ملک خداداد کسی نعمت سے کم نہیں،پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق 

ملک خداداد کسی نعمت سے کم نہیں،پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق 

  

مردان (بیورورپورٹ)عبدلالولی خان یونیورسٹی مردان میں پاکستان کی 74ویں یوم آزادی  کے حوالے سے گارڈن کیمپس میں  ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا  تقریب میں یونیورسٹی کے اساتذہ افسران ملازمین اور ننھے منے بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق نے پرچم کشائی کی انہوں نے کہا پاکستان ایک عظیم نعمت ہے پاکستان کے حصول کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر پاک و  ہند کے مسلمانوں   نے عظیم قربانیاں دیں لاکھوں کی تعداد میں نوجوان مرد عورتوں اور بچوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے اصول کو یقینی بنایا پاکستان دنیا کے نقشے میں بننے والا وہ پہلا ملک ہے جو ایک کلمے نظریے اور دین کے نام پر وجود میں آیا آج کا پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اللہ تعالی نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازا ہے یہاں پر قدرتی وسائل موجود ہے  پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے پاکستان رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 33واں ملک ہے  جب ابادی کے لحاظ سے چٹھا بڑا ملک ہے پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ پاکستان کو کچھ لوٹائیں  اپنی صلاحیتیں اور فرائض اس ملک کے لیے بروئے کار لائیں انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہمیں  اتفاق اتحاد  اور یگانگت  کی اشد ضرورت ہے پاکستان کو معاشی اقتصادی اور ہر محاذ پر  ترقی یافتہ بنانے کے  لئے ہمیں اپنے اختلافات کو بھلا کر ملک کی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا پاکستان کی تعمیر و ترقی اس کے امن و خوشحالی کے لئے افواج پاکستان کی قربانیاں مثالی ہیں آج ہر پاکستانی  کو سکون اور اطمینان حاصل ہے  افواج پاکستان کی لازوال قربانیوں کی مرہون منت ہے پاک فوج دنیا کی بہترین فوج ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا پاکستان امت مسلمہ کا دل ہے پوری دنیا کے مسلمان اس کی ترقی فلاح  اور بہتری  دیکھنے کے لئے خواہاں ہے  یوم آزادی کی تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر زاہد مروت پروفیسر ڈاکٹر نیاز ڈاکٹر سعید السلام ڈائریکٹر سپورٹس  فاروق حسین پروفیسر ڈاکٹر شیر افضل ڈاکٹر عتیق  ڈائریکٹر ایڈمن سجاد علی شاہ نے شرکت کی  جبکہ  یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈز نے پرچم کشائی کی خصوصی تقریب میں حصہ لیا  اور قومی پرچم کو سلامی پیش کی پروفیسر ڈاکٹر نیاز نے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے خصوصی طور پر دعا فرمائی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -