ایک طاقتورشخصیت نے وزیراعظم سے ملاقات کرکے گزارش کی کہ عثمان بزدار کو تبدیل کردیں لیکن پھر عمران خان نے کیا جواب دیا؟ سینئر صحافی اعزاز سید نے دعویٰ کردیا

ایک طاقتورشخصیت نے وزیراعظم سے ملاقات کرکے گزارش کی کہ عثمان بزدار کو تبدیل ...
ایک طاقتورشخصیت نے وزیراعظم سے ملاقات کرکے گزارش کی کہ عثمان بزدار کو تبدیل کردیں لیکن پھر عمران خان نے کیا جواب دیا؟ سینئر صحافی اعزاز سید نے دعویٰ کردیا

  

اسلام آباد، لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی پر بسا اوقات انگلیاں بھی اٹھتی ہیں اور ان کو تبدیل کرنے کی افواہیں بھی چلتی رہتی ہیں ، اب سینئر صحافی اعزاز سید نے دعویٰ کیا کہ عمران خان سے براہ راست ملاقات کرکے ایک طاقتور شخصیت گزارش کرچکی ہے ۔

روزنامہ جنگ میں اعزاز سید نے لکھا کہ "  عمران خان کو ایک طاقتورشخصیت نے براہ راست ملاقات کرکے گزارش کی کہ جناب پنجاب میں عثمان بزدار کو تبدیل کردیں۔ عمران خان نے مذکورہ شخصیت کو بتایا کہ وہ بہترجانتے ہیں کہ کس کو کہاں لگانا اور کس کو کہاں سے ہٹانا ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد پیغام رسانی کی حد تک وزیراعلیٰ کو ہٹانے کی باتیں کی گئیں تاہم کوئی براہ راست ہدایت موصول نہیں ہوئی۔ 

اسی لیے وزیراعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کے لیے اب نیب میں ایک درخواست دلوا کر ایک سرکاری افسر کو وعدہ معاف گواہ بھی بنا لیا گیا ہے اور ٹی وی چینلز پربیٹھے کئی لوگ وہی راگ الاپ رہے ہیں جس کا انہیں اشارہ کیا گیا ہے۔بظاہر اوپر بیان کیے گئے واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے لیکن یہ واقعات وزیراعظم عمران خان کے طرزحکمرانی کی عکاسی کررہے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ عمران خان کے اندر بھی طاقت کو للکارنے والا چھوٹا سا نوازشریف پیدا ہوچکا ہے جو کبھی کھل کر طاقت کوللکارتا ہے تو کبھی مصلحت کے باعث خاموش ہوجاتاہے۔

مخدوش معاشی صورتحال کے باعث عمران خان اس وقت ملک میں غیر مقبول ہوچکے ہیں ان کی یہی غیرمقبولیت ان کے اقتدار سے نکلنے کی سرگوشیوں کو جنم دے رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مارچ2021 میں سینیٹ انتخابات کے بعد ایک سنجیدہ کوشش ضرور کی جائے گی اس پر شاید سوچ بچار جاری ہے۔عمران خان کو اقتدارسے نکالنے کی خواہشمند اب صرف اپوزیشن ہی نہیں ہے بلکہ کئی طاقتور بھی ہیں، واضح راستہ مگر سجھائی نہیں دے رہا"۔ 

مزید :

اہم خبریں -قومی -