" یہ معاہدہ کوئی پتھر پر لکھی لکیر نہیں " دنیا بھر سے ردعمل آنے کے بعد متحدہ عرب امارات کا نیا موقف سامنے آگیا

" یہ معاہدہ کوئی پتھر پر لکھی لکیر نہیں " دنیا بھر سے ردعمل آنے کے بعد متحدہ ...

  

دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن)متحدہ عرب امارات کے وزرا نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے پاس ایسی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ مستقبل میں اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ضم نہیں کرے گا ،  معاون وزیر برائے امور خارجہ عمر قرقاش نے   بتایا کہ ٹرمپ نے جس حیرت انگیز معاہدے کا اعلان کیا تھا اس میں ایسی کوئی شرائط نہیں رکھی گئی ہیں اور نہ ہی یہ معاہدہ پتھر پر کوئی لکیر ہے ۔انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتے اس معاہدے کے باوجود اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے جیسے علاقوں پر اپنی خودمختاری کے دعوے کے اعلان کو صرف ’معطل‘ کر رہا ہے۔

برطانوی اخبار کی اردو ویب سائٹ کے مطابق   غزہ پر کنٹرول رکھنے والی جماعت حماس نے اسے فلسطین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا عمل قرار دیا ہے جب کہ صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔عمر قرقاش نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک خود مختار ریاست ہے جیسے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے فلسطینیوں کی شرائط کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے اسرائیل کی توسیع پسندی کو معطل کر دیا گیا ہے جس سے دونوں فریقین کو امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے گا جو کئی بار ناکام ہو چکے ہیں، اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی بحالی کے لیے کسی اور عرب ملک نے کوئی  اقدام نہیں کیے، درحقیقت یہ امارات کے ہی قائدین ہیں جنہوں نے یہ نہایت جرات مندانہ اور اہم قدم اٹھایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور گرگش نے معاہدے کو پورے خطے کے لیے جیت قرار دیا اور ایک تحریری بیان میں انہوں نے اسے ’امید کی کرن‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ  ہم اس معاہدے کو اسرائیلیوں کی طرف سے (مقبوضہ علاقوں) کو ضم کرنے کے عمل میں وقفے کی بجائے اسے روکنے کے عزم کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ مذاکرات اور تعاون سے فلسطین اور اسرائیل تنازع کے پائیدار حل کے لیے سازگار حالات پیدا ہوں گے لیکن عمر قرقاش کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ محض ہمارا گمان ہے،  ہم نے (اسرائیل پر) اعتماد قائم کیا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -