہم موقع پر قومی مفاہمت کی بات کریں گے کہ قومی اسمبلی میں قانون سازی کا ماحول بہتر ہوا ہے  اور قومی مفاد کے بلوں پر مفاہمتی ماحول پیدا ہوا، لیکن یہ توقع بھی نقش برآب ہی رہی کہ انہوں نے اپنی طرف سے ہاتھ تو بڑھایا نہیں اور اختلاف کرنے والوں سے یہ توقع کی کہ وہ قومی اہمیت کی قانون سازی میں تعاون کریں گے۔

اب بات کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کی میڈیا سے گفتگو کی۔ اس میں ایک پہلو ہمارے لئے دلچسپی کا باعث بنا کہ انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی سے شکوہ کر دیا وہ کہتے ہیں، سپیکر نے قانون سازی کے حوالے سے حزب اختلاف کی جماعتوں سے مشاورت، بات کی لیکن ہماری جماعت جمعیت علماء اسلام سے رابطہ نہیں کیا۔ نظر انداز کیا، اس سے ہمارا حوصلہ بڑھا کہ یہ کہہ سکیں،مولانا بھی قومی مفاہمت کی طرف مائل ہیں، اب یہ ان (حزب اقتدار) پر منحصر ہے کہ وہ بھی جمہوری انداز میں سب کو ساتھ لے کر چلے، صرف دعوے نہ کرے، جس کے لئے حضرت سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی ہی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، پیدا ہونے والے ماحول کو بہتر سے بہتر بنانا حزب اقتدار ہی کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ اسے نبھانا چاہیے لیکن شائد یہ نہ ہو کہ ”اعتماد“ بڑھا ہے اور ”گورا صاحب! کالے لوگوں، سے بات کیوں کرے؟ ”والی مثال ہی کافی ہے، لیکن اس رویے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔کپتان کو اپنے ”مربی“ والا طرز عمل اپنانا ہوگا اور خود کچھ کرنا پڑے گا آخر کب تک ان کے یہ ”مربی“ ان کو سہارا دیتے چلے آئیں گے۔

ہم نے گزشتہ روز عرض کیا تھا کہ اٹارنی جنرل کے بیان نے جو تشویش پیدا کی وہ ملکی حالات میں مفید نہیں، اس سے پہلے سے موجود بحران میں اضافہ اور مسائل میں مشکلات پیش آئیں گی کہ ایڈونچر ممکن ہے لیکن نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ہم ”را اور دشمنوں“ سے نبردآزما ہیں تو بلوچستان کی اندرونی صورت حال بھی کچھ زیادہ خوش کن نہیں، ایسے میں کچھ نئے مصائب پیدا کرے گی۔ قومیں دور تک سوچتی ہیں، ہمارے خیالات کی تائید بلاول بھٹو زرداری کی اس پریس کانفرنس سے بھی ہوئی ہے جو کراچی میں ایک روز قبل ہوئی اور اس میں انہوں نے اپنا موقف اور ارادہ بھی واضح کر دیا ہے اور لانگ مارچ جیسے عمل کی نئی تشریح کر ڈالی ہے کہ زرداری کو بذریعہ سڑک راولپنڈی لے جایا جائے گا اور کارکن بھی ساتھ جائیں گے۔ فیصلہ سی ای سی کرے گی۔ اس سے کچھ  اندازہ لگائیں کہ عمل پی پی، مسلم لیگ (ن)، جمعیت علماء اسلام اور دوسری جماعتو ں کو متحد کر سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -