طالبان فتح کے قریب…… پاکستانیوں کے لئے غور و فکر کی ضرورت!

طالبان فتح کے قریب…… پاکستانیوں کے لئے غور و فکر کی ضرورت!
طالبان فتح کے قریب…… پاکستانیوں کے لئے غور و فکر کی ضرورت!

  

 آج جب یہ لکھ رہا ہوں تو ملک بھر میں یوم آزادی پُرجوش طریقے سے منایا جا رہا ہے،تمام روایتی تقریبات اور بیانات و تقاریر ہو رہی ہیں۔اِسی گہما گہمی میں خطے کی نئی صورتِ حال بھی سامنے ہے اور فکر مندی کا تاثر بھی موجود ہے۔خصوصی طور پر ہماری مسلح افواج اور عسکری قیادت کئی امتحانوں سے گذر رہی ہے۔ ہمسایہ ملک میں جاری جنگ سے ہم براہِ راست متاثر ہیں،جبکہ ملک کے اندر تخریب کاری بھی ہو رہی ہے۔اس صورتِ حال کا مقابلہ بھی لازم اور کیا جا رہاہے،دُکھ کا مقام یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اور قائدین زبانی ان حالات کے حوالے سے فکر مندی ظاہر کرتے ہوئے بھی عملی طور پر وہ قدم نہیں اٹھاتے،جن کی انتہائی ضرورت ہے۔  ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ملک کے اندر مکمل اتفاق رائے اور قومی یکجہتی ہو، آج کے دن کا بھی یہی تقاضہ ہے کہ ہم ٹھنڈے دِل سے گذرے74 برسوں کا جائزہ لیں کہ ان بیس سالوں میں کیا ہوا۔ یہ درست کہ جب ملک ملا تو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔فوج کے چند دستوں اور دفاتر کی ٹوٹی پھوٹی کرسیوں کے سوا ہمارے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑا گیا تھا، اس پر مزید یہ کہ واہگہ کے اس پار اور بھارتی حصے کی طرف سے ہجرت کر کے آنے والوں کا بہت دباؤ تھا، کہ یہ افراد نہ صرف گھر بار چھوڑ کر آ رہے تھے، بلکہ اپنے پیاروں کی قربانیاں بھی دیتے آئے تھے۔ اس خطے کے باسیوں نے انصارِ مدینہ کا کردار ادا کیا تھا اور آنے والے بھائی بہنوں کے لئے اپنے در اور دِل کشادہ کر دیئے تھے۔اس 74سالہ سفر نے صدمات کے باوجود آج اس آدھے سے کم حتمی ملک پاکستان کو سنبھال کر رکھا ہے، لیکن دُکھ یہ ہے کہ ہم نے اور ہمارے رہنماؤں نے اس طویل سفر میں تاریخ کے سبق کو یاد نہ  رکھا اور نہ ہی اس نہ بھولنے والے دشمن کے عمل کا فرانزک آڈٹ کیا،جس کی بددیانتی ہی کے باعث تقسیم کے ساتھ پاکستان کا مطالبہ کیا گیا اور پھر یہ ملک وجود میں آ ہی گیا۔

مَیں نے گزشتہ روز عرض کیا تھا کہ کس طرح سول نافرمانی کے جلوس میں نعرہ تبدیل ہوا اور کتا  کتا کہلانے والا بھائی بھائی کہا جانے لگا،بدقسمتی سے بانی  ئ پاکستان قائداعظمؒ کی رحلت کے ساتھ ہی ہم سازشوں میں گھر گئے یہ ادراک ہی نہ کیا گیا کہ پاکستان کے قیام کی مخالفت کرنے والے سامنے نظر آنے والی حقیقت جان کر حامی بن گئے تو پھر انہوں نے اس ملک کی سیاسی قوت بھی بننا اور جاگیردارانہ نظام کو سنبھالنا شروع کر دیا اور  1951ء میں وہ سانحہ پیش آ گیا،جب بھری جلسہ گاہ میں اگلی صفوں میں بیٹھے  سید اکبر نے گولی چلا کر پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو شہید کر دیا اور اس قاتل کو زندہ گرفتار کرنے کی بجائے اس وقت کے انسپکٹر جنرل پولیس قربان صاحب نے اپنی سرکاری گن سے اسے موقع پر ہلاک کر دیا، وہ دن گیا اور آج کا دن آیا،ہم پاکستانی آدھا ملک گنوا کر بھی کچھ نہ سیکھ سکے اور پھر شہید ِ ملت  لیاقت علی خان  کے بعد ایسے ہائی پروفائل قتل کے پس منظر کا آج تک سراغ نہیں ملا۔

مَیں آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہی عرض کر سکتا ہوں کہ ہم سب نے  اب تک ملکی ترقی کے باوجود کچھ نہیں سیکھا، اور74 برس گذرنے کے بعد بھی ویسے ہی ماحول میں ہیں، استحصالی نظام سے چھٹکارا دلانے کے دلفریب نعروں سے عوامی حمایت حاصل کرنے والوں نے کبھی  قومی جذبے سے حالات کا تجزیہ نہیں کیا اور نہ ہی مسائل کو حقیقت پسندانہ طور پر حل کرنے کی کوشش اور کاوش کی،مَیں نے ابتدا ہی میں عرض کیا تھا کہ آج ملک کے اردگرد اور اندر جو حالات ہیں، ان کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ہم قومی اتفاق رائے پیدا کرتے اور سب بڑے سر جوڑ کر بیٹھ جاتے اور حالات پر غور کر کے ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کر لیتے جسے حقیقتاً قومی کہا جا سکتا کہ اس پر سب کا اتفاق ہوتا،تو ہمیں یہ فکر تو نہ ہوتی کہ ایٹمی پاکستان کے خلاف دیرینہ سازشیں پریشان کر سکتی ہیں،آج ہماری سرحدوں پر جو خطرات منڈلا رہے ہیں وہ ماضی کی کسی غلطی کو دہرانے یا اس پر عمل پیرا ہونے کی اجازت نہیں دیتے،لیکن دُکھ یہ ہے کہ ہم افغانستان سے سی پیک اور فیٹف تک کے امور پر یکسوئی کی بجائے ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ہیں۔ہمارے حکمران اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے درمیان قومی مسائل کے لئے رابطوں کی بھی گنجائش نظر نہیں آ رہی۔آج بھی ہمارے حکمران اور ترجمان حزبِ اختلاف والوں کو نہ کہتے ہوئے بھی ملک دشمن قرار دیتے ہیں،اور یہ دیرینہ الزام تراشی کا سلسلہ جان ہی نہیں چھوڑ رہا،چاہئے تو یہ کہ سر جوڑ کر افغانستان کی صورت حال کا حقیقی جائزہ لے کر امریکی چال اور سازش کو سمجھا جائے،لیکن ہم تو  نیا قصہ لے کر ملک دشمن اور غدار غدار کا راگ الاپنے لگے ہیں۔

مَیں کوئی فوجی ماہر نہیں ہوں،لیکن اپنے قریباً 57 سالہ صحافتی تجربے کے دوران1965ء اور 1971ء کی لڑائیوں کی کوریج سے کچھ سوجھ بوجھ ضرور آئی۔اس  کے علاوہ حالات کا تجزیہ کرنے کی عادت بھی راسخ ہوئی۔مَیں سمجھتا ہوں کہ امریکہ بہت گہری اور عملی سوچ کے تحت افغانستان کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ کر نکل رہا ہے۔ہم ذرا غور کریں تو یہی امریکہ مشرق وسطیٰ سے بھی اپنے جانی نقصان کو بچانے کے لئے عملی لڑائی سے الگ ہوا، اور اب عراق و شام اور لبنان میں خود مسلمان ہی مسلمان کے در پے آزار ہیں۔امریکہ تو صرف نگرانی کر رہا ہے،اسلحہ بیچ کر وسائل لوٹ رہا ہے، مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اسرائیل کو تحفظ فراہم کر رہا ہے،اور اب ایسا ہی افغانستان میں کرنا چاہتا اور الزام پاکستان پر عائد کر رہا ہے۔ اگرچہ معروضی حالات میں بظاہر طالبان فتح کی جانب گامزن ہیں اور خود امریکی انٹیلی جنس کی اطلاعات سے کہا جاتا ہے کہ کابل کی تسخیر اب زیادہ دور نہیں۔ ہمارے دفاعی ماہرین جو تفصیل سے حقائق کا جائزہ لے رہے ہیں انہی کا تجزیہ یہ ہے کہ اس بار طالبان نے ماضی سے سبق حاصل کر کے شمالی افغانستان کی فتح سے آغاز کیا اور کابل کی طرف پیش قدمی کی ہے۔ امریکی انتظامیہ پر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ اس نے بھی سوویت یونین کی طرح افغانستان میں استحکام پیدا کرنے کی بجائے اچانک نکلنے کا فیصلہ کر کے اس پر عمل بھی کر دیا،اس سے حالات کنٹرول نہیں ہوں گے۔مَیں سمجھتا ہوں امریکی انتظامیہ نے طویل غور کے بعد یہ عمل کیا، اور اس کے پیچھے اس کے کئی مقاصد ہیں، پہلا مقصد تو یہ کہ طالبان کی فتح کے بعد بھی ان کی حکومت کو مستحکم نہ ہونے دیا جائے۔ معاشی گھیرا بھی تنگ کیا جائے گا،اس کا اندازہ یورپی یونین، برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک کے حالیہ اعلانات سے لگایا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ نہایت باریکی سے پاکستان کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائے اور طالبان سے دوری اختیار کرتا جائے، اور یہ آسان حکمت عملی ہے کہ پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ طالبان پر اثر انداز ہوں اور پاکستان انکار کرتا چلا جا رہا ہے۔ان حالات کی وجہ سے خطرہ ہے اور امریکی حکمت عملی بھی یہ ہے کہ طالبان کا  بل پر قابض ہوں اور پاکستان کے اندر ان کے حامی اور ہم خیال اسلامی جذبے کے ساتھ یہاں بھی ”کافر مسلمانوں“ کو ”مسلمان“ بنانے پر کمربستہ ہو جائیں اور داخلی انتشار بڑھ جائے۔کیا یہ خدشہ غلط ہے؟  اسی خطرے کی بنا پر قومی اتفاق رائے کی شاید ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -