پنجاب حکومت کے قیمتوں میں استحکام کے لئے مستحسن اقدامات (1)

پنجاب حکومت کے قیمتوں میں استحکام کے لئے مستحسن اقدامات (1)

اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی سطح پر معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی بنا پر پوری دنیا بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں عام آدمی کی زندگی بھی متاثر ہوئی اورروزمرہ کے استعمال کی اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ بھی ہوا۔ پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال نے عام آدمی کو متاثر کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی مہنگائی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ قیمتوں میں اضافہ اپنی جگہ لیکن پاکستان جسے گرین باسکٹ کہا جاتا ہے‘ وہاں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ بظاہر بلاجواز محسوس ہوتاہے۔ وطن عزیز کو قدرت نے بیش بہا وسائل سے نوازا ہے۔ زرخیز زمین‘ بہترین آبی وسائل ‘ چار موسم اور جفاکش کسان اس کی پہچان ہیں۔ اگر پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی زرعی شعبہ کی ترقی اور طلب و رسد کو متوازن رکھنے کے لئے موثر اقدامات کئے جاتے تو شاید عالمی سطح پر قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے جس طرح عام آدمی کو متاثرکیا ہے اس طرح دالوں‘ سبزیوں‘ پھلوں کی مد میں عام آدمی کو قیمتوں میں اضافے کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

پاکستان میں پیداہونے والی اجناس‘ پھلوں‘ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ اور اس ضمن میں کوئی بھی جامع نظام نہ ہونے کا وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے فوری نوٹس لیا اور صوبے کی پوری مشینری کو متحرک کر دیا۔ عوام کو معیاری اشیائے ضروریہ کی مقررہ اور مناسب نرخوں پر فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی متحرک قیادت میں اس ذمہ داری کو بطریق احسن نبھایا ہے۔ پنجاب میں جونہی ناجائز منافع خوروں‘ آڑھتیوں‘ ذخیرہ اندوزوں اور متعلقہ اداروں کی غفلت کی وجہ سے روزمرہ کے استعمال کی اشیاءمیں اضافہ ہوا تو شہبازشریف عام آدمی کے خلاف اس گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لئے متحرک ہوئے۔ انہوںنے عام آدمی کو اشیائے صرف کی مقررہ نرخ پر فراہمی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے۔ نہ صرف خود کئی کئی گھنٹے اجلاسوں کی صدارت کی بلکہ کابینہ کمیٹی بھی تشکیل دی۔ اراکین اسمبلی‘ انتظامیہ اور سیاسی کارکنوں کو متحرک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کے بروقت اقدامات اور کاوشوں کی بدولت آج نہ صرف قیمتوں میں استحکام آیا ہے بلکہ قیمتوں میں کمی کا رحجان بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے عوام کو اشیائے ضروریہ کی مناسب نرخوں پرفراہمی کے لئے کابینہ کمیٹی‘ صوبائی وزرائ‘ انتظامیہ‘ اراکین اسمبلی ‘ سیاسی کارکنوںکو پوری طرح فعال اور متحرک کیا۔ اراکین اسمبلی‘ صوبائی وزراءاور انتظامیہ کو پابند کیا کہ وہ صبح چار بجے منڈیوں میں پہنچیں اور اشیائے ضروریہ کی فروخت کے عمل کاذاتی طور پر جائزہ لیں۔ کابینہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ تمام اضلاع کے دورے کرے اور عام آدمی کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اپنے فرائض قومی جذبے کے ساتھ سرانجام دے۔ وزیراعلیٰ نے اس مقصد کے لئے کابینہ کمیٹی کو اپنا ہیلی کاپٹر اور جہاز بھی فراہم کیا تاکہ اسے دوروں کے دوران مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔صوبے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے لئے حکومتی اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے تا ہم شہباز شریف ابھی اس سے پوری طرح مطمئن نہ ہوئے۔ انہوں نے کابینہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ قیمتوں میں کمی کے لئے اپنا متحرک اور فعال کردار جاری رکھے- سبزی منڈیوں، مارکیٹوں اور بازاروںکے دورے کر کے قیمتوں کا جائزہ لیا جائے اور اشیاءضروریہ کے نرخوں کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھنے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں-اشیاءضروریہ کے نرخ مقرر کرنے میں کسی کو من مانی نہ کرنے دی جائے۔

قیمتوں میں استحکام کے ساتھ اجناس کی پیداوار میں اضافہ بھی کرنا ہو گا تا کہ مستقبل میں سبزیوں اور دالوں کی قلت پر قابو پایا جا سکے- عام آدمی کو ریلیف دینے کے لئے سبزیوں، پھلوں، دالوں اور دیگر اشیاءکی قیمتو ں میں کمی کے لئے تمام متعلقہ محکمے تندہی اور محنت سے کام کریں - انہوں نے کابینہ کمیٹی ، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ ہفتے میں تین اضلاع کے دورے کریں اور قیمتوں کو خود مانیٹر کریں- کابینہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ اشیاءضروریہ کی ضرورت کے مطابق وافر سپلائی کو یقینی بنائے اور ایماندار اور محنتی پرائس کنٹرول مجسٹریٹس تعینات کئے جائیں جو مارکیٹوں اور بازاروں کے دورے کر کے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کریں-انہوںنے ہدایت کی کہ مارکیٹوں اور بازاروں میںقیمتوں کی چیکنگ کے دوران پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے ساتھ متعلقہ پولیس کی موجودگی یقینی بنائی جائے-متعلقہ وزراءسستے بازاروں میں معیاری اشیاءکی فراہمی کے ذمہ دار ہوں گے اور اس حوالے سے رپورٹ بھی پیش کریں گے -

 انتظامی افسر منڈیوں میں اجناس کے نرخ مقررکرنے کے عمل کو مانیٹر کریں اور ناجائز منافع خوری کے سد باب کے لئے فی الفور ایکشن لیا جائے - منڈیوں میں کاشتکار کو اس کی فصل کا بہتر معاوضہ دینے کے لئے اجناس براہ راست فروخت کرنے کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے اور مڈل مین کا کردار ہر صورت ختم کیا جائے-ہفتے میں تین بار کمشنرز، آرپی اوز ، ڈی پی اوز ، ڈی سی اوز اددیگر افسران صبح چار بجے منڈیوں میں خود جا کر قیمتوں کا جائزہ لیں -اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے لئے وزیراعلی نے ایک اور اہم قدم اٹھایاکرپشن میں ملوث مارکیٹ کمیٹیوںکے چیئرمینوں کو فی الفور عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا‘ کرپٹ چیئرمینوں کے خلاف بلا امتیاز قانو ن کے مطابق کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلی نے مارکیٹ کمیٹیوں کو مزید فعال بنانے کے حوالے سے مجوزہ مسودہ قانون کو حتمی شکل دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کمیٹی اس ضمن میں مسودہ قانون کا جائزہ لے کر حتمی رپورٹ پیش کرے -وزیر اعلی نے کہا کہ محکمہ زراعت سبزیوں اور دالوں کی پیداوار میں اضافے اور کاشتکاروں کو سہولتیں دینے کے حوالے سے جامع پلان مرتب کر کے پیش کرے جو کہ مستقبل کی ضروریات کا مکمل احاطہ کرتا ہو-ٹنل فارمنگ کے منصوبے پر عملدرآمد کے لئے حکمت تیار کی جائے-

 محکمہ خوراک دالوں کی پورا سال مناسب نرخوں پروافر فراہمی کے لئے سٹاک ایکسچینج قائم کرنے کا جائزہ لے اور اس پر پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے کام کیا جائے تا کہ مستقبل میں دالوںکی قلت کے حوالے سے پیشگی اقدامات اٹھائے جا سکیں - آف سیزن میں سبزیوں اور پھلوں کی کاشت کا منصوبہ بھی تیار کیا جائے اور اس ضمن میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے-وزیر اعلی نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو ہدایت کی کہ مقرر کردہ نرخوں کے آن لائن اور مانیٹرنگ سسٹم کے ساتھ اشیاءضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے شہریوں میں آگہی پیدا کرنے کے لئے جامع نظام وضع کیا جائے اور قیمتوں کی چیکنگ کے حوالے سے عملے کی کارکردگی اور فیلڈ میں کام کرنے والے سٹاف کومانیٹر کرنے کے حوالے سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے- وزیر اعلی نے صوبے میں اوور چارجنگ کے مرتکب پٹرول پمپس کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو لوٹنے والے پٹرول پمپ مالکان کسی رعایت کے مستحق نہیںلہذااوورچارجنگ کرنے والے پٹرول پمپس کے خلاف قانون کے مطابق سخت ایکشن لیا جائے- انہوںنے واضح حکم دیا کہ ہر ضلع کے ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز پٹرول پمپس پر اوور چارجنگ روکنے کے ذمہ دار ہوں گے-(جاری ہے) ٭

عوام کو اشیائے ضروریہ کی سستے داموں فراہمی کے لئے صوبہ بھر میں ہفتے میں تین دن سستے بازار لگانے کا فیصلہ حکومت پنجاب کا ایک اور مستحسن اقدام ہے۔ صوبے بھر میں 142 سہولت بازار ہفتے میں تین دن لگائے جا رہے ہیں۔ ان بازاروں میں جہاں اشیائے ضروریہ کی سستے داموں فراہمی یقینی بنائی گئی ہے وہاں عوام کو 20کلو آٹے کا تھیلا ایکس مل ریٹ765روپے میں دستیاب ہے- محمد شہبازشریف کا یہ کہنا کہ عوام کو روزمرہ استعمال کی اشیاءکی مقررہ نرخوں پر فراہمی سے کوئی چیز اہم نہیں۔ انہوں نے اپنے اس قول پر عمل کرتے ہوئے عوام کو کھانے پینے کی چیزوں کی مناسب نرخوں پر فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے۔ قیمتوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے لئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور ہیلپ لائن کے قیام کی بھی ہدایت کی۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جدید فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے قیام کے لئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ عوام کو اشیائے ضروریہ کی مناسب نرخوں پر فراہمی کے ساتھ ساتھ ملاوٹ سے پاک اشیاءکی فراہمی بھی اتنی ہی ضروری ہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے پنجاب بھر میں کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ کرنے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاﺅن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ملاوٹ کا سدباب کرکے شہریوں کو حفظان صحت کے مطابق اشیائے خورد و نوش کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت اپنی یہ ذمہ داری نبھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی اور ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف قانون کو مزید مو¿ثر بنانے کیلئے سفارشات مرتب کی جائیں۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے کو ہدایت کی کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی متعلقہ اداروں کے تعاون سے ملاوٹ کرنے والے عناصر کے خلاف بغیر کسی دباﺅ کے کارروائی عمل میں لائے اور ملاوٹ کے خلاف مہم کو کامیاب بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں کیونکہ کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ کے باعث نہ صرف صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ کئی موذی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ فوڈ اتھارٹی کا دائرہ کار صوبے کے دیگر اضلاع تک مرحلہ وار بڑھایا جا رہا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ فوڈ اتھارٹی کے عملے کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے۔ اشیائے خورد و نوش کی حفظان صحت کے اصولو ںکے مطابق فروخت کو یقینی بنانے کے ساتھ ان کے ناپ تول کے نظام کو مو¿ثر طریقے سے لاگو کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اس ضمن میں اوزان پیمائش و ناپ تول پر کڑی نظر رکھی جائے ۔ اشیاءکے ناپ تول کے نظام کو مزید فعال بنانے کیلئے علیحدہ اتھارٹی کے قیام کا جائزہ لیا جائے اور اشیاءکی قیمتوں میں استحکام اور طلب و رسد کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

    پنجاب پورے پاکستان کیلئے گرین باسکٹ ہے اور زرعی اجناس کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے صوبہ پنجاب کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے سبزیوں اور دالوں کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اشیائے ضروریہ، سبزیوں اور دالوں کی پیداوار میں اضافے اور قیمتوں میں استحکام کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریں۔ سبزیوں اور دالوں کی سپلائی اور ڈیمانڈ کے حوالے سے شارٹ ٹرم، میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم حکمت عملی اپنائی جائے اور اس ضمن میں متعلقہ محکمے اہداف مقرر کرکے انہیں ہر صورت حاصل کریں تاکہ نہ صرف سبزیوں اور دالوں کے زیرکاشت رقبے میں اضافہ ہوسکے بلکہ پیداوار بھی بڑھائی جاسکے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو عام آدمی کی دسترس میں رکھنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ سبزیوں اور دالوں کے ساتھ گوشت، چکن، بیف، دودھ اور انڈوں کی قیمتوں میں استحکام کیلئے مو¿ثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ مقرر کردہ اہداف کے حصول کیلئے متعلقہ وزراءاور سیکرٹریز اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ سبزیوں اور دالوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے کلسٹر سینٹر قائم کرے اور کچن گارڈننگ کو دیہی علاقوں تک فروغ دے۔ نرسریوں میں سبزیوں کی کاشت کے پروگرام کو آﺅٹ سورس کیا جائے اور لاہور کے سرحدی علاقوں میں سبزیاں اگانے کیلئے اراضی کی نشاندہی کا عمل جلد مکمل کیا جائے، اس پروگرام پر عملدرآمد سے سبزیوں کی کاشت میں اضافہ ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ سبزیوں اور دالوں کے بیجوں کی کوالٹی کو بہتر بنانے کیلئے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے کام پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے بلکہ کاشتکاروں کی حالت کو بھی بہتر بنایا جا سکتاہے۔ دالوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے کاشتکاروں کو سبسڈیزائڈ نرخوں پر اعلیٰ کوالٹی کے بیج فراہم کئے جائیں۔ سبزیوں اور دالوں کی کاشت کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں سٹار فارمنگ کے جدید ماڈل کا جائزہ لیا جائے۔ سبزیوں کو مناسب طریقے سے سٹور کرنے کیلئے کولڈ سٹوریج کی سہولت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور نئے کولڈ سٹوریج کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب میں سبزیوں اور دالوں کے حوالے سے ملکی ضروریات پوری کرنے کے بعد برآمد کرنے کا پلان مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ کاشتکاروں کو ان کی اجناس کے بہتر معاوضہ کی ادائیگی یقینی بنائی جاسکے۔ انہوں نے گندم کے ذخائر کو محفوظ طریقے سے سٹور کرنے کیلئے سائلوز کی تعمیر میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ گندم کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے سائلوز کی تعمیر کیلئے فی الفور عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ سائلوز کی تعمیر سے نہ صرف اربوں روپے کی گندم کے ذخائر مناسب طریقے سے محفوظ کرنے میں مدد ملے گی بلکہ گندم کو ضائع ہونے سے بھی بچایا جاسکے گا۔بلاشبہ حکومت کے بروقت اقدام کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے اور عوام کو ریلیف ملا ہے۔ تاہم قیمتوں میں استحکام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہنے چاہئیں ۔ تاہم عام آدمی کی سہولت اور اشیائے صرف کی قیمتوں کو اس کی دسترس میں رکھنے کے لئے مستقل بنیادوں پر ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس کے تحت کوئی ذخیرہ اندوز ناجائز منافع خوری نہ کر سکے۔

مزید : کالم