تحریک پاکستان میں سرائیکیوں کی قربانیوں کو تسلیم کیاجائے، ظہور دھریجہ 

  تحریک پاکستان میں سرائیکیوں کی قربانیوں کو تسلیم کیاجائے، ظہور دھریجہ 

  

 ملتان (سپیشل رپورٹر)تحریک پاکستان میں سرائیکیوں کی قربانیوں کو تسلیم کر کے لوگوں کو صوبہ سرائیکستان دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی کونسل کے زیر اہتمام یوم آزادی کے موقع پر منعقد سیمینار سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینارکی صدارت سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ نے کی۔ نظامت کے فرائض زبیر دھریجہ نے سر انجام(بقیہ نمبر28صفحہ10پر)

 دیئے۔ جبکہ سرائیکی رہنما شریف خان لشاری،معروف سرائیکی شاعر و براڈ کاسٹر اکبر ہاشمی، ماہر تعلیم طارق شاہ جیلانی، مہر اجمل خاموش، صابر شفیق، حاجی عید احمد دھریجہ، اعظم سومرو شاہجمالی،روبینہ بخاری، عار ف گلشن و دیگر نے خطاب کیا۔ جبکہ معروف سرائیکی گلوکار اجمل ساجد، ثوبیہ ملک، قاسم شہزاد اور محمد اکرم حسین نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ سرائیکی قوم پاکستان دے محبت کرتی ہے کہ جس ملک کی خاطر سب سے زیادہ قربانیاں دیں، اس سے محبت خون میں شامل ہے اور پاکستان ہماری سرزمین پر بنا ہوا ہے، ہم اس سے محبت کیوں نہ کریں؟ انہوں نے کہا کہ افسوس ہوتا ہے کہ سرائیکی وسیب کے جن لوگوں نے تقسیم کے وقت ہندوستان سے آنے والے مہاجرین کو پناہ دی، انہی کی طرف سے سرائیکی قوم پر را کے ایجنٹ اور لسانی فسادات پھیلانے والے کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد ریاست بہاولپور نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ پاکستان بننے سے پہلے یہاں پاکستان ریاست بہاولپور کی شکل میں تھا، مگر افسوس کہ ریاست بہاولپور کی قربانیوں کو فراموش کر دیا گیا۔ الگ صوبہ بنانا تو کیا ریاست بھی پنجاب میں ضم کر دی گئی۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں بسنے والی تمام قوموں کو برابر حقوق دیئے جائیں، سرائیکی سمیت تمام علاقائی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے اور ان زبانوں کی ترقی کیلئے ادارے قائم کئے جائیں۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ ہم ریاست پاکستان کے اندر صوبہ سرائیکستان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حکمران صوبہ سرائیکستان جلد قائم کریں تاکہ وسیب کے لوگ جشن آزادی کی دوہری خوشی منا سکیں۔ اس موقع پر ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جب تک صوبہ نہیں بنتا آرڈیننس کے ذریعے سرائیکی وسیب کا الگ پبلک سروس کمیشن قائم کیا جائے، وفاقی ملازمتوں میں 50 فیصد حصہ دیا جائے اور لیکچررز کی آسامیاں جو مشتہر ہونے والی ہیں، ان میں سرائیکی زبان و ادب کی 200 آسامیاں دی جائیں۔

ظہور دھریجہ

مزید :

صفحہ آخر -