عبد القادر مُلّا کی شہادت :پاکستان کے جاں نثاروں کا سفر ختم نہیں ہوا! جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

عبد القادر مُلّا کی شہادت :پاکستان کے جاں نثاروں کا سفر ختم نہیں ہوا! جس دھج ...

البدر اور الشمس سے شروع ہونے والی داستان عظیمت 42سال بعد بھی جاری و ساری ہے ۔پاکستان پر جوانیاں لٹانے والوں کے بوڑھے باپ بھی اپنے بیٹوں سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے ۔جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے 65سالہ رہنماءعبدالقادر ملا سپریم کورٹ سے نظر ثانی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد پاکستان کے ساتھ وفا کے جرم میں پھانسی پر جھول گئے ۔آخری وقت پر کچھ خیرخواہ چاہتے تھے کہ عبدالقادر ملا کی پھانسی پر صدر سے رحم کی اپیل کی جائے لیکن انہوں نے سختی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں تو جوانی سے شہادت کی دعائیں مانگ رہا ہوں اب میرے مالک نے اگر بڑھاپے میں میری دعائیں قبول کرلی ہیں تو میں شہادت کی موت سے کیوں منہ پھیرلوں۔

ان پر حسینہ واجد حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے 71ءمیں” تحریک آزادی “کی مخالفت کی اور پاکستان کا ساتھ دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے ساتھ مل کرتین سو کے قریب آزادی کے مجاہدوں کا قتل عام کیا ۔عبدالقادر ملا پر چھ الزامات لگائے گئے جن میں سے پانچ الزامات ”ثابت“ہونے پر وار ٹربیونل نے فیصلہ دیا کہ انہیں فوری طور پرپھانسی دی جائے ۔حسینہ واجد چاہتی تھی کہ 16دسمبر جو بنگلہ دیش کا یوم آزادی ہے اس سے قبل ہر صورت جماعت اسلامی کے کسی بڑے راہنماءکو پھانسی دیکر بھارت کو یہ پیغام دیا جائے کہ بنگلہ دیش بھارتی کالونی ہے اور بھارت کے مخالفین کیلئے یہاں کوئی جگہ نہیں ۔2010ءمیں حسینہ واجد حکومت کی طرف سے بنائے گئے نام نہاد وار کرائم ٹربیونل کا اصل مقصد حسینہ واجد حکومت کے لڑکھڑاتے قدموں اور اقتدار پر کمزور ہوتی گرفت کو مضبوط کرنا تھا ۔دنیا بھر کے انسانی حقوق کے تحفظ اور انصاف کے اداروں نے ان ٹربیونلز کو خلاف آئین ،کینگرو کورٹس اور نظام عدل پر ایک دھبہ قرار دیکر مسترد کردیا تھا ۔

ان اداروں نے واضح کیا تھا کہ یہ جنگی جرائم ٹربیونلز کسی طرح بھی عدل و انصاف کے عالمی معیار پر پورا نہیں اترتے اور ان کو بنانے کا مقصد حکومت کے مخالفین کو ہراساں کرنا اور ان پر دباﺅ ڈالنا ہے ۔مگر افسوس کہ 65سالہ معروف اور ہردلعزیز اسلامی راہنماءکو تختہ دار پر لٹکادیا گیا اور دنیا بھر کے انصاف پسند خاموشی سے اس عدالتی قتل کو دیکھتے رہے ،خود کو انسانی حقوق کا عالمی چیمپئین کہنے اور انصاف کی بالادستی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے امریکہ کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ بنگلہ دیشی حکومت کو اس صریح جرم اور لاقانونیت سے باز رکھنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے ۔امریکہ خاموش تماشائی بنا رہا ۔ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان اور سوڈان کی حکومت کے سوا کسی طرف سے عبدالقاد رملا کی پھانسی کے خلاف کوئی توانا آواز سنائی نہیں دی ۔جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے راہنماﺅں کی سزاﺅں پر سب سے افسوسناک رویہ پاکستانی حکمرانوں کا رہا ،جنہوں نے بنگلہ دیش کو اپنا اسلامی ملک قرار دیتے ہوئے اس کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے اور بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کے جرم میں سزائیں پانے والوں سے لاتعلقی کا اعلان کرکے ثابت کردیا کہ انہیں اسلامی اخوت ،بھائی چارے سے کوئی غرض نہیں اوروہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ”انما المومنون اخوة“ علامہ اقبال کے اس شعر :

اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں

تو ہندوستاں کا ہر پیر و جواں بے تاب ہوجائے

کا مطلب فراموش کربیٹھے ہیں ۔حکومت پاکستان کو چاہئے تھا کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد اس وقت کے پاکستانی صدر ذوالفقار علی بھٹو اور بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمن کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کیلئے عالمی ادارہ انصاف سے رجوع کرتی اور پاکستانی فوج پر لگائے جانے والے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے فوج کی مدد کرنے والوں کو بنگلہ دیشی حکومت کے ظلم و جبر سے بچانے کی کوشش کرتی لیکن پاکستان کی محبت میں سر کٹوانے والوں کو پاکستانی حکمرانوں کی بے حسی اور بے حمیتی کا درست اندازہ نہیں تھا ۔بنگلہ دیش میں جو قتل و غارت گری اور لاقانونیت کا کھیل کھیلا جارہا ہے واقفان حال کا کہنا ہے کہ اس کی سرپرستی بھی بھارت کررہا ہے ۔بھارت اسلام پسندوں کو چن چن کر قتل کروا رہا ہے ۔بھارتی سرکار بنگلہ دیش پر مکمل اختیار حاصل کرنے کیلئے اپنے مخالفین کو ختم کررہی ہے ۔امریکہ خطے میں بھارت کی بالادستی چاہتا ہے اور بھارت کی سرپرستی کرکے اسے علاقے کا تھانیدار بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔بھارت کو افغانستان میں اہم کردار دینے کے پیچھے بھی امریکہ کی یہی خواہش کارفرما ہے ۔

بنگلا دیش میں 18جماعتی اتحاد بھارتی آلہ کار حسینہ واجد کے خلاف عوام کے اندر بے مثال مقبولیت حاصل کرچکا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ جنوری 2014میں ہونے والے انتخابات میں حسینہ واجد کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑے گاجس کے نتیجے میں بھارت سے ہمدردی رکھنے والوں کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ پاکستانی حکومت عوام کی شدید مخالفت اور سخت احتجاج کے باوجود صرف امریکی دباﺅ پر بھارت سے پیار کی پینگیں بڑھا رہی ہے ،جونہی خطے سے امریکہ اپنا بوریا بستر سمیٹے گا پاکستانی حکومت کو عوام کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑیں گے اور عوام لاکھوں مسلمانوں کے قاتل اور اپنے ازلی دشمن بھارت کی بالا دستی کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ اس لئے کہا جارہا ہے کہ ملاعبدالقادر کا عدالتی قتل ناصرف بنگلہ دیش بلکہ پاکستان میں اسلامی تحریک کیلئے تقویت کا باعث بنے گا اور اسلامی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اسلام کے شجر سایہ دار کو ہمیشہ مجاہدین نے اپنے خون سے سیراب کیا ہے ،شہادتوں سے غلبہ اسلام کی تحریکوں نے ہمیشہ قوت حاصل کی ہے ۔      ٭

مزید : کالم