" ہم عمران خان سے تنگ ہیں مگر ہمیں ڈر ہے کہ ۔ ۔ ۔" سرکاری افسران وزیراعظم سے تنگ لیکن انہیں ہٹانے کیلئے کونسے 3 آپشنز ہیں؟ تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا

" ہم عمران خان سے تنگ ہیں مگر ہمیں ڈر ہے کہ ۔ ۔ ۔" سرکاری افسران وزیراعظم سے تنگ ...

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اپوزیشن کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ حکومت کے دن گنے جاچکے ، اب یہ نہیں چل سکتی لیکن بظاہر حکومت کے چلے جانے کی کوئی وجہ نہیں، ایسے میں سینئر صحافی اعزاز سید نے بھی قلم اٹھایا ہے اور لکھا ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے نکالنے کے لیے تین آپشن ہوسکتے ہیں۔

روزنامہ جنگ میں اعزاز سید نے لکھا کہ  "عمران خان کو اقتدارسے نکالنے کی خواہشمند اب صرف اپوزیشن ہی نہیں ہے بلکہ کئی طاقتور بھی ہیں، واضح راستہ مگر سجھائی نہیں دے رہا۔ عمران کی اقتدارسے بے دخلی دو بنیادی نکات کے اردگرد گھومتی ہے۔ اول یہ کہ متبادل کون ہوگا ؟ دوئم یہ کہ اقتدارسے بے دخلی پرعمران خان کا ردعمل کیا ہوگا؟

عمران کے متبادل کے طورپر تین راستے واضح ہیں۔ اول یہ کہ ان ہائوس تبدیلی کے ذریعے پی ٹی آئی کے اندرسے نیا وزیراعظم لایا جائے۔ دوئم یہ کہ پارلیمنٹ کے اندرسے اپوزیشن کے کسی قابل قبول چہرے کو وزیراعظم بنا دیا جائے اور سوئم یہ کہ ملک میں نئے انتخابات کروا دئیے جائیں۔ 

پارٹی کے اندرسے تبدیلی کا پہلا آپشن شاید عمران خان کو قبول نہیں ہوگا۔ پارلیمنٹ کے اندرسے اپوزیشن کو موقع دینے کا آپشن بلاول بھٹوکی سربراہی میں پیپلز پارٹی کو قبول ہے مگر پنجاب سے مسلم لیگ ن کے تعاون کے بغیریہ ممکن نہیں۔

 سب سے آخری یعنی عام انتخابات کا آپشن مسلم لیگ ن کو قبول ہے مگریہ شاید اس لیے قابل عمل نہیں کہ ملکی خزانہ خالی ہے اورملک کی کمزورمعیشت عام انتخابات کے اخراجات جھیلنے کے قابل نہیں۔دوسرا اہم سوال عمران خان کے ردعمل سے متعلق ہے۔ یہ سوال عمران کے متبادل سے زیادہ اہم ہے۔ اس پردو خیال ہیں اول یہ کہ عمران خان خاموشی سے گھرچلے جائیں گے اوردوسرا یہ کہ عمران خان بھرپورردعمل کا مظاہرہ کریں گے۔ میں دوسرے خیال کے حامیوں میں شامل ہوں۔ 

پچھلے دنوں ایک سرکاری افسر نے ایک سینیٹرسے غیر رسمی ملاقات میں بتایا کہ جناب ہم عمران خان سے تنگ ہیں مگر ہمیں ڈر ہے کہ یہ شخص کہیں کوئی سخت ردعمل ہی نہ دے دے اسلئے ہم دیکھو اورانتظارکرو کی پالیسی پرگامزن ہیں۔ اس واقعے کی بہت سی تفصیلات ہیں مگر صرف اوپر درج مختصربات پر انحصارکررہا ہوں تاکہ بتا سکوں کہ طاقتورلوگ بھی عمران کو نکالنے کے بارے میں پریشان ہیں کیونکہ شاید موجودہ حکومت ان کے گلے میں پھنسی ایک ایسی ہڈی بن چکی ہے جو نگلی جارہی ہے نہ اگلی۔

مجھے نہیں علم کہ عمران خان کو اقتدارسے چلتا کرنے کے لیے کیا جانے والا وارکیا ہوگا ؟کامیاب ہوگا یا وار خالی جائے گا لیکن میں یہ بات ضرورجانتا ہوں کہ عمران خان کسی صورت بھی اقتدارسے بے دخلی کے بعد چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ عمران خان جونہی ردعمل دیں گے قبائلی علاقہ جات کے منظورپشتین سمیت ملک بھر میں مزاحمت کی تمام آوازیں انکے ساتھ ہولیں گی"۔

مزید :

قومی -